سیاسی و سماجیمولانا سید احمد ومیض ندوی

گینگ ریپ کا سیلاب کیوں کر تھمے گا؟

ملک میں خواتین پر تشدد اور عصمت ریزی کی شرح میں کس قدر اضافہ ہورہا ہے، اس کا اندازہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کے اعداد وشمار سے لگایا جاسکتا ہے، (NCRB) کی ۲۰۱۵ء کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ۲۰۱۲ء کے بعد ۲۰۱۵ء تک کے چار برسوں میں خواتین کے خلاف جرائم میں ۳۴ فیصد اضافہ ہوا ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سنگین جرم کا شکار ہونے والی خواتین میں چھ سال کی بچی سے لے کر ساٹھ سال تک کی بزرگ خواتین شامل تھیں، رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۵ء میں عصمت دری کے چونتیس ہزار چھ سو اکیاون معاملات درج کئے گئے، ۲۰۱۶ء کی رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں ۴,۱۲فیصد کا اضافہ ہوا، چونتیس ہزار چھ سو اکیاون سے بڑھ کر یہ تعداد ۲۰۱۶ء میں اڑتیس ہزار نو سو سینتالیس ہوگئی، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کا شمار عصمت دری واقعات میں سر فہرست ریاستوں میں ہوتا ہے، ان دو ریاستوں میں عصمت دری کی شرح سب سے زیادہ ہے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ خواتین میں سے ۳۳ ہزار سے زائد کی عصمت دری میں مبینہ طور پر ان کے رشتہ دار، عزیز یا جان پہچان والے ملوث تھے، اس وقت ملک میں عصمت دری،خواتین کے خلاف ہونے والا چوتھا سب سے زیادہ عام جرم مانا گیا ہے، ۲۰۱۶ء میں پیش آئے عصمت دری واقعات میں سے ۴۰ فیصد میں نابالغ بچیوں کو درندگی کا شکار بنایا گیا، سال رواں پہلی جنوری سے ۳۰؍ جون تک چوبیس ہزار دو سو بارہ بچیوں کو درندگی کا شکار بنایا گیا، سپریم کورٹ کو ہائی کورٹوں نے گذشتہ چھ مہینے کے جو اعداد وشمار دئے ہیں ان کے مطابق اس عرصہ میں ہر مہینہ عصمت دری کے کل ۴۰ ہزار واقعات ہوئے، یعنی روزانہ ۱۳۰ خواتین کی چادرعصمت تار تار کی جاتی رہی، اس حساب سے ہر پانچ منٹ میں ایک خاتون کا جنسی استحصال ہوا، اس وقت پورے ملک کی مختلف عدالتوں میں عصمت دری کے دو لاکھ مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ملک میں ہر گھنٹہ چار خواتین کی عصمت دری ہوتی ہے، اس طرح یومیہ اس قسم کے دسیوں واقعات رونما ہوتے ہیں، لیکن اِکادُکا واقعات پر ملک گیر سطح پر احتجاج ہوتا ہے، حالیہ پرینکا ریڈی واقعہ اور اسی طرح ۲۰۱۲ء میں پیش آئے نربھیا واقعہ میں عام آدمی سے لے کر سیاسی قائدین تک یہ مانگ کرتے نظر آئے کہ عصمت دری کے مجرمین کو پھانسی کی سزا دینی چاہیے، یہ در اصل خدائی قوانین کی صداقت کا برملا اعتراف ہے، نیز یہ اسلامی سزاؤں پر انگشت نمائی کرنے والے ان افراد کے منھ پر زور دار طمانچہ ہے جو اسلام کے نظام حدود وقصاص کو ظالمانہ قرار دیتے ہیں، زنا اور قتل جیسے جرائم کے سد باب کے لیے شریعت اسلامی صرف سخت سزاؤں پر ہی انحصار نہیں کرتی، بلکہ اس قسم کے واقعات پر وک لگانے کے لیے اسلام میں عفت وپاکدامنی کا مکمل نظام ہے، جس سے گزرنے کے بعد کسی بھی انسانی معاشرے میں خال خال ہی ایسے جرائم کا صدور ہوتا ہے۔
جرائم کے سد باب اور بالخصوص عصمت ریزی جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے وقتی احتجاج یا پارلیمنٹ میں سخت قوانین کی منظوری کافی نہیں ہے، اگر احتجاج اور قانون سازی کافی ہوتی تو ۲۰۱۲ء کے واقعہ کے بعد اس قسم کے واقعات میں واضح کمی آنی چاہیے تھی، جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، جرائم روز افزوں ہیں اور ہر دن عصمت ریزی کے متعدد واقعات پیش آتے ہیں، عصمت دری اور دیگر سماجی واخلاقی جرائم کا انسداد ان اسباب اور راستوں پر روک لگائے بغیر ممکن نہیں جن سے ان کی آبیاری ہوتی ہے، شریعت ِاسلامی جرائم کے خاتمہ کے لیے اسباب ِجرائم پر قدغن لگاتی ہے، موجودہ حکومتیں انسداد جرائم کے لیے اس لیے سنجیدہ نہیں کہی جاسکتیں کہ ایک طرف وہ عوامی احتجاج سے مجبور ہوکر مجرمین کے خلاف سخت قوانین کی بات کرتی ہیں، دوسری جانب ان تمام راستوں کو کھلی چھوٹ دیتی ہیں جہاں سے جرائم پنپتے ہیں، جب تک ان راستوں پر روک نہیں لگائی جاتی عصمت دری اور آبروریزی کے طوفان پر قابو پانا ممکن نہیں۔
جنسی بے راہ روی اور گینگ ریپ جیسے واقعات کا ایک بنیادی سبب معاشرہ میں موبائل اور انٹرنیٹ کا غیر محتاط استعمال ہے، اس وقت موبائل پر فحش مناظر کا گھنٹوں مشاہدہ نوجوانوں کا محبوب مشغلہ بن گیا ہے، انٹرنیٹ اور موبائل نے نسل نو پر گہرے اثرات ڈالے ہیں، نیٹ پر ہر فحش سائٹ تک رسائی آسان ہوچکی ہے، بیشتر نوجوان اپنے دبے جنسی جذبات کی تشکیل کے لیے برہنہ تصاویر اور پورن ویڈیو ز کا رخ کرتے ہیں، پورنو گرافی اب ہمارے معاشرہ میں اس قدر عام ہوچکی ہے کہ شادی شدہ افراد بھی اس لت کا شکار ہیں، پورنو گرافی کی لت سب سے زیادہ میاں بیوی کے تعلقات پر اثر انداز ہورہی ہے، اس لت میں مبتلا شوہر کے لیے بیوی میں کشش ختم ہوجاتی ہے، بالآخر میاں بیوی کا رشتہ ایک موڑ پر جا کر ٹوٹ جاتا ہے یا ان میں طلاق واقع ہوجاتی ہے، ایک مصری ڈاکٹر علی جواد کا کہنا ہے کہ آج کل ۱۵ سے ۲۰ فیصد طلاقیں پورن ویب سائٹس کی وجہ سے ہورہی ہیں، ڈاکٹر جواد کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ پورن دیکھنے کے اثرات ویسے ہی ہوتے ہیں جو نشہ آور چیز کے استعمال سے ہوتے ہیں۔
فحش مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے نئی نسل گھنٹوں موبائل پر گزار رہی ہے، بہت سے نوجوان رات دیر گئے موبائل میں مشغول نظر آتے ہیں، ملک میں فحش سائٹس کو(Block) بلاک کرنے کا مطالبہ بار بار کیا جاتا رہا ہے، لیکن حکام کی جانب سے ہر مرتبہ عدم دلچسپی یا کسی فنیرکاوٹ کا عذر پیش کردیا جاتا ہے، جب تک ہمارے نوجوان نیٹ پر گندگی اور غلاظت کی نالیوں میں گھنٹوں غوطہ زن رہیں گے ملک میں عصمت دری اور آبرو ریزی جیسے واقعات کا سد باب ممکن نہیں۔
خواتین کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے واقعات کا ایک سبب مرد وزن کا آزادانہ اختلاط اور تعلیم گاہوں اور عوامی مقامات پر لڑکوں اور لڑکیوں کا بے محابہ میل جول ہے، مخلوط کلچر ہمارے معاشروں کو تباہی کی جانب ڈھکیل رہا ہے، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے کیمپس میں آج وہ سب کچھ ہورہا ہے جسے زبان وقلم پر نہیں لایا جاسکتا، حتیٰ کہ مخلوط ماحول نے استاذ وشاگرد کے مقدس رشتوں کوتک پامال کردیا ہے، تعلیم کے بہانے ہماری بچیاں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مٹرگشتی کرتی نہیں تھکتیں، لڑکیوں کا اپنے ہم سبق ساتھیوں کے ساتھ سیر وتفریح کرنا اور اپنے دوستوں کے ساتھ دور دراز مقامات پر قیام کرنا اب عام سی بات ہوگئی ہے، بہت سے والدین تعلیم کے لیے اپنی بیٹیوں کو دور دراز شہروں کے ہاسٹلوں میں داخل کروادیتے ہیں، بچیاں وطن سے دور کس حال میں ہوتی ہیں والدین کو اس کی خبر نہیںہوتی، کال سینٹروں میں بہت سی لڑکیاں نائٹ شفٹ میں کام کرتی ہیں، جہاں مخلوط ماحول ہوتا ہے، جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والی نئی نسل کے لیے جب مخلوط ماحول مل جاتا ہے تو ضرور اپنا اثر دکھا جاتا ہے، یہ مخلوط کلچر ہی ہے جو جنسی ہوس کے بھوکوں کو شکار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
گینگ ریپ کے بڑھتے واقعات کی ایک بڑی وجہ بے پردگی اور خواتین کی فیشن زدہ زندگی ہے، زیب وزینت کا اظہار اور بن سنور کرلوگوں کو دعوت نظارہ دینے کا مزاج خواتین کا شیوہ بن چکا ہے،جب کبھی عصمت ریزی کا گھناؤنا واقعہ رونما ہوتا ہے تو لوگ مجرموں کے خلاف آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں، اور ہر طرف سے مجرموں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا جانے لگتا ہے، لیکن کسی گوشہ سے یہ آواز نہیں اٹھتی کہ خواتین بے پردہ میک اپ کرکے لوگوں کو دعوت نظارہ نہ دیں، کالجوں اور عوامی مقامات پر نہایت چست اور نیم عریاں لباس پہن کر گھومنے کا رواج ایک فیشن کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے، چست لباس اور نیم برہنگی اختیار کرکے خواتین خود جنسی بھیڑیوں کو دعوت دیتی ہیں، ہماری خواتین جب تک عریاں لباسی کا شکار رہیں گی اسی طرح ان کی عصمت پر خطرات منڈلاتے رہیں گے، اور جنسی درندے انھیں اپنی ہوس کا شکار بناتے رہیں گے، اس وقت بے پردگی سر چڑھ کر بول رہی ہے، خواتین اور نوجوان لڑکیوں کا لباس مختصر سے مختصر ہوتا جارہا ہے، والدین کو توفیق نہیں ہوتی کہ وہ اپنی بچیوں کو ٹی شرٹ اور جنس سے منع کریں، نئی نسل فلمی شخصیات کو اپنا آئیڈیل سمجھ رہی ہے، فلموں میں بڑھتی عریانی معاشرہ پر اثر انداز ہورہی ہے، پردہ اور بھر پور لباس ہی تحفظ نسواں کا ضامن ہے، بنت حواء جس قدر بے لباس ہوگی اسی قدر مردوں کی ہوس کا شکار ہوتی رہے گی۔
جنسی درندگی میں اضافہ کی ایک وجہ معاشرہ میں جوان لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی میں غیر معمولی تاخیر ہے، جنسی خواہش اللہ نے ہر انسان کی فطرت میں ودیعت فرمائی ہے، کوئی لڑکا یا لڑکی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے تو اس میں یہ خواہش انگڑائیاں لینی لگتی ہے، اس کے لیے شریعت ِاسلامی نے نکاح کا نظام رکھا ہے، نکاح کے جائز راستے سے اس کی تکمیل میں تاخیر ہوجائے تو پھر ناجائز راستہ نکالاجاتا ہے، بالخصوص موجودہ بے حیائی کے ماحول میں جہاں موبائل اور انٹرنیٹ کا استعمال ہمارے بچوں کو وقت سے پہلے حد بلوغ کو پہونچا رہا ہے، اگر نکاح میں تاخیر ہونے لگے تو قوی امکان ہے کہ ہمارے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہوجائیں، والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ جہاں تک ہوسکے اپنی نوجوان اولاد کو بعجلت ممکنہ رشتۂ ازدواج سے منسلک کرنے کی فکر کریں، آج کل غیر ضروری خرافات اور نام نہاد معیار کے سبب نکاح مشکل ہوتا جارہا ہے، جس کا اثر بدکاری اور جنسی بے راہ روی کی شکل میں ظاہر ہورہا ہے، شریعت کی نکاح میں نکاح میں عجلت مطلوب ہے۔
نوجوانوں کے سلسلے میں والدین اور سماج کی غفلت ولاپرواہی بھی جنسی جرائم میں اضافہ کا ایک سبب ہے، بچپن میں والدین اولاد کی تربیت پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے، بلکہ اکثر گھروں میں بچہ ماں کی گود ہی سے ٹی وی پر فحش مناظر دیکھنے کا عادی ہوجاتا ہے، اب تو موبائل نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے، بچپن کی دینی تربیت ،ذہن سازی اور کردار سازی میں ا ہم رول ادا کرتی ہے، جن گھرانوں میں والدین روز اول سے بچوں کو دینی سانچے میں ڈھالتے ہیں وہ بڑے ہوکر غلط راستے پر نہیں پڑتے، حتی کہ تعلیم گاہوں کا مخلوط ماحول بھی ان پر اثر انداز نہیں ہوتا، زمانۂ قدیم میں ہر مذہب کے لوگ بچوں کو اخلاقیات کا درس دیا کرتے تھے، اسکولی نصاب میں بھی اخلاقیات کا مستقل ایک گھنٹہ ہوا کرتا تھا، لیکن اب گھریلو تربیت قصۂ پارینہ بن کر رہ گئی ہے، ماں باپ کو اپنی مصروفیات اور موبائل سے فرصت نہیں، اسکو ل سے لوٹ کر بچے گھر کے بڑوں سے تربیت پانے کے بجائے موبائل میں کھو جاتے ہیں، جب تک نئی نسل کی دینی تربیت پر توجہ نہیں دی جائے گی اس قسم کے واقعات کا سد باب ممکن نہیں۔
رضا مندی سے جنسی تعلقات کو جائز سمجھنے کا رجحان بھی عصمت ریزی کے گھناؤنے واقعات کا سبب بن رہا ہے، نکاح کے بغیر کسی بھی قسم کا جنسی تعلق انسانی معاشرہ کے لیے نہایت تباہ کن ہے، دین اسلام اس کی قطعی اجازت نہیں دیتا، احادیث میں تنہائی میں کسی اجنبی مردو زن کے آپسی اختلاط کو سم قاتل قرار دیا گیا ہے، زنا ہر حال میں زنا ہے، آپسی رضا مندی ہی سے کیوں نہ ہو، رضامندی سے کوئی گندگی پاک نہیں ہوسکتی، لیکن موجودہ قوانین رضامندی سے ہونے والی بدکاری کو سند جواز عطا کرتے ہیں، اس قسم کا رجحان ریپ واقعات میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے، مختصر یہ کہ وقتی اُبال یا احتجاج سے عصمت دری کا سیلاب تھمنے والا نہیں ہے، اس کے لیے حکومت، والدین اور سماج تینوں کو اپنا مطلوبہ کردار ادا کرنا ضروری ہے، یومیہ دسیوں واقعات رونما ہوتے ہیں، لیکن حکومت تب حرکت میں آتی ہے جب کسی واقعہ پر عوامی احتجاج شدت اختیار کرلیتا ہے، حالیہ حیدرآباد عصمت دری واقعہ میں ملزمین کو انکاؤنٹر میں ہلاک کرکے طوفان کو تھمانے کی کوشش کی گئی، لیکن یومیہ پیش آنے والے دسیوں واقعات پر مجرموں کے ساتھ ایسا برتاؤ کیوں نہیں کیا گیا، عصمت دری سے متأثرہ کتنے ہی خاندان انصاف کے منتظر ہیں انھیں کوئی انصاف دلانے والا نہیں، عام مجرموں کو سزا دے کر اونچے طبقے کے مجرموں کو نظر انداز کرنا کوئی اچھا رجحان نہیں، حکومت کو سزاؤں کے نفاذ میں عدل اور غیر جانب داری کا مظاہر کرنا چاہیے، مجرم چاہے کسی بھی طبقہ سے تعلق رکھتا ہو اسے کیفر کردار تک پہونچانے میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، عدالتوں سے انصاف ملنے میں تاخیر بھی ایسے گھناؤنے واقعات کے اضافہ کا ایک سبب ہے، فاسٹ ٹریک عدالتوں کے دائرہ کو مزید وسعت دینا ضروری ہے اور غیر جانب داری کے ساتھ تمام مجرموںپر یکساں سزاء کانفاذ عمل میں لایا جائے۔

Email: awameez@gmail.com
Mob: 09440371335

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×