حیدرآباد و اطراف

کورونا وبا نے معیشت کی کمر اور دلوں کے غرور کو توڑ دیا

حیدرآباد: 6؍جولائی (پریس ریلیز) آج سے چھ ماہ قبل کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ عالمگیر پیمانہ پر اس قدر تبدیلی آئے گی کہ اعلیٰ واولیٰ طبقہ، اوسط و درمیانی طبقہ اور ادنیٰ و غریب طبقہ ، غرض ہر طبقہ اس مصنوعی یا قدرتی مرض کی زد میں آئے گا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کی دولت اور معیشت کے استحکام نے بہت سوں کو نشہ میں مدہوش رکھا تھا اور اس نشہ نے اپنی حقیقت اور اپنی بے بسی کے احساس سے بھی محروم کردیا تھا۔ مگر حالات اس قدر پلٹ کھائے اور اس کورونا وبائی مرض نے معیشت کی ایسی کمر توڑی اور دلوں کے غرور کو اس قدر زبردست انداز میں توڑا کہ دنیائے انسانیت عش عش کرنے پر مجبور ہوگئی۔ قرآنِ مجید نے دیڑھ ہزار سال قبل ہی ہمیں آگاہ کردیا تھا تلک الایام نداولھا بین الناس (آل عمران: 140) ہم ان دنوں کو لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار منبر و محراب فاؤنڈیشن کے بانی و محرک مولانا غیاث احمد رشادی نے کیا اور اس احساس کا اظہار کیا کہ رب ذوالجلال کی عظمت کا احساس ان حالات میں ہوتا ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا وہ پیارا اور حقیقت بھرا قول یاد آتا ہے کہ عرفت ربی بفسخ العزائم میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے پر پہچانا ۔ کتنے انسانی منصوبے اس وبائی مرض کی وجہ سے بھسم ہوگئے؟ کتنے لوگوں کے بڑے بڑے پروجیکٹس ملیامیٹ ہوگئے؟ کتنے لوگوں کی شادیوں اور ولیموں میں اسراف و فضول خرچی کے بڑے بڑے ارادے بکھر گئے اور آج وہ صرف پچاس آدمیوں کی دعوت پر اکتفاء کرنے پر مجبور ہوگئے ؟ کتنے انسانوں کا گھمنڈ اور فخر و غرور ٹوٹ گیا ؟ کتنوں کے پیروں تلے زمین کھسک گئی ؟ کتنوں کا پتہ پانی ہوگیا اور کمر پتلی ہوگئی ؟ کتنوں کو اپنی چھٹی کا دودھ یاد آگیا ؟ کتنوں کو جو فضاؤں کی بلندیوں پر بلا وجہ کھڑے ہوئے تھے زمین پر لا کھڑا کردیا ؟ کتنوں کی جھوٹی شانیں کافور ہوگئیں ؟ حقیقت یہی ہے کہ کورونا وبائی مرض نے انسانیت کو بھولا ہوا سبق یاد دلادیا ۔مولانا رشادی نے مزید فرمایا کہ اب وقت آچکا ہے کہ پرانے فرسودہ بے حقیقت فلسفوں کو دفن کردیا جائے اور اسلام کی ان تعلیمات کو عملی زندگیوں میں لایا جائے اور اس پیارے اور محبوب نبی ﷺ کی تعلیمات اور ان کی سنتوں کو زندہ کیا جائے جن سنتوں کے نور سے زندگیوں میں انقلاب پیدا ہوجائے اور زندگی کی قدیم روٹن میں تبدیلی لائی جائے اور اپنی بصیرت اور فہم و ذکاء کے استعمال کرنے اور اپنے ہدف کی تعیین کا زرین موقع ہے ۔شاعر کا یہ شعر ایک سماں باندھتا ہے ؎
جلال آتش برق و سحاب پیدا کر
اجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کر

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×