سیاسی و سماجی

قَتَلہ صَبرِی؛ وہ میرے صبر کا مقتول ہے

کل ممبئی ہائی کورٹ نے عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کردی نیز متعلقہ پولیس عہدیداروں کو اجازت بھی دی کہ وہ روزانہ تین گھنٹہ کیس کی تفتیش کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں، معاملہ دو سال پرانا ہے، فائل پر دھول جم چکی تھی اور سرد خانے میں ڈالی جاچکی تھی، یہاں تک کہ متعلقہ کورٹ نے ناکافی ثبوتوں کی بنا پر کیس بند بھی کروادیا تھا لیکن…

لیکن من آذی لی ولیا فقد آذنتہ بالحرب وہ زبان درازیاں وہ گستاخیاں، وہ طعنے وہ گالیاں، اُس جماعت کے تعلق سے جس کی بنیاد میں اکابر کا پسینہ بلکہ خون تک شامل ہے، راتوں کی آہوں و بکاؤں، فکر و کڑھن سے جس نظریہ کو پروان چڑھایا گیا ہو اور جس کی مقبولیت کی دلیل کتاب نہیں افراد ہوں، امت سے دین کے مٹنے کا غم جس کام کی ریڑھ کی ہڈی ہو اس کے بارے میں دل کی بھڑاس نکالی گئی، بیماری کا مرکز کہا گیا، کہاں ہے سعد؟ کہاں ہے سعد؟ جیسے جملے کسے گئے، تبلیغی جماعت کو طالبان و چین سے جوڑنے کی بھر پور کوشش کی گئ، ان باتوں کو سن کر چاہنے والوں کا کلیجہ منھ کو آرہا تھا، جو مرکز اپنی تمام تر جولانیوں کے ساتھ دہائیوں سے آباد تھا اس کے ویران و غیر آباد مناظر نے عقیدت مند ہی نہیں لا تعلق لوگوں کو بھی مغموم کردیا تھا اس پر مستزاد یہ کہ ایک ٹولہ مسلسل اس بات کی فکر میں تھا کہ جو تالہ اس پر لگ چکا ہے وہ دوبارہ کھلنے نہ پائے، دعوت کی اس مبارک محنت کو ملک میں ممنوعہ تنظیم قرار دے دیا جائے لیکن…

لیکن رب ذو الجلال کے فضل سے دعوت و تبلیغ کا کام دوبارہ اپنے شباب پر آچکا ہے، مراکز پھر سے آباد ہونے لگے ہیں بلکہ بڑی حد تک آباد ہوچکے ہیں، لاک ڈاؤن کے غیر کردینے والے عبرتناک دور نے بہت سوں کو اپنی آخرت یاد دلادی ہے، جو کام سے بیٹھ گئے تھے اب وہ بھی جڑنے لگے ہیں، خروج کی نقل و حرکت تیزی پکڑ رہی ہے، ابھی آندھرا سے ایک دوست نے اطلاع دی کہ ان کے ضلع سے سو جماعتوں کے نکالنے کا ارادہ ہوا ہے جس میں سے تا دم تحریر تقریبا پچاس جماعتیں نکل چکی ہیں، بیرونِ ہند کے لئے جوق در جوق نام آرہے ہیں اور عنقریب اسفار شروع ہوجائیں گے، بیماری پھیلانے کا الزام جن پر تھا وہ بھی باعزت بری ہوچکے ہیں، دوسری طرف کام کو بدنام کرنے والے ظاہرا دنیوی پکڑ سے محفوظ نظر آرہے تھے، ماہانہ ایک کروڑ چالیس لاکھ تنخواہ، دولت کی ریل پیل، ذاتی نیوز چینل، آرام دہ سواریاں، وائی کٹیگری کی سیکیورٹی اور سب سے بڑھ کر مرکزی حکومت کا آشیرواد، ان سب کے ہوتے ہوئے دنیا میں مواخذہ ممکن تو تھا لیکن بہت سوں کو امید نہیں تھی لیکن…

لیکن زخمی قلوب کی آہ کیسے خالی جاتی؟ رات کے سناٹے میں ابھرنے والی سسکیاں و ہچکیاں کیسے کارگر نہ ہوتیں؟ مضطر کی دعا کیسے قبول نہ ہوتی؟ پھر دنیا نے دیکھا کہ یکایک کایا پلٹی، زبان؛ جسم کا وہ عضو جس سے باقی اعضاء روزانہ پناہ مانگتے ہیں؛ پلٹنے لگی، اداکار کی موت نے صحافی کو بھی اداکار بنادیا، دوسری ریاست کے انتخابات میں اپنی آقا پارٹی کے ووٹ بینک بڑھانے کے چکر میں اپنی ہی ریاست کے وزیر اعلی کے خلاف زبان کھل گئی، کیا کہہ رہا تھا کیوں کہہ رہا تھا کچھ خبر نہیں، اول فول بکنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے مگر وہ ساری حدیں پار ہونے لگیں، فلم انڈسٹری بھی اس بہاؤ میں آگئی تو وہ دشمن بن گئے، ریاستی حکومت تو پہلے سے ہی ناراض تھی، مقدمات پہ مقدمات درج ہونے لگے، لیکن خدا نے وہاں سے پکڑ کی کہ نہ صرف وہ حیرت زدہ رہ گیا بلکہ بچانے والے بھی انگشت بدنداں رہ گئے، دو سال پہلے کا مُردہ مقدمہ جاگ اٹھا، رب ذو الجلال نے اُنہیں کو اُنہیں کا دشمن بنادیا، پولیس اٌن کی، قانون اُن کا، عدالت بھی انہیں کی مگر فیصلہ میرے رب کا، آگے کچھ بھی نہ ہو تب بھی یہ چودہ دن کی عدالتی تحویل سزا سے بدتر ہے، ابھی جیل میں ہے، معاملہ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے پتہ نہیں، ممکن ہے کہ صلح صفائی ہوجائے، ہوسکتا ہے کہ ریاستی حکومت اپنی شرائط کو منوا کر بات دبا دے، بعید نہیں کہ عدالت عظمی سے کچھ آرڈر آجائے، لیکن جو ہوا وہ بھی ذلت سے کم نہیں ہے…

افرادِ کار کی تعداد کے حساب سے دیکھیں تو دعوت تبلیغ سب سے زیادہ رکن رکھتی ہے، اس کام سے منسلک افراد عالمی سطح بلا مبالغہ کروڑوں کی تعداد میں ہیں، ہندوستان میں لاکھوں اس پر اپنی جان تک قربان کرنے تیار ہیں، اگر ایک اشارہ ہوجاتا تو اپنے امیر و قائد کے لئے سڑکیں بھر جاتیں، بے مثال و لاجواب احتجاج ہوتا، بعید نہیں تھا کہ اپنے مرکز کی بے حرمتی اور اپنے کام کی گستاخی پر خانہ جنگی چھڑ جاتی لیکن…

لیکن انہوں نے صبر کیا اور صبر ایک مظلوم کا سب سے خطرناک ہتھیار ہوتا ہے، گالیوں کے مقابلہ میں خاموشی اختیار کی، دھمکیوں کے جواب میں عرش والے کا یقین قائم رکھا، غیر تو غیر اپنوں نے بھی موقعہ سے فائدہ اٹھایا تھا، اگلا پچھلا سب اگلنے لگے تھے جنہیں پڑھ کر سن کر دل سینوں میں چھلنی ہوئے جارہے تھے، یہ سب ہوا اور ان کے ساتھ ہوا جو منھ میں زبان اور ہاتھ میں قلم رکھتے ہیں لیکن انہوں اُف تک نہ کی، ایمانی قوت اور صبر سے کام لیا، پھر رب العالمین ان کی طرف منتقم ہوا، یہ تو صرف ایک نمونہ عبرت ہے، اصل پکڑ تو آخرت میں ہوگی…

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×