حیدرآباد و اطراف

مدارس اسلامیہ کا تعاون وقت کا اہم تقاضہ

مولانا محمد رحیم الدین انصاری ناظم جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد اور مولانا محمد حسام الدین ثانی مہتمم جامعہ کی مشترکہ اپیل

حیدرآباد: 25؍اپریل (عصر حاضر) اس پر فتن دور میں مدارس اسلامیہ اپنے راحت بخش سایوں اورروح پر ور پھلوں سے پوری دنیا کو مستفید کررہاہے ، مدارس اسلامیہ سے حافظ ، عالم ،مفسر ، محدث ، فقیہ ، محقق ، مدقق ، متکلم ، اورمقر رتیا ر ہوتے ہیں جو شرعی تعلیمات وہدایا ت کو مضبو طی سے تھامے ہوتے ہیں، دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل کر دین حق کی صدا بلند کرتے ہیں ،دشمنان اسلام کی طرف سے پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا دندان شکن جواب دیتے ہیں ، اسلام کے خلاف ہرزہ سرائیوں اورریشہ دوانیوں کامسکت جواب دیتے ہیں،اسلام دشمن عناصرکی طرف سے جومسلسل دینی ،فکری اورتہذیبی یلغارہوتی ہے اس کے لئے مدارس اورمدارس کے فارغ شدہ علماء سیسہ پلائی ہوئی دیوارثابت ہوتے ہیں، امت کوپیش آمدہ نت نئے مسائل کاقرآن وسنت کی روشنی میں حل پیش کرتے ہیں،غیرمسلموںکے سامنے اسلام کے محاسن اوراس کی خوبیوںکودلنشیںاوراچھوتے اسلوب میں اجاگرکرتے ہیں،گم گشتہ گان راہ کواپنے مواعظ ونصائح سے راہ راست پرلانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں،نونہالان قوم کودینی تعلیم سے آراستہ کرنے کی مسلسل سعی کرتے ہیں،تمام اصلاحی،نظریاتی اوررفاہی تحریکوں کے لئے یہی مدارس اسلامیہ صالح کھیپ فراہم کرتے ہیں،قرآن وحدیث اوراسلامی علوم وفنون سے معاشرے کومربوط رکھنے کے پیچھے مدارس اسلامیہ اور وہاں سے تیار ہونے والے فضلاء کرام کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔
یہ مدارس کی ہی تعلیم وتربیت کانتیجہ ہے کہ دنیابھرکی مساجداورعبادت گاہیں آبادہیں،جہاںحقیراورقلیل تنخواہ پرائمہ اورموذنین اپنی بے لوث خدمات انجام دیتے ہیں،اقامت صلاۃ –جواسلام کابنیادی رکن ہے،اورجو اس کائنات ارضی میں تمام برکتوں اوربھلائیوں کاسرچشمہ ہے — کے فریضہ کی ادائیگی انہی خدمت گزاروں کی مرہون منت ہے،آج ہمارے ملک میں شہر شہر ، قریہ قریہ مکاتب کاجومضبوط اورمستحکم نظام ہے،اورجن کی وجہ سے بحمداللہ عام مسلمانوںمیںناظرہ ٔ قرآن کی درستگی اوردین کی ابتدائی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کا جومزاج پیداہواہے اس کاسہرابھی بلاشبہ دینی مدارس کوہی جاتاہے،مدارس سے وہ صالح کھیپ تیارہوتی ہے جونہ صرف مسلمانوںکے ؛بلکہ پوری انسانیت کے سچے خیرخواہ اورحقیقی دوست ہوتے ہیں،اوردونوںجہاںمیںاس کی فلاح وکامیابی کے آرزومندہوتے ہیں۔
اندازہ لگائیے کہ اگرمدارس نہ ہوتے یامدارس اپناقابل قدرکردارادانہیںکرتے توکتناناقابل تلافی نقصان ہوتا؟اورمعاشرہ میںکیساخلاپیداہوجاتا؟اورہماراسماج کتنے فیوض وبرکات سے محروم ہوجاتا؟خیروفلاح کے سوتے خشک ہوجاتے،اسلامی تہذیب وثقافت کے نقوش مٹ جاتے،قرآن وسنت کے روح پرورزمزموں سے یہ کائنات خالی ہوجاتی ،مسلمانوںسے دینی غیرت وحمیت رخصت ہوجاتی،خالق ومخلوق کے مابین تعلق وارتباط کمزورپڑجاتا،دین سے وابستگی کاصالح جذبہ سردپڑجاتا،ایمان ویقین کی بنیادیں متزلزل ہو جاتیں،الحاداوربددینی کی راہیںہموارہوجاتیں،بھولے بھالے اورسادہ لوح مسلمان مفسدوںاورفتنہ پردازوں کے لئے لقمۂ ترثابت ہوتے،اس لئے ہمارے برصغیرمیں مدارس دینیہ کاوجودنعمت عظمی سے کم نہیں،اس پرہمیں اللہ کالاکھ لاکھ شکر بجالانا چاہیے ۔
آج کے اس دورانحطاط میںبھی بحمداللہ دینی مدارس اپناکرداربحسن وخوبی اداکررہے ہیں،اورمعاشرے کی تعمیروترقی میںہمہ تن مصروف ہیں،مدارس کی زریںخدمات اوراس کے عبقری کارناموں سے آج ایک جہاںمستفیداورفیض یاب ہورہاہے، ظاہرہے کہ مدارس کے یہ فلک پیما اور ہمہ گیرمقاصداسی وقت پورے ہوسکتے ہیں جب کہ اسے حکومت کی دست بردسے محفوظ رکھا جائے،اورحکومت کی طرف سے کسی قسم کامالی تعاون قبول کرنے سے گریزکیاجائے؛اسی وجہ سے زمانہ کے نبض شناس اکابر ، اور مخلص علماء کرام نے یہ جرات مندانہ فیصلہ کیاکہ مدارس کے اخراجات کی ذمہ داری عام مسلمانوں کے سرپرڈالی جائے،اورمدارس کی جملہ ضروریات مسلمانوں کے زکاۃ وصدقات وعطیا ت سے پوری کی جائیں،بحمداللہ برصغیرہندوپاک اوربنگلہ دیش کے مدارس ہمارے اسلاف اوراکابرکی نہج پرقائم ہیں،اوربرصغیرکے سارے مدارس دین دار،غیرت مندمسلمانوں کی مالی امدادسے چل رہے ہیں،اوراس کی ساری ضروریات اصحاب خیرحضرات کے فراخ دلانہ تعاون سے پوری ہوتی ہیں۔
ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم مدارس دینیہ کی اہمیت وافادیت کوسمجھیں،اوراس کی خدمات اورکارناموںکااعتراف کریں، آج جب کہ کورونا وائرس اورلاک ڈاؤن کی وجہ سے زندگی تھم سی گئی ہے،اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد روزی روٹی تک کی محتاج ہوگئی ہے،ایسے پریشان کن حالات میں جیسے ہم ان کا تعاون کررہے ہیں اور اس طرح کے ہنگامی حالات میں ان کا تعاون کرنا ہمارا شرعی اور دینی فریضہ بھی بنتا ہے،ہم مدارس کو بھی فراموش نہ کریں،اس کے مالی اوراقتصادی شعبہ کو مضبوط اورمستحکم بنائیں،تمام اصحاب ِخیر اور بہی خواہوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس نازک موقع پر مدارس اسلامیہ کا خیال رکھیں،اپنی ذاتی ضروریات پرمدارس کی ضروریات کومقدم رکھیں، اور زکاۃ، صدقات اورعطیات کے ذریعہ مدارس کافراخ دلانہ تعاون کریں؛تاکہ مدارس اپنی سرگرمیوں کو بحسن وخوبی جاری رکھ سکیں،اورترقی وکامیابی کی شاہ راہ پرمحوسفررہیں،کہیں ایسانہ ہوکہ ہم عسرت وتنگی کے زمانہ میںمدارس کوبھول جائیں،اوراس سے مجرمانہ غفلت برتنے لگیں،کیوں کہ ایسی صورت میںمدارس کابابرکت نظام مضمحل اورمتاثرہوسکتاہے،اوراس سے جوناقابل تلافی نقصانات ہوں گے وہ ہم پرمخفی نہیں ہے،اللہ تعالی ہمیں حق بات سمجھنے اوراس پرعمل پیراہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین ثم آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×