ریاست و ملک

این پی آر میں نہ کاغذ، نہ ہی کوئی ثبوت، جو لوگ کہیں گے وہی مانا جائے گا

نئی دہلی: 24؍دسمبر (ذرائع) مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر  نے مرکزی کابینہ کی میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپریل سے ستمبر 2020 تک قومی آبادی رجسٹر ہوگی۔ منگل کو پریس کانفرنس میں جاوڈیکر نے بتایا کہ ملک میں 16 ویں مردم شماری ہونے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خود اعلان ہے، اس کے لئے کوئی دستاویز، بائیومیٹرک اور دیگر کی ضرورت نہیں ہے۔ قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) کے ایڈیشن کے لئے منظوری ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این پی آر کے ذریعے پتہ چل پائے گا کہ حکومت کی ہر یوجنا کا صحیح استعمال ہوویں مردم شماری ہونے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خود اعلان ہے، اس کے لئے کوئی دستاویز، بایومیٹرک اور دیگر
کی ضرورت نہیں ہے۔

اپریل سے دسمبر کے درمیان پورا کیا جائےگا این پی آرکا عمل

مرکزی وزیرنےبتایا کہ میٹنگ کےدوران قومی آبادی رجسٹرکواپڈیٹ کرنےکوبھی منظوری دی گئی ہے۔ اپریل سے دسمبرتک این پی آرکا اعمل چلےگا۔ اس میں شہریوں کا ایک رجسٹر بنایا جائے گا۔ انہوں نے واضح طورپرکہا کہ اس کےلئےکسی بھی کاغذ یا ثبوت کودکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کےلئے سرکاری ملازم گھرآئیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ہرریاست نے اس کے لئے اجازت دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہر8 سے 10 سالوں میں اس رجسٹرکو اپڈیٹ کیا جائےگا۔

این پی آرکا عمل ضروری

پرکاش جاؤڈیکرنےاس اسکیم کی ضرورت کے بارے میں بتایا کہ سرکاری اسکیموں کا فائدہ سبھی اورصحیح لوگوں تک پہنچانےکےلئےاس عمل کواپنایا جائےگا۔ انہوں نے واضح طور پرکہا کہ اس میں کسی طرح کی بایومیٹرک اطلاعات بھی نہیں طلب کی جائیں گی۔ مرکزی وزیرنے بتایا کہ 2021 میں مردم شماری کےعمل کےلئےکابینہ نے8,754.23 کروڑ روپئےکی منظوری دی ہے اور3,941.35 کروڑروپئےاین پی آرکواپڈیٹ کرنےکےلئے جاری کئےگئے ہیں۔

چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے عہدے کا اعلان کیا گیا

مرکزی وزیرپرکاش جاؤڈیکرنے یہ بھی بتایا کہ کابینہ نے ہندوستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نےبتایا کہ اس عہدے پرآنے والا افسرایک فوراسٹارجنرل ہوگا۔ افسران نےاس عہدے کے بارے میں مزید بتاتے ہوئےکہا کہ یہ افسرکسی فوجی افسرکے بجائےحکومت کا سربراہ فوجی مشیر ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×