سیاسی و سماجی

واٹس ایپ کا متبادل

مجھے ذاتی طور پر واٹس ایپ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جس پرائویسی کو لیکر لوگ خوف زدہ ہیں، وہ کب کی ختم ہوچکی ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ آپ پرائیویسی کو پرایا سمجھ لیں۔ یہ لعنت ابھی "تیسری دنیا” تک نہیں پہنچی ہے، لیکن اس نام نہاد پہلی دنیا میں صورت حال یہ ہے کہ ہم فون کے آس پاس اردو میں بھی گفتگو کریں اور کسی سامان کا انگریزی نام لے دیں، تو دس منٹ کے اندر اندر سوشل میڈیا پر اس کے اشتہارات نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ گوگل میپ آپ کی ہر نقل وحرکت پر نظر رکھتا ہے۔ آپ گزشتہ چند دنوں میں کہاں کہاں گئے اور کس راستے سے گئے، گوگل میپ ایپ پر جاکر آپ مکمل نقشہ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ ہمارے فون ایجنسیوں کے ذریعے ٹیپ کیے جاتے ہیں، عالمی خفیہ ایجنسیاں آپ کا کیمرہ آن کرکے، آپ کے کمروں میں جھانک سکتی ہیں، اس لیے واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی سے ہمیں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ بقول شاعر:

یہ دھوپ تو ہر رخ سے پریشاں کرے گی
کیوں ڈھونڈ رہے ہو کسی دیوار کا سایہ

اتنا ضرور ہے کہ جب عالمی سطح پر یہ بحث چلی کہ واٹس ایپ صرف اپنی شرائط پر صارفین کو ایپ استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے، تو ذہن میں یہ بات آئی کہ اگر یہ ایپ نہیں تو پھر کس ایپ کا استعمال کیا جائے۔ گھوم پھر کر، وہی ٹیلی گرام اور وہی سگنل پر آکر گفتگو ختم ہوگئی۔ مستقبل میں جب یہ کمپنیاں ہمارا ڈاٹا فروخت کریں گی، تو ہم کیا کرلیں گے۔ دل میں یہ خواہش تھی کہ کاش مسلمانوں کی طرف سے کوئی ایسی کوشش ہوتی اور واٹس ایپ کا متبادل پیش کیا جاتا، کیوں کہ نہ ہمارے پاس اعلی دماغوں کی کمی ہے اور نہی سرمایہ کی۔ خدا بھلا کرے کہ محترم ضمام خان نے ہمیں ترک کمپنی کے ایک میسنجر سے متعارف کرایا۔ بپ یا بی آئی پی مسینجر فوری پیام رسانی کا ایک ایپ ہے جسے "ترک سیل” نامی کمپنی کی ذیلی کمپنی لائف سیل نے نیدرلینڈز کے ایک ادارے سے تیار کروایا ہے۔ یہ کمپنی یوکرین اور ہالینڈ میں قائم ہے جس کے مالکان ترکی باشندے ہیں اور اس کے یورپی حصص بردار بھی ہیں۔ بپ مسینجر آئی او ایس اور اینڈرائیڈ دونوں کے صارفین کے لیے دستیاب ہے اور ایپل کے ایپ اسٹور، گوگل پلے سے بآسانی نصب کیا جا سکتا ہے۔

ایپ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ ہمارے ترک بھائیوں کا بنایا ہوا ہے، اس کے بعد اگر کچھ سہولتیں میسر نہ بھی ہوں تو بھی قابل برداشت ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایپ میں سہولتیں نہیں ہیں۔ آپ اس ایپ پر ایک ہزار افراد پر مشتمل گروپ بناسکتے ہیں، ٹیلی گرام کی طرح، چینل بناسکتے ہیں اور واٹس ایپ کی طرح براڈ کاسٹ کرسکتے ہیں، نیز اسکائپ کی طرح بیک وقت گروپ کے دس لوگوں سے ویڈیو کانفرنسنگ کرسکتے ہیں۔ آپ چاہیں تو ہر بھیجیے ہوے میسج کو اسنیپ چیٹ کی طرح خود کار طریقے سے ڈیلیٹ کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کی پرائیویسی بہت اہمیت رکھتی ہے، تو ان کے لیے بھی یہ ایپ "ستر” کا کام کرتی ہے۔ یہ ایپ گلف ممالک میں ویڈیو کال کی بھی سہولت دیتی ہے، سعودی عرب میں مقیم ایک صاحب سے ویڈیو گفتگو ہوئی اور بغیر کسی روک ٹوک کے ہوئی، خدا کرے کہ کسی "صاحب سمو” کی نظر بد اس کو نہ لگے۔ اس کے علاوہ بہت سی خصوصیات کا پتہ استعمال کے بعد ہی لگ سکتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایپ اپنی جامعیت اور مسلم کمپنی کی طرف سے لانچ کیے جانے کی بناء پر ہماری توجہ کی مستحق ہے۔ ہمیں اپنی پسماندگی کی شکایت خوب رہتی ہے، لیکن جب موقع آتا ہے کہ ہم اپنے لوگوں کی کمپنیوں کو آگے بڑھائیں، تو ہم فعال نہیں ہوپاتے۔ اس لیے میری تجویز ہے کہ واٹس ایپ گروپس کے ایڈمن حضرات ٹرائل کے طور پر بی آئی پی ایپ پر بھی گروپس بنائیں اور ٹرائل کے کامیاب ہونے کے بعد واٹس ایپ سے تدریجاً منتقل ہوں۔

ایپ کا پلے اسٹور لنک :
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.turkcell.bip

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×