اسلامیات

اسلام کا نظام معیشت اور موجودہ بحران

عصر حاضر کو ترقی کا دور کہا جاتا ہے اور یہ کچھ غلط بھی نہیں ہے ,سائنسی اکتشافات (SCIENTIFIC EXPLORATION)کا سلسلہ بلاتوقف جاری ہے، ایجادات کا نہ تھمنے والا  ایک سیل رواں ہے، وسائل سفر سے لے کر ذرائع ابلاغ تک میں انقلاب آ چکا ہے، زمین اپنے خزانے اگل رہی ہے ،سبزیاں ،میوے اور پھلوں کی اس قدر بہتات ہے کہ بس! لیکن ہر چیز کی فراوانی کے پہلو بہ پہلو انسانی محرومی کی بھی کوئی حد نہیں،آدمیت  سسک رہی ہے ،غریب غربت کے بوجھ تلے دب رہا ہے ،سرمایہ دار بے مقصدیت کے عذاب واذیت سے گزر رہے ہیں ،ایسا بھی نہیں کہ حالات میں تبدیلی کی سعی ہی نہیں ہوی،کوششیں ہوی اور ہورہی ہے،لیکن ان سب کے باوجود حالات کچھ یوں ہی ہے
    سو بار تیرا دامن ہاتھوں میں میرے      آیا
    جب آنکھ کھلی دیکھا تو  اپنا ہی گریباں تھا
 اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مختلف معاشی نظام وجود پزیر ہوئے لیکن ہر نظام میں زور آوروں نے کمزوروں کا خوب استحصال کیا ،جو دولت مند تھے وہ رفتہ رفتہ دولت کے تمام وسائل پر قابض ہوتے چلے گئے ،اور جو غریب تھے وہ رفتہ رفتہ غربت کے شکنجوں میں کستے چلے گئے،چنانچہ رومن ایمپائر ،دورغلامی(Distant slavery)،مارل مارکس کا  کمیونزم نظریہ اور جاگیرداری (Feudal system)جیسے نظریے وجود میں آیے،لیکن یہ نظام ہائے معیشت شکست آرزو کے عنوانات بن کر اور فطرت سے غیر ہم آہنگ ہونے کی وجہ سے اپنی موت خود ہی مرگئے، اور پھر اخیر میں سرمایہ دارانہ نظام(Capitalism) اور اشتراکی نظام (Sharing system)وجود میں آیا ،جس نے معاش کی چولیں ہلا کر رکھ دی، معاشرے میں عدم مساوات ،معاشرتی دست و برد،دولت اور ذرائع دولت کا ارتکاز،معاشی وسائل کا اکتناز،(Hoareling)تجارتی اور پیداواری سرگرمیوں کےاحتکار (Monopoly)کی حوصلہ افزائی کی،طبقاتی کشمکش( The class struggle) کو پروان چڑھایا،اور دنیا کو واضح طور پر امیروغریب دو طبقوں میں تقسیم کردیا،جہاں امیر ظالم غریب کا ناحق قتل کرنے والا قابل احترام بن گیا ،تو وہی غریب اپنی تمام تر خوبیوں کے باوجود مظلوم، مقہور اور محکوم وذلیل ہو گیا،لہذا طبقاتی نفرت کا بینج  تناور درخت بن گیا،غریب ،کمزور اور محنت کش طبقے کی معاشی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہونے لگا،اور امیر طبقہ کی  تعیشات بڑھنے لگی ،معاشی ناہمواریوں کا یہ عالم کہ ایک طرف زرق برق  قیمتی لباس تو دوسری طرف پیوند زدہ پیرہن،ایک طرف رنگارنگ ماکولات و مشروبات ،تو دوسری طرف آتش شکم کی آنچ ٹھنڈا کرنے کا سامان تک میسر نہیں،ایک طرف جدید ترین ماڈل کی قیمتی گاڑیاں،تو دوسری طرف فٹ پات پر پیدل چلتے ہوئےبھی دھکے،ایک طرف غریب کسانوں کی پیدا کردہ روئی سے سرمایہ دار کی ٹیکسٹائل ملز ( TEXTILES MILS)میں کپڑوں کا انبار،تو دوسری  طرف ایک غریب کی بیٹی کا دوپٹہ تار تار،ستم یہ کہ غلہ گاہنے والا خود غلہ کا محتاج۔۔۔۔
درحقیقت یہ ساری معاشی ناانصافیاں، معاشی استحصال ،معاشی طبقاتی کشمکش اور معاشی محرومیاں سرمایہ دارانہ نظام کی ناجائز اولاد ہیں،جنہوں نے پوری دنیا کےمعاشی فلاح کا خواب چکنا چور کر کے انسانوں کے غالب اکثریت کو افلاس ومحتاجی کے منہوس چکر میں پھنسا دیا ،جس کا منہ بولتا ثبوت اب ہمارے ملک ہندکی موجودہ  اقتصادی حالات ہیں جو دن بدن ابتر سے ابتر ہوتے جا رہے ہیں ،اور لوگ خود کی کمائی کے  حصول کے محتاج ہوگئے،بینکوں کا دیوالیہ نکل رہا ہے ، مزدور پریشان ،ہندوستانی افراد کا چین و سکون لٹ چکا ہے،سامان ضرورت کی قیمتوں میں روزافزوں اضافہ ہی ہو رہا ہے  ،گویا کہ اب انسان” نہ جائے رفتن اورنہ پائے ماندن”کا مصداق ہوچکا  ہے، مال  کی کمی نے قتل وغارت گری کا بازار گرم کردیا ہے،اس سرمایہ دارانہ نظام کی سب سے بڑی خرابی سود وقمار کی کھلی اجازت ہے جو نفع حاصل کرنے کے غیر فطری طریقے ہیں،اس میں مال کو مبالغہ آمیز  اہمیت دی جاتی ہے،یہ نظام ذخیراندوزی کی بھی کھلی اجازت دیتا ہے جو معاشرے کے لوگوں کے ساتھ سراسر  ظلم ہے،
اسلام کا نظام معیشت:
 اس کے برخلاف اسلام کا نظریہ معیشت فطرت سے بلکل ہم آہنگ،اور تمام معاشی مشکلات کا واحد حل ہے،اس لئے کہ یہ نہ "نظریہ افلاطون” کی طرح صرف خیالی ہے اور نہ سرمایہ دارانہ نظام کی طرح فساد پر مبنی ہے،نہ تجربات کا مرہون منت ہے ،اور نہ اقتصادی ماہرین کی ذہنی کاوشوں کا نتیجہ،بلکہ یہ معاشی نظام ربانی نظام ہے،جسے پیغمبر اسلام نے پیش کیا،انتہائی معتدل ہے،جس نے دولت کی تقسیم کا توازن بگڑنے نہ دیا اور دولت کی ایک طرفہ بہاؤ کو روکنے کے لئے سب سے پہلے ایسے تمام کاروبار کو ممنوع قرار دیا جس میں کسی ایک شخص کا فائدہ اور بہت سے لوگوں کا نقصان ہو جیسے سود ، سٹہ،جوا وغیرہ۔۔۔
اسلامی نظام معیشت کی چند امتیازی خصوصیات:
(1) اس نظام کے اولین خصوصیت یہ ہے کہ یہ نظام ربانی ہے،جس کے بعد کسی اور خصوصیت کے بتانے کی ضرورت نہیں ۔
(2) حقانیت:
اسلامی نظام معیشت کا قصررفیع حق اور حقائق کی بنیاد پر استوار ہے،اس لئے کہ یہ اس خالق کا لایا ہوا نظام ہے جس کا ہر فعل  علم و حکمت سے لبریز ہے،
(3) مقصد وفطرت تخلیق سے ہم آہنگ ہے ۔
(4) وضاحت: (full explanation)
اسلام کے نظام معیشت میں کوئی پیچیدگی(Difficulties )نہیں وہ بالکل واضح ہے اور ہر قسم کے ابہام سے پاک ہے،اسی کو بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”الحلال بین والحرام بین وما بینھما مشتبہات”
(4) صدق و امانت، عدل و انصاف پر مبنی ہے:
یہ نظام معیشت امانت ودیانت صدق و طہارت سے پر ہے یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”التاجر  الصدوق  الامین مع النبیین والصدیقین والشہداء” معیشت کو خیانت سے دور رکھنے کی تعلیم دیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ان اللہ یقول :آنا ثالث الشریکین مالم یخن احدھما صاحبہ فاذا خانہ خرجت من بینھم (میں شراکت داروں کا شریک ہوں،جب تک ان میں سے کوئی دوسرے کے ساتھ خیانت نہ کریں ،پھر جب کوئی خیانت کا مرتکب ہوتا ہے تو میں درمیان سے نکل جاتا ہوں،)
(5)دوام وشمول: (continued till the day of judgement)
اسلامی نظام ازلی بھی ہے اور ابدی بھی,وقتی یا رسمی نہیں اور نہ ہی ہر دم متغیر نظریات کی طرح تبدیلی و ترمیم  کاشکار ہے،نیزیہ نظام تمام بنی نوع انسانی کے لیے ہے،اس میں کسی طبقے کی خصوصیت نہیں بلکہ عرب و عجم کا امتیاز ہے نہ آجر ومستاجر کا اور نہ زمیندار اور کاشتکارکا،بلکہ سب یکساں طور پراوامر خداوندی، احادیث نبویہ کے مخاطب ہیں،۔
اس کے علاوہ بھی اور خصوصیات ہیں۔
بنیادی اصول:
اسلامی نظام معیشت کے بنیادی اصول بھی ہیں
(1) ملکیت اموال سے مراد صرف امانت ونیابت(انسان صرف مال کا امین ہے مالک نہیں)
(2)زمین اور اس کی پیداوار میں اصلا تمام انسانوں کا حق برابر ہے۔
(3)جملہ اموال میں حاجت مندوں کا شرعی حق ہے۔
(4)اصل رزق اور بنیادی حق معاش میں تمام انسان برابر ہیں۔
(5) بنیادی حق المعاش کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
(6)حرام ذرائع معیشت پر پابندی۔
(7)صرف اور خرچ  میں اعتدال قائم رکھنا شرعی فریضہ ہے(اسراف وفضول خرچی سے منع ہے)
(8) ہر شہری کے لئے حتی المقدور کسب معاش ضروری ہے۔
(9) کفالت عامہ کے نظام کا اجراء وتنفیذ ریاست کا فریضہ ہے۔
(10)احتکار ( ذخیرہ اندوزی) اور اکتناز (مال اکٹھے رکھنے)پر پابندی ہے
(11) اجتماعی مفاد کو انفرادی مفادات پر ترجیح حاصل ہے ۔
(12)غیر سودی معیشت کاقیام۔
الغرض  اسلام کا یہی انقلابی نظام معاش ہے جو ظہور اسلام کے بعد دنیا میں رائج ہوا اور پوری آب و تاب کے ساتھ تیرہ صدیوں تک چلتا رہا ،پھر دنیا نے اس وقت معاشی بحران کا ناپاک چہرہ نہ دیکھا ،تمام لوگوں میں دولت کی برابر تقسیم اور اس کا توازن رہا ،مختلف اسلامی ملکوں میں عوام الناس کی معاشی فارغ البالی رہی،اور دنیا کامیابی کی منزلیں طے کرتی رہی ،اس لیے اب بھی یہ دنیااسلامی نظام معیشت کو تسلیم کرلے تو معاشی بحران سے نکل سکتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×