آئینۂ دکن

جنوبی ہند کی بافیض دینی درسگاہ ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد؛ تعارف‘ خدمات اور گزارشات

حیدرآباد: 5؍مئی (عصر حاضر) دینی مدارس کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ اسلام کی ‘ عہد نبویﷺ کے ’’صفہ چبوترہ‘‘ سے لیکر عہد حاضر تک دینی مدارس اپنے مخصوص انداز میں آزاد چلے آرہے ہیں‘ دینی مدارس کا اپنا ایک مخصوص نصاب ہےجو انتہائی پاکیزہ اور نورانی ماحول میں پڑھایا جاتا ہے‘ جس میں مستند عالمِ دین کا مقام حاصل کرنے کے لیے عربی و فارسی‘صرف و نحو‘قرآن و حدیث‘ تفسیر‘ فقہ و اصولِ فقہ‘ معانی و ادب ‘ منطق و فلسفہ جیسے ضروری علوم کا ایک مکمل نصاب پڑھنے کے بعد وہ عالمِ دین کے منصب پر فائز ہوتا ہے‘ ان دینی مدارس کا وصفِ امتیاز دورِ نبویﷺ ہی سے کسی خصوصی یا پائیدار نظام مالیہ کے بجائے عوامی اور عمومی تعاون پر منحصر ہے۔
چنانچہ اسلام کا سب سے پہلا مدرسہ’’صفہ‘‘ پر قال الله اور قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والے معلمین کا بھی نبی ﷺنے عمومی هدایا و تحائف سے تعاون کرکے انہیں پروان چڑھایا‘ دینی مدارس کی یہی وہ اصل روح ہے جس کے تعلق سےشاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا تھا’’ان مدرسوں کو اسی حالتمیں رہنے دو‘غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہی مدارس میں پڑھنے دو ‘ اگر یہ درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟جو کچھ ہوگا میں انہیں اپنی آنکھوںسے دیکھ آیا ہوں‘ اگر ہندوستانی مسلمان ان مدارس سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے سواء اسلام کے پیرؤں اور اسلامی تہذیب کے کوئی آثار نہیں ملتے۔
دینی مدارس جہاں اسلام کے قلعے‘ ہدایت کے سرچشمے دین کی پناگاہیں اور اشاعتِ دین کا بہت بڑا ذریعہ ہیں ‘ وہیں یہ حقیقی طور پردنیا کے سب سے بڑے’’این جی اوز‘‘ بھی ہیں جو لاکھوں طلبہ و طالبات کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ کو ان کو رہائش و خوراک بھی فراہم کرتے ہیں۔ ان دینی مدارس نے ہر دور میں تمام تر مشکلات ‘پابندیوں اور مخالفتوں کے باوجود کسی نہ کسی صورت و شکل میں اپنا وجود اور مقام برقرار رکھتے ہوئے اسلام کے تحفظ اور اس کی بقاء میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ سب کچھ دینی بہی خواہوں اور عوام الناس کے تعاون سے ممکن ہوسکا ہے۔
انہی مدارس دینیہ میں جنوبی ہند کی ایک بافیض دینی ‘تعلیمی ‘اصلاحی ‘عظیم درسگاہ ’’ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد‘‘ہے جس کا آج سے 35؍سال قبل الله کے فضل سے اکابر کی رہنمائی ‘ سرپرستی اور ہمت افزائی کے ذریعہ تین طلباء اور بیس روپیہ کے تعاون سے ریاست تلنگانہ کے مشہور اور معروف عالمِ دین‘ قوم و ملت کے ہمدرد عارف بالله حضرت مولانا محمد عبدالقوی صاحب مدظلہ کی سعی سے قیام عمل میں آیا تھا‘ اور اب یہ ادارہ ایک ہزار سے زائد طلبہ اور دو کروڑ سے زائد بجٹ کے ساتھ قوم و ملت کی خدمت میں مشغول ہے۔ ادارہ نے اپنے قیام کی 35؍سالہ مدت میں ملت کو 1034حفاظ کرام‘ 752فارغین عالمیت‘ 137 مفتیانِ کرام‘ 672؍مدرسین‘ 38؍فارغین عالمیت مع گریجویشن اور 47؍فارغین SSCفراهم کیے ہیں۔نیز توفیق الہی سے ملک کے اہلِ علم کی نظر میں تعلیم و تربیت کے اعتبار سے نمایاں مقام رکھتاہے۔ تعلیم و تربیت کے علاوہ دینی تبلیغی و اصلاحی مساعی کا ایک مستقل سلسلہ قائم ہے۔ جس میں اردو ماہنامہ ’’اشرف الجرائد،، اور تلگو ماہنامہ ’’پیغامِ ہدایت،، کی پابندی سے اشاعت بھی شامل ہے۔
یہاں یہ تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ادارہ کا نظام شورائی ہے کسی ایک فردپر منحصر نہیں ہے اور املاک و اموال خالصتا ’’وقف للہ،،اور ٹرسٹ کے مقاصد کے مطابق صرف قوم و ملت کے مفاد میں قابلِ استعمال ہیں۔ ایک گیارہ رکنی مجلس متولیان (ٹرسٹیز)ہے‘ وہی انتظامیہ کی سفارشات کو غور و خوض کے بعد منظوری دیتی ہےنیز حساب و کتاب سرکاری قواعد کے مطابق مرتب اور ہر سال باضابطہ آڈٹ کروائے جاتے ہیں۔
ادارہ نے دیہی مسلمانوں کے دین و ایمان کی بقاء و ارتقاء کی غرض سے ریاست کے چند ایک اضلاع میں مکاتب دینیہ اور مساجد کا قیام بھی عمل میں لایا ہے۔ اس کے لیے ضلع سنگاریڈی کے مستقر نارائن کھیڑ میں ایک مرکزی مدرسہ بنام’’ادارہ امداد العلوم،، قائم کیا جس کے تحت اطراف واکناف کے چھوٹے چھوٹے 40؍قریوں میں مکاتب قائم کیے گئے۔ مرکزی مدرسہ میں 180؍طلبہ قیام و طعام کی سہولت کے ساتھ اپنا علمی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں اور مکاتب میں تقریبا 400؍طلبہ اسلامی تعلیم و تربیت کے ساتھ پروان چڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح ضلع نظام آباد کے مستقر نوی پیٹ میں ’’ ادارہ احسن المدارس ،، میں 90؍طلبہ بورڈنگ میں رہ کر دینی علوم سے آراستہ و پیراستہ ہورہے ہیں اور ضلع بھونگیر کے مستقر گٹھکیسر میں ’’ادارہ حسیب المدارس،، میں اقامتی طور پر 35؍طلباء اور اطراف کے دیہاتوں میں تقریبا 200؍طلبہ و طالبات مکتب کی شکل میں علوم دینیہ کے حصول میں مصروف عمل ہیں۔ اس کے علاوہ اہلِ خیر حضرات کے تعاون سے ادارہ کے تحت اب تک 11؍مساجد تعمیر کی گئیں جس میں با تنخواہ امام و مؤذن تبلیغ دین کے امور انجام دے رہے ہیں۔

اغراض و مقاصد
1۔ملت کے نو نہالوں کے لیے با تجوید قرآن مجید کی تعلیم اور عملی تربیت کے مراکز قائم کرنا۔
2۔ اچھی استعداد اور بہتر قابلیت و صلاحیت کے حامل علماء کرام تیار کرنے کے لیے مستحکم عربی تعلیم (عالم کورس)کا انتظام کرنا۔
3۔ اسلامی ماحول اور ضروری دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کے لیے اسکولز قائم کرنا۔
4۔ اصلاحی بیانات اور لٹریچر کے ذریعہ اصلاحِ معاشرہ اور تبلیغِ دین کا انتظام کرنا۔
5۔ جو حفاظ عالم نہیں بن سکتے ان کو اُردو کے جامع نصاب کے ذریعہ امامت اور دیگر خدمات کے لائق بنانا۔
6۔باتجوید تعلیم قرآن کو عام کرنے کے لیے مدرسین کی تربیت کا انتظام کرنا۔
7۔جو طلبہ ذہنی اعتبار سے کمزور ہوں‘ ان کے لیے اسلامی ماحول اور اخلاقی تربیت کے ساتھ صنعت و حرفت سے آراستہ کرنا۔
8۔ ان امور کی تکمیل کے واسطے جائز حدود اور مناسب طریقوں سے فراہمی سرمایہ کا بندو بست کرنا۔
نوٹ 5 :اور 7 وسائل کی قلت کی بناء اب تک قائم نہ ہوسکے بقیہ کام بفضلہ تعالی مناسب طریقے سے انجام پارہے ہیں۔

شعبہ جات
ادارہ میں بفضلہ تعالی 7؍تعلیمی اور 2؍انتظامی شعبے قائم ہیں۔ جن کے لیے 89؍اساتذۂ کرام اور 31؍منتظمین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ ان شعبوں سے 1150؍طلبہ کرام مستفید ہورہے ہیں۔
شعبہ تصحیح: اس شعبے کے ذریعہ تدریس کے خواہش مند حفاظِ کرام یا غیر حفاظ کو با تجوید تدریس قرآن کی مشق کراکے باقاعدہ سند جاری کی جاتی ہے۔اس شعبہ میں 15؍طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
شعبہ حفظ و ناظرہ:اس کے تحت شعبہ حفظ ‘شعبہ ناظرہ و قاعدہ کی باتجوید تعلیم دی جاتی ہے۔اس شعبہ میں 479؍طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
شعبہ عالمیت:اس کے تحت 9؍سالہ شعبہ عالمیت اعدادیہ تا دورۂ حدیث قائم ہے‘ جس سے 412؍طلبہ استفادہ کررہے ہیں۔
شعبہ تخصصات: اس شعبہ کے تحت علومِ دینیہ سے فارغ التحصیل طلبہ کو فقہ اسلامی اور اصولِ فتوی میں اختصاص کے ساتھ ساتھ دعوتِ دین کے بنیادی اصولوں اور نفسیاتی تقاضوں سے واقف کرایا جاتا ہے‘ جس میں 15؍طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
شعبہ اتحاد العلوم : اس کے تحت ایس ایس سی کامیاب طلبہ کو انٹر میڈیٹ اور ڈگری کی تعلیم کے ساتھ پانچ سالہ مکمل عالم کورس کرانے کا اہتمام ہوتا ہے‘ اس میں 95؍طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
شعبہ دینی مکاتب: اس شعبہ کے تحت دیہی مسلمانوں میں اسلامی شعور بیدار کرنے اور ان کی نسلوں میں اسلامی تعلیم و تربیت کو پروان چڑھانے کے لیے مختلف دیہاتوں میں مکاتب اور مساجد کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے نارائن کھیڑ اور نوی پیٹ میں اقامتی ادارے قائم میں تاکہ مرکزیت رہے۔ اب تک الحمدلله اہلِ خیرحضرات کے تعاون سے 11؍مساجد تعمیر کی گئیں اور 40؍مکاتب قائم کیے گئے۔
شعبہ عصری علوم: (اشرف ماڈل اسکول )اس کے تحت علوم عصریہ مع دینی تعلیم (انگلش میڈیم)نرسری تا دسویں کلاس قائم ہے‘ اس میں 134؍طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔
شعبہ نشر و اشاعت: اس شعبہ کے تحت دینِ اسلام کی دعوت و تبلیغ کے لیے حسبِ ضرورت مضامین‘لٹریچر اور چارٹس مختلف زبانوں میں شائع کرکے منظر عام پر لائے جاتے ہیں۔ ماہنامہ اشرف الجرائد (اردو)ماہنامہ پیغام ہدایت (تلگو)الحمدلله پابندی کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔

اپیل
یہاں کے فضلاء ریاست اور بیرونِ ریاست میں علومِ دینیہ کی اشاعت اور ثقافتِ اسلامیہ کی حفاظت کی غرض سے دسیوں مدارسِ اسلامیہ اور ملی ادارے قائم کرچکے ہیں‘ مختلف دینی موضوعات پر تقریری اور تحریری میدانوں میں جہد مسلسل اور عزم پیہم کے ساتھ کام میں لگے ہوئے ہیں۔ ادارہ اپنے اکابر کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حکومتوں اور متمول احباب کے مخصوص تعاون پر تکیہ کرنے کے بجائے عامۃ المسلمین کی عمومی امداد و اعانت پر ہی انحصار کرتا ہے۔
عصر حاضر کی گرانی اور ملک کے مخصوص حالات کے پیش نظرادارہ کی آمدنی کا متأثر ہونا ناگزیر امر ہے‘ اس صورت حال میں بہی خواہانِ امت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تمام دینی مدارس کے ساتھ ساتھ اس مدرسہ کو بھی اپنے تعاون میں شامل رکھیں؛ تاکہ ادارہ حسبِ سابق اپنی محنتوں کو جاری رکھ سکے۔
تعاون کی شکلیں:
ایک طالبِ علم کی تعلیمی و خوراکی فیس جو سالانہ 24؍ہزار روپیے ہے۔
تعمیری پروگراموں میں حصہ لیکر۔
زکوۃ ‘صدقات اور عمومی عطیات کے ذریعہ۔
خود کچھ نہیں کرسکتے تو کسی فاعل خیر کو توجہ دلاکر
بہر صورت حق تعالی شانہ سے ان کاموں اور ملت کے دیگر تمام کاموں کے بہ سہولت و بہ حسن و خوبی انجام پانے کی دلی دعاؤں کے ذریعہ ! کہ یہی ہمارا سب سے بڑا اور مؤثر سرمایہ ہے‘ جس کی بہ دولت ہمارا کام بفضلہ تعالی چل رہا ہے۔
رابطے کے لیے: فون نمبر 24551251, 24556487, 24070681, 9848623931
ترسیلِ زر کے لیے:A/C No. 8627201410000449 Bank of india, IFSC Code: BKID0008627

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×