ریاست و ملک

اپنی دوسری میعاد کے پہلے سال کی تکمیل پر وزیر اعظم نے لکھا عوام کے نام خط

نئی دہلی: 30؍مئی (عصر حاضر) اپنی دوسری میعاد کے پہلے سال کی تکمیل پر وزیر اعظم ہند نریندی مودی نے عوام الناس کے نام ایک خط لکھا جس میں انہوں نے اپنی پہلی میعاد اور دوسری میعاد کے ایک سال کی مکمل کارکردگی کو یاد دلایا۔ وزیر اعظم مودی نے اپنے خط میں لکھا :

میرے عزیزو،

 آج سے ایک سال قبل بھارتی جمہوریت کی تاریخ میں ایک نئے سنہری باب کا اضافہ ہوا۔ ملک میں دہائیوں کے بعد مکمل اکثریت کی کسی حکومت کو لگاتار دوسری مرتبہ عوام نے ذمہ داری سونپی تھی۔ اس باب کی تخلیق میں آپ کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ ایسے میں آج کا یہ دن میرے لئے، موقع ہے آپ کو سلام کرنے کا، بھارت اور بھارتی جمہوریت کے تئیں آپ کی اس دیانت داری کو پرنام کرنے کا۔

اگرصورتحال معمول کے مطابق ہوتی، تومجھے آپ کے درمیان آ کر آپ کے درشن کی خوش بختی حاصل ہوتی،لیکن عالمی وبا کورونا کی وجہ سے جو حالات ہیں، ان حالات میں میں اس مراسلے کے ذریعے آپ کے قدموں میں سلام کرنے اور آپ کی دعائیں لینے آیا ہوں۔

گزشتہ سال میں آپ کی محبت، آپ کے خلوص اور آپ کے سرگرم تعاون نے مجھے لگاتار ایک نئی توانائی، نئی ترغیب دی ہے۔ اس دوران آپ نے جمہوریت کی جس مجموعی قوت کے درشن کرائے، وہ آج پوری دنیا  کے لئے ایک مثال بن چکی ہے۔

سال 2014 میں آپ نے ، ملک کے عوام نے، ملک میں ایک بڑی تبدیلی کے لئے ووٹ دیا تھا، ملک کی پالیسی اور روایت بدلنے کےلئے ووٹ دیا تھا۔ ان 5برسوں میں ملک نے نظام کو جمود اور بدعنوانی کے دلدل سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا ہے۔ ان 5برسوں میں ملک نے انتیودے کے جذبے کے ساتھ غریبوں کی زندگی آسان بنانے کے لئے حکمرانی کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے۔

اس مدت کار میں جہاں دنیا میں بھارت کی آن بان  ، شان بڑھی، وہیں ہم نے غریبوں کے بینک کھاتے کھول کر، انہیں مفت گیس کنکشن دے کر، مفت بجلی کنکشن فراہم کر کے، بیت الخلا ء کی تعمیر کرواکر، گھر بنوا کر غریب کا وقار بڑھایا۔ اس مدت کار میں جہاں سرجیکل اسڑائک ہوئی، ایئر اسٹرائک ہوئی، وہیں ہم نے وَن رینک-ون پنشن، ون نیشن-ون ٹیکس-جی ایس ٹی، کاشتکاروں کی  MSP(کم از کم امدادی قیمتوں)،  کے برسوں پرانے مطالبات کو بھی پورا کرنے کا کام انجام دیا۔

وہ مدت کار ملک کی متعدد ضروریات کی تکمیل کے لئے وقف رہی۔ برس 2019 میں آپ کی دعائیں ،ملک کے عوام کی دعائیں، ملک کے بڑے خوابوں کے لئے تھیں، امیدوں، توقعات کی تکمیل کے لئے تھیں اور اس ایک سال میں لئے گئے فیصلے انہیں بڑے خوابوں کی اڑان ہے۔ آج فرد بشرسے مربوط عوام کی قوت، ملک کی قوت کے احساس کو تقویت فراہم کر رہی ہے۔ گزشتہ ایک برس میں ملک نے لگاتار نئے خواب دیکھے، نئے عزم کئے ا ور ان عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے لگاتار فیصلے لے کر قدم بھی بڑھائے۔

بھارت کے اس تاریخی سفر میں ملک کے ہر سماج، ہر طبقے اور ہر شخص نے بخوبی اپنی ذمہ داری نبھائی ہے۔ سب کا ساتھ –سب کا وکاس-سب کا وشواس، اس اصول کو لے کر آج ملک سماجی ہو یا اقتصادی، عالمی ہو یا داخلی ہر سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

عزیزو،

گزشتہ ایک برس میں کچھ اہم فیصلے زیادہ زیر بحث رہے ہیں اور اس وجہ سے ان حصولیابیوں کا ذہن میں رہنا بھی بہت فطری بات ہے۔ قومی اتحاد اور سالمیت کے لئے آرٹیکل 370 کی بات ہو، صدیوں قدیم جدوجہد کے خوشگوار نتائج، رام مندر تعمیر کی بات ہو، جدید سماجی نظام میں باعث رکاوٹ طلاق ثلاثہ ہو یا پھر بھارت کی رحمدلی کی علامت شہریت ترمیمی قانون ہو، یہ تمام حصولیابیاں آپ سبھی کو یاد ہیں۔

ایک کے بعد ایک ہوئے ان تاریخی فیصلوں کے درمیان متعدد فیصلے، ان کی تبدیلی ایسی بھی ہے، جنہوں نے بھارت کے ترقی کے سفر کو نئی رفتار عطا کی ہے، نئے نصب العین فراہم کئے ہیں، لوگوں کی توقعات کی تکمیل کی ہے۔

چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی اسامی کی تشکیل نے جہاں افواج میں تال میل بڑھایا ہے، وہیں مشن گگن یان کے لئے بھی بھارت نے اپنی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ اس دوران غریبوں کو، کاشتکاروں کو، خواتین –نوجوانوں کو با اختیار بنانا ہماری ترجیح رہی ہے۔ اب پی ایم کسان سمان ندھی کے دائرے میں ملک کا ہر ایک کسان آ چکا ہے۔ گزشتہ ایک برس میں اس اسکیم کے تحت 9کروڑ 50لاکھ سے زیادہ کاشتکاروں کے کھاتوں میں 72ہزار کروڑروپے سے بھی زائد کی رقم جمع کرائی گئی ہے۔

ملک کے 15کروڑ سے زائد دیہی گھروں میں پینے کا صاف پانی پائپ سے فراہم ہو سکے، اس کے لئے جل جیون مشن شروع کیا گیا ہے۔

ہمارے 50کروڑسے زائد کے بقدر کے مویشیوں کی بہتر صحت کے لئے مفت ٹیکہ کاری کی بہت بڑی مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔

ملک کی تاریخ میں یہ بھی پہلی بار ہوا ہے، جب کاشتکار، کھیت مزدور، چھوٹے دوکاندار اور غیر منظم شعبے کے مزدور ساتھیوں، سبھی کے لئے 60برس کی عمر کے بعد 3ہزار روپے کی باقاعدہ ماہانہ پنشن کی سہولت یقینی بنائی گئی ہے۔

ماہی گیروں کے لئے سہولت بڑھانے کے لئے ان کو ملنے والی سہولتیں بڑھانے اور نیل گوں معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے خصوصی اسکیموں کے ساتھ ساتھ الگ سے محکمہ بھی قائم کیا گیا ہے۔ اسی طرح تاجروں کے مسائل کو بروقت حل کرنے کے لئے تاجر بہبود بورڈ کی تشکیل کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ ازخود اپنی مدد آپ گروپوں سے مربوط تقریبا 7کروڑ بہنوں کو بھی اب زیادہ مالی امداد دی جا رہی ہے۔ حال میں ہی ازخود اپنی مدد آپ گروپوں کے لئے بغیر ضمانت کے قرض کو 10لاکھ سے بڑھا کر دوگنا یعنی 20لاکھ کر دیا گیا ہے۔

آدی باسی بچوں کی تعلیم کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ملک میں 450سے زیادہ نئے ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں کی تعمیر کی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔

عوام الناس کے مفاد سے مربوط بہتر قانون وضع کئے جائیں، اس کے لئے بھی گزشتہ برس میں تیز رفتاری سے کام ہوا ہے۔ ہماری پارلیمنٹ نے اپنی کام کاج سے دہائیوں پراناریکارڈ توڑ دیا ہے۔

اسی کا نتیجہ ہے کہ چاہے کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ ہو، چٹ فنڈ قانون میں ترمیم ہو، دویانگوں، خواتین اور بچوں کو زیادہ تحفظ دینے والے قانون ہوں، یہ سب تیزی سے وضع ہو پائے ہیں۔ حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں کی وجہ سے شہروں اور گاؤں کے درمیان کی خلیج کم ہو رہی ہے۔ پہلی بار ایسا ہوا ہے، جب گاؤں میں انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والوں کی تعداد ، شہر میں انٹر نیٹ استعمال کرنے والوں سے 10فیصد زیادہ ہو گئی ہے۔ ملک کے مفاد میں کئے گئے اس طرح کے تاریخی کاموں اور فیصلوں کی فہرست بہت  طویل ہے۔ اس مراسلے میں سبھی کو تفصیل سے بتا پانا ممکن نہیں ہے، لیکن میں اتناضرور کہوں گا کہ ایک سال کی مدت کار کے ہر دن چوبیسوں گھنٹے، پوری بیداری سے کام ہوا ہے، حسیت کے ساتھ کام ہوا ہے، فیصلے لئے گئے ہیں۔

عزیزو،

اہل وطن کی امیدوں –توقعات کی تکمیل کرتے ہوئے ہم تیز رفتار سے آگے بڑھ ہی رہے تھے کہ کورونا عالمی وبا نے بھارت کو بھی گھیر لیا۔

ایک طرف جہاں جدید ترین صحتی خدمات اور وسیع  معیشت والی بڑی بڑی عالمی قوتیں ہیں، وہیں دوسری جانب اتنی بڑی آبادی اور متعدد چنوتیوں سے گھرا ہمارا بھارت ہے۔

کئی لوگوں نے خدشہ جتایا تھا کہ جب کورونا بھارت پر حملہ کرے گا، تو بھارت پوری دنیا کے لئے مصیبت بن جائے گا۔

لیکن آج تمام اہل وطن نے بھارت کو دیکھنے کا نظریہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ آپ نے یہ ثابت کر کے دکھایا ہے کہ دنیا کے اہل اور خوشحال ملکوں کے مقابلے میں بھی اہل ہند کی مجموعی اہلیت اور صلاحیت بے مثال ہے۔ تھالی بجانے اور دیا جلانے سے لے کر بھارت کی افواج کے ذریعے کورونا سورماؤں کا اعزاز ہو، جنتا کرفیو یا ملک گیر لاک ڈاؤن کے دوران اصولوں پر دیانتداری سے عمل درآمد ہو، ہر موقع پر آپ نے یہ دکھایا ہے کہ ایک بھارت ہی عظیم ترین بھارت کی ضمانت ہے۔

یقینی طور پر اتنی بڑی مصیبت میں کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ کسی کو کوئی تکلیف اور زحمت نہ ہوئی ہو، ہمارے مزدور ساتھی، مہاجر مزدور بھائی، بہن، چھوٹی چھوٹی صنعتوں میں کام کر نے والے کاریگر، پٹری پر سامان بیچنے والے، ریہڑی ٹھیلہ لگانے والے، ہمارے دوکاندار بھائی بہن، چھوٹے صنعت کار، ایسے ساتھیوں نے بے پناہ تکلیفیں برداشت کی ہیں۔ ان کی پریشانیاں دور کرنے کے لئے سبھی مل کر کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بھی دھیان رکھنا  ہے کہ زندگی میں ہو رہی پریشانی، زندگی پر آفت میں نہ بدل جائے۔ اس کے لئے ہر ایک ہندوستانی کے لئے ہر ایک رہنما خطوط پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ جیسے ابھی تک ہم نے تحمل اور مستقل مزاجی کو بنائے رکھا ہے، ویسے ہی  اُسے آگے بھی بنائے رکھنا ہے۔ یہ ایک بڑی وجہ ہے کہ بھارت آج دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ سنبھلی ہوئی حالت میں ہے۔ یہ لڑائی لمبی ہے، لیکن ہم فتح کے راستے پر چل پڑے ہیں اور فتحیاب ہونا ہم سب کا اجتماعی عزم ہے۔ ابھی مغربی بنگال اور اڈیشہ میں آئے امفن سمندری طوفان کے دوران جس حوصلے کے ساتھ وہاں کے لوگوں نے حالات کا مقابلہ کیا، سمندری طوفان سے ہونے والے نقصان کو کم کیا، وہ بھی ہم سبھی کےلئے ایک بڑی ترغیب ہے۔

عزیزو،

ان حالات میں آج یہ ذکر بھی بہت عام ہے کہ بھارت سمیت تمام ملکوں کی معیشتیں کیسے نمٹ پائیں گی، لیکن دوسری جانب یہ یقین بھی ہے کہ جیسے بھارت نے اپنی یکجہتی سے کورونا کے خلاف لڑائی میں پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے، ویسے ہی اقتصادی شعبے میں بھی ہم نئی مثال قائم کریں گے۔ 130کروڑ ہندوستانی اپنی صلاحیت سے اقتصادی شعبے میں بھی دنیا کو محو حیرت ہی نہیں، بلکہ ترغیب بھی فراہم کر سکتے ہیں۔

آج وقت کا تقاضہ ہے کہ ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہی ہوگا۔اپنے بل بوتے پر چلنا ہی ہوگا۔ اور اس کےلئے ایک ہی راستہ ہے-خود کفیل بھارت۔ ابھی حال میں خود کفیل بھارت مہم کے لئے دیا گیا 20لاکھ کروڑ روپے کا پیکیج ، اسی سمت میں اٹھایا گیا ایک بڑا قدم ہے۔ یہ مہم ہر اہل وطن کےلئے، ہمارے کاشتکاروں، ہمارے مزدوروں، ہمارے چھوٹے صنعت کاروں، ہمارے اسٹارٹ اپس سےجڑے نوجوانوں، سبھی کےلئے نئے مواقع کا دور لے کر آئے گا۔

ہندوستانیوں کے پیسنے سے، محنت سے اور ان کی صلاحیت سے تیار مقامی مصنوعات کے دم پر بھارت درآمد ات پر اپنے انحصار کو کم کرے گا اور خودکفالت کی جانب آگے بڑھے گا۔

عزیزو،

گزشتہ 6برسوں کے اس سفر میں آپ نے لگاتار مجھ پر نظر کرم بنائے رکھی ہے، اپنی محبت میں اضافہ کیا ہے۔ آپ کی دعا کی قوت سے ہی ، ملک گزشتہ ایک سال میں تاریخی فیصلوں اور ترقی کی بے مثال رفتار کے ساتھ آگے بڑھا ہے، لیکن پھر بھی مجھے معلوم ہے کہ اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ملک کے سامنے چنوتیاں متعدد ہیں، مسائل متعدد ہیں۔ میں دن رات کوشش کر رہا ہوں ، مجھ میں کمی ہو سکتی ہے، لیکن دیش میں کوئی کمی نہیں ہے اور اس لئے میرا یقین اپنے سے زیادہ آپ پر ہے، آپ کی قوت، آپ کی اہلیت پر ہے۔ میرے عزم کی توانائی آپ ہی ہیں، آپ کی حمایت، آ پ کی دعا، آپ کی محبت ہی ہے۔

عالمی وبائی مرض کی وجہ سے یہ آزمائشی گھڑی تو ہے ہی، لیکن ہم اہل وطن کے لئے یہ عزم کی گھڑی بھی ہے۔ ہمیں یہ ہمیشہ یاد رکھنا ہے کہ 130 کروڑ ہندوستانیوں کا حال اور مستقبل کوئی آفت یا کوئی مصیبت طے نہیں کر سکتی۔ ہم اپنا حال بھی خود طے کریں گے اور اپنا مستقبل بھی۔ ہم آگے بڑھیں گے، ہم ترقی کے راستے پر دوڑیں گے، ہم فتحیاب ہوں گے۔

ہمارے یہاں کہا گیا ہے-‘‘کِرتم میں دکشنے ہستے، جیو میں سوویہ اہت’’یعنی  ہمارے ایک ہاتھ میں کوشش فرض ہے، تودوسرے ہاتھ میں کامیابی یقینی ہے۔

ملک کی لگاتار کامیابی کی اسی تمنا کے ساتھ میں آپ کو ایک مرتبہ پھر سلام کرتا ہوں، آپ کو اور آپ کے کنبے کے لئے  میری دلی نیک تمنائیں۔

صحتمند رہئے، محفوظ رہئے!!!

جاگتے رہئے، خبردار رہئے!!!

آپ کا پردھان سیوک

نریندر مودی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×