اسلامیات

مایوس نہ ہو، اللہ بہت بڑا ہے

’’اللہ‘‘ اس ذات کا نام ہے جو سب سے بڑا ، سب سے بلند ،سب سے جدا ،سب سے الگ ہے،وہ سب کا خالق ہے ، اس کے مقابلہ میں ہر ایک چیز اس کی مخلوق اور اسی کی تخلیق کا شاہکار ہے،وہ اپنی قدرت ،طاقت،بادشاہت اور علم وحکمت ،بزرگی اور بڑائی میں یکتا ہے،وہ اکیلا ،بے عیب ،بے نیاز اور بے مثال ہے ،اس نے محض اپنی قدرت وطاقت اور قوت وارادہ سے کائنات اور اشیائے کائنات کو وجود عطا کیاہے ،وہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے اور جیسے چاہتا ہے ویسا ہی کرتا ہے ،کوئی اسے روک ٹوک کرنے والا نہیں ،اس کا کوئی مشیر ہے نہ وزیر،آسمان وزمین کا قیام اور چاند وسورج کا قرار اسی کے دم سے ہے،بجلی کی کڑک ،سورج کی چمک اور چاند دمک اسی کے حکم سے ہے، سمندر کی گہرائی ،زمین کی چوڑائی ،آسمان کی اونچائی اور پہاڑوں کی طاقت کو وہ خوب جانتا ہے ،جنگل،دریا،پہاڑ،درخت اور باغات کے دلفریب نظارے اسی کے ’’کن‘‘ کا نتیجہ ہیں ، وہی سب کا داتا ہے اور سب کو دیتا بھی وہی ہے، وہ ہر ایک کی سنتا ہے اور ہر ایک کی بولی سے واقف ہے ، دینا ولینا ،نفع ونقصان اسی کے قبضہ میں ہے،ا س کو ماننا اور اسی کی ماننا سب پر لازم ہے ،وہ اگر دینا چاہے تو کوئی روک نہیں سکتا اور اگر وہ روکنا چاہے تو کوئی دے نہیں سکتا ،وہ گمان کے مطابق بندوں کے ساتھ معاملہ کرتا ہے ،وہ اپنے بندووں کو اسی پر بھروسہ کرنے اور اسی پر توکل رکھنے کی تعلیم دیتا ہے ،کیونکہ کام بننے اور بگڑ نے میں اسی کا دخل ہے ،وہ بھروسہ کرنے والوں کے بھروسہ کو پورا کرتا ہے ۔
توکل علی اللہ ایمان کی روح اور توحید کی بنیاد ہے،اسباب اختیار کرکے نتیجہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر چھوڑ دینے کا نام توکل ہے ،اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانے کے بعد اہل ایمان کو جس کی تعلیم دی گئی ہے وہ اس پر توکل وبھروسہ ہے ،بلاشبہ توکل علی اللہ ایمان کا جزو ہے،توکل بہت عظیم صفت ہے ،جس شخص میں یہ صفت پائی جاتی ہے وہ کبھی نامراد اور مایوس نہیں ہوتا،درحقیقت متوکلین ہی سچے موحدین ہیں، توکل خدا سے ملاتا ہے ، اس کی مدد ونصرت کا در کھلاتا ہے ، اعتماد جگاتا ہے اور حوصلہ بڑھاتا ہے ،توکل آدمی کو مایوسی کے دلدل سے نکال کر امید کی چوٹی پر پہنچا تا ہے،اندھیرے سے روشنی کی طرف لاتا ہے اور یقین کامل پیدا کرتا ہے،قرآن مجید میں توکل کی تعلیم دی گئی ہے، یہ انبیاء ؑ کی صفت ،اولیاء ؒ کی علامت اور نیک بندوں کی نشانی ہے، جو شخص اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کرتا ہے تو یقینا ذات خداوندی اس کے لئے کافی ہوجاتی ہے ، قرآن مجید میں ہے : وَمَن یَتَوَکَّلۡ عَلَی اللَّہِ فَہُوَ حَسۡبُہُ إِنَّ اللَّہَ بَالِغُ أَمۡرِہِ قَدۡ جَعَلَ اللَّہُ لِکُلِّ شَیۡۡء ٍ قَدۡراً(الطلاق:۳)’’اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ اس (کاکام بنانے)کے لئے کافی ہے،یقین رکھو کہ اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے ،البتہ اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھاہے‘‘ ،یعنی جو اللہ پر بھروسہ کریں گے تو اللہ اپنی قدرت سے ان کے کام بنائیں گے ،لیکن کام بنانے کی نوعیت اور اس کا وقت وہ خود مقرر فرماتے ہیں کیونکہ انہوں نے ہر چیز کا ایک نپا تلا اندازہ طے کر رکھا ہے ،اس لئے بندہ مومن کو چاہیے کہ اپنی بساط کے مطابق کام کرے اور باقی معاملہ اللہ کے سپرد کردے اور یقین کامل و مکمل بھروسہ رکھیں ،اللہ اپنے علم وحکمت سے اسے ضرور پورا کرکے رہیں گے، قرآن مجید کی ایک دوسری آیت میں مؤمنین کو ان الفاظ کے ذریعہ توکل کی تاکیدی تعلیم دی گئی ہے :ِ وَعلَی اللّہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُونَ(ابراہیم:۱۲)’’اور جن لوگوں کو بھروسہ رکھنا ہو انہیں اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے ‘‘ ، مذکورہ آیات کے علاوہ دیگر مقامات پر اہل ایمان کو توکل کی تاکید کی گئی ہے ۔
رسول اللہ ؐ نے صحابہ ؓ کے واسطے سے امت مسلمہ کو توکل کی تعلیم وتلقین فرمائی ہے ،ذخیرہ احادیث میں ایسی بہت سی احادیث ہیں جن میں اللہ کی ذات پر توکل وبھرسہ کی تعلیم دیتے ہوئے بندوں کو ذات واجب الوجود پر یقین کامل رکھنے اور مکمل بھروسہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے ،یقینا توکل ایک ایسی چیز ہے جو آدمی کو دنیا میں کامیاب اور آخرت میں نجات دلانے کے لئے کافی ہے ،رسول اللہ ؐ کا ارشاد ہے :یدخل الجنۃ من امتی سبعون الفاً بغیر حساب ،قالوا من ہم یا رسول اللہ ؟ قال ہم: الذین لا یسترقون ،ولا یتطیرون ،ولا یکتوون ،وعلیٰ ربہم یتوکلون (مسلم:۳۲۱)’’ میری امت کے ستر ہزار آدمی بلا حساب وکتاب جنت میں داخل ہوں گے ،صحابہ ؓ نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول ؐ !وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو (ناجائز اور غیر شرعی) جھاڑ پھونک نہیں کرواتے ،بد فالی نہیں لیتے ،آگ سے نہیں دغواتے اور(یہ وہ لوگ ہیں جو یقین کامل کے ساتھ) اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ، اسباب اختیار کئے بغیر سارا کام اللہ کی ذات پر چھوڑ دینا توکل کے منافی ہے ،درحقیقت یہ توکل نہیں بلکہ غیر ذمہ دارانہ عمل اور عقل وفہم سے دوری کا نتیجہ ہے ،انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ نے دنیا کو اسباب کی جگہ بنائی ہے اور اس کے فعل کا ظہور اسباب کے پردوں سے ظاہر ہوتا ہے مگر وہ اسباب کا پابند نہیں ہے بلکہ ہم کو اسباب کاپابند بنایا گیا ہے ،ایک موقع پر آپ ؐ سے کسی نے توکل کے متعلق پوچھا کہ کیا اونٹ کو رسی سے باندھ کر توکل کرنا ہے یا کھلا چھوڑ کر ؟ تو جواب میں آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: اعقلھا وتوکل( ابن حبان:۷۳۱) ’’ اسے باندھ لو پھر اللہ پر توکل کرو‘‘۔
یقینا توکل سے اللہ کی مدد شامل حال ہوجاتی ہے ،اللہ تعالیٰ متوکل کی مددونصرت فرماتے ہیں اور معمولی اسباب رکھنے والے کے لئے وہ غیبی راستوں سے مدد ونصرت فرماتے ہیں جس کا گمان نہیں کیا جاسکتا ،لیکن شرط یہ ہے کہ توکل اس طرح ہونا چاہیے جس طرح اس کا حق ہے ، رسول اللہ ؐ نے حقیقی توکل کا ثمرہ بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا :لو انکم تتوکلون علی اللہ حق توکلہ لرزقکم کما یرزق الطیر تغدوا خما صا وتروح بطانا(مشکوٰۃ :ص ۴۵۲) اگر تم اللہ پر توکل کرو جیسا کہ توکل کرنے کا حق ہے تو تم کو اللہ اس طرح رزق دے گا جس طرح وہ چڑیا کو رزق دیتا ہے ،چڑیا خالی پیٹ نکلتی ہے اور بھرے پیٹ کے ساتھ واپس جاتی ہے، ایک نظر حضرت ہاجرہ زوجہ سیدنا ابراہیم ؑ کے اس واقعہ پر نظر ڈالئیے کہ انہوں نے توکل کا کس قدر اعلی نمونہ پیش کیا تھا ،جس وقت سیدنا ابراہیم ؑ بحکم خداوندی انہیں اور شیر خوار بیٹے اسماعیل ؑ کو چٹیل میدان اور غیر آباد سنسان وادی میں چھوڑ کر جانے لگے تھے ،ان کے پاس ایک مشکیزہ میں پانی اور کچھ کھجوریں تھیں ،انہوں نے بطور اسباب اسے اختیار کیا تھا ، اس موقع پر حضرت ہاجرہؓ نے حضرت ابراہیم ؑ نے پوچھا تھا کہ آپ ہمیں اس غیر آباد وادی میں چھوڑ کر کہاں جارہے ہیں جبکہ یہاں انسانی وسائل کا دور دور تک نام ونشان نہیں ہے ،حضرت ابراہیم ؑ یہ سن کر بھی خاموش چلنے لگے پیچھے مڑکر بھی نہیں دیکھا ،حضرت ہاجرہؓ نے سوال کیا کہ کیا یہ بحکم خداوندی ہے ؟ حضرت ابراہیم ؑ نے اثبات میں سر ہلایا ،اتنا سنا تھا کہ حضرت ہاجرہؓ نے بھر پور توکل اور اعتماد ویقین کے بھر پور لہجے میں کہا تھا ! تب تو اللہ ہم ماں بیٹے کو ضائع نہیں کرے گا ،حضرت ہاجرہؓ کا توکل اپنی مثال آپ تھا ،اسی توکل کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے زمزم کا پانی جاری فرمایا اور دنیا کو بتایا کہ جو توکل کرتے ہیں ان کے ساتھ ایسی ہی مدد آتی ہے،حضرت سیدنا ابراہیم ؑ وسیدہ ہاجرہؓ کے اس واقعہ پر غور کریں کہ ایک طرف سیدنا ابراہیم ؑ نے اپنی بساط وگنجائش کے مطابق اسباب اختیار کئے ہیں ،وہ جانتے تھے کہ یہ کھجور وپانی زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے لیکن ان کی نظر اسباب کے بعد مسبب الاسباب پر تھی ،وہ جانتے تھے کہ توکل غیبی دروازہ کی کنجی ہے ،ادھر جب حضرت ہاجرہؓ کو معلوم ہوا کہ یہاں چھوڑ جانا بحکم خداوندی ہے تو فوراً ان کی زبان سے جو جملہ نکلا وہ توکل کی اعلی مثال تھا ،اسی توکل نے انہیں قیامت تک کے لئے حیات جاودانی عطا کی ،اسی طرح پیغمبر سیدنا ایوب ؑ کا واقعہ قرآن مجید میں مذکور ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری کے ذریعہ آزمایا اور وہ صبر وضبط کی مورت بنے رہے ، بیماری پر صبر کرتے ہوئے بقیہ نعمتوں پر شکر بجالاتے رہے اور خدا کی یاد کے ذریعہ دن گزارتے رہے ،جس وقت ان کی دعا قبول ہوئی تو انہیں حکم دیا گیا جس کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح کیا گیا ہے کہ :ارۡکُضۡ بِرِجۡلِکَ ہَذَا مُغۡتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ(ص:۴۲)’’(ہم نے ایوبؑ سے کہا)اپنا پاؤں زمین پر مارو ،لو!یہ ٹھنڈا پانی ہے نہانے کے لئے بھی اور پینے کے لئے بھی‘‘، سیدنا ایوب ؑ کے زمین پر پیر مارتے ہی اس جگہ جشمہ نکل آیا ،اسے پینے اور نہانے سے ان کی ساری بیماری جاتی رہی اور وہ پہلے کی طرح صحت مند اور تندرست ہوگئے ،حضرت سیدنا ایوبؑ کا صبر وضبط اور تحمل وبرداشت مثالی تھا ،ان کے توکل کا انداز عجب اور نرالہ تھا، انہیں بھر پور یقین اور مکمل بھروسہ تھا کہ ایک دن خدا کی مدد ونصرت کا ظہور ہوگا اور اس بیماری سے انہیں نجات حاصل ہوگی ،وہ یاد الٰہی میں بدستور لگے رہے اور اللہ پر کامل توکل کرتے رہے،جب انہیں خدا کی جانب سے شفا یاب ہونے کی خوشخبری سنائی گئی تو انہیں حکم دیا گیا کہ اپنے پیرو کو زمین پر ماریں ،اس سے پانی ابل پڑے گا اور اسے پئیں اور نہائیں جس سے بیماری دور ہوجائے گی ، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا دار الاسباب ہے اور بندہ اسباب کا پابند ہے ،اپنی بساط وکوشش کے مطابق بندوں کو اسباب اختیار کرنا چاہیے لیکن بھروسہ اسباب پر نہیں بلکہ مسبب الاسباب پر رکھنا چاہیے ،کیونکہ اسباب بھی اذن الٰہی کے محتاج ہوتے ہیں ۔
رسول اللہ ؐ کی پوری حیات طیبہ پر نظر ڈالئیے تو پتہ چلے گا کہ آپ ؐ نے قدم قدم پر اسباب اختیار فرمائے ہیں مگر نظر مسبب الاسباب پر رکھ کر مکمل توکل وبھروسہ اسی ذات پر فرمایا جو اسباب کی بھی خالق ہے ،آپؐ نے نہ صرف اسباب اپنایا بلکہ ساتھ ہی توکل کی تعلیم بھی دی بلکہ امت کے سامنے توکل کا وہ اعلی نمونہ پیش فرمایا جس کی تاریخ میں مثال ونظیر نہیں ملتی، کتب سیرت توکل کے واقعات سے بھرے پڑے ہیں ، حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک جنگ میں رسول اللہ ؐ کے ساتھ تھے ،جب ہم ایک گھنے سایہ دار درخت کے پاس آئے تو اس درخت کو ہم نے رسول اللہ ؐ کے لئے چھوڑ دیا ،مشرکین میں سے ایک شخص آیا اور رسول اللہ ؐ کی درخت سے لٹکی ہوئی تلوار لے لی اور سونت کر کہنے لگا : کیا تم مجھ سے ڈر تے ہو؟ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا نہیں،اس نے کہا کہ تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ ؐ نے فرمایا : اللہ ، یہ سنتے ہی تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی ،آپ ؐ نے وہ تلوار اٹھالی اور فرمایا: تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ اس نے کہا تم بہتر تلوار پکڑ نے والے بن جاؤ ،آپ ؐ نے فرمایا : کیا تم لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دوگے ؟ اس نے کہا نہیں ،لیکن میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ نہ میں آپ سے لڑوں گا اور نہ میں ان لوگوں کا ساتھ دوں گا جو آپ سے لڑتے ہیں ،آپ ؐ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا ،وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس گیااور کہنے لگا میں ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو لوگوں میں سب سے بہتر ہے( مسند احمد )،آپ ؐ کے توکل اور بے مثال ایقان نے دشمن کو کمزور کر دیا ،اس کی طاقت وجرأت جاتی رہی اور اسے اپنی شکست نظر آنے لگی ،چنانچہ اس نے ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے آپ سے معافی کی درخواست کی ،رسول اللہ ؐ کے بے مثال توکل نے دشمن کو نامراد کر دیا ،آپ ؐ نے اس کے ذریعہ یہ پیغام دیا کہ توکل اور بھروسہ آدمی کو کامیابی سے ہمکنار کراتا ہے اور خدا کی ذات کو بندہ کے طرف متوجہ کراتا ہے ،بسا اوقات دور دور تک کہیں بھی اسباب نظر نہیں آتے تو بندہ کو چاہیے کہ اس نازک حالت میں مایوس نہ ہو، خدا سے نصرت طلب کرے ،اسے جاننا چاہیے کہ اسباب بے جان ہیں جب تک اس میں حکم الٰہی شامل نہ ہوجائے ، خدا تو بلا اسباب کے بھی کامیابی عطا کرنے پر قادر ہے ، پھر وہ توکل کرتا ہے تو اس کے یقین کامل اور مکمل بھروسہ پر خدا کی نصرت کا نزول اس طرح ہوتا ہے جس طرح بارش کا پانی زمین پر گرتا ہے ، متوکلین کے لئے اللہ نے ہر زمانے میں کامیابی کے راستے دکھائے ہیں اور ان کے ساتھ مدد ونصرت کا معاملہ فرمایا ہے،وہ کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوئے کیونکہ ان کی نظر اسباب پر نہیں بلکہ صاحب قدرت وکمال مسبب الاسباب پر تھی ،مگر ایسا بھی نہیں ہوا کہ انہوں نے اسباب کے بغیر مددطلب کی ہو بلکہ اسباب اختیار کیا اور پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کردیا ،ان کے توکل اور پختہ یقین نے انہیں گھنے جنگل میں راستے فراہم کئے،سمندر کی موجوں نے بحفاظت ساحل تک چھوڑ دیا ، صحرا ء نے پانی فراہم کئے ، درندوں نے تعمیل حکم میں گردنیں جھادیں اور ہزاروں کے لشکر پر مٹھی بھر متوکلین غالب آگئے ، موجود حالات جو مجموعی طور پر تمام مسلمانان عالم کے لئے تشویش ناک اور فکر طلب ہیں ، ہر طرف سے مسلمانوں پر شکنجہ کسا جارہا ہے ،انہیں دبانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ،باطل اکھٹا ہوکر ان کی قوت کو توڑ نے میں لگا ہوا ہے ، مذہبی ،دینی ، اخلاقی ،معاشی ،سیاسی اور حکومتی ہر لحاظ سے انہیں کمزور کردینا چاہتے ہیں ، بعض طاقتور ترین لوگ بھی ان کی سازشوں کا شکار ہورہے ہیں ،کبھی مسالک کے نام پر ان میں تفریق پیدا کی جارہی ہے تو کبھی انصاف کے نام پر شرعی قوانین میں ترمیم کی کوشش ہورہی ہے تو کبھی ذہنی طاقت کا سہارا لے کر ان کی اجتماعی طاقت کو ٹکڑوں میں باٹنے کا کام کیا جارہا ہے تو کبھی کچھ تو کبھی کچھ ،عالمی صورت حال بھی تشویش ناک ہے ، باشعور مسلمانوں اور ملت کے درد مندوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ،کوششیں کرنے والے کوششیں کر رہے ہیں مگر عام لوگ بے چین وبے قرار ہیں اور بعض تو زبان سے مایوسانہ الفاظ ادا کرنے لگے ہیں ، ان کے الفاظ بتارہے ہیں کہ وہ سب کچھ اسباب کو سمجھ بیٹھے ہیں ،ان کے دل توکل سے خالی ہیں، ایسے نازک اور ناگفتہ بہ حالات میں مسلمانوں کو تعلیم دی گئی ہے ،انہیںسبق پڑھایا گیا ہے اور پچھلے تاریخی واقعات یاد دلاکر بتا یا گیا ہے کہ اہل ایمان وہ ہوتے ہیں جو خدا پر توکل رکھتے ہیں اور خدا کی ذات کا کامل یقین واعتماد کرتے ہیں ،وہ کبھی بھی کسی بھی حالت میں مایوس نہیں ہوتے اور نہ ہی افسردگی کا اظہار کرتے ہیں ،وہ اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرتے ہیں اور اسباب اپناتے ہیں مگر توکل خدا کی ذات پر رکھتے ہیں ،مسلمان کبھی مایوس نہیں ہوتا کیونکہ اس کے پاس مایوسی تو کفر ہے ،اسے معلوم ہے کہ جو خدا سورج جیسی طاقت کو رات میں غروب کرتا ہے ،تاریکی سے روشنی نمودار کرتا ہے ،زمین سے غلہ اُگاتا ہے اور بے جان سے جاندار اور جاندار سے بے جان پیدا کر تا ہے تو پھر ناوافق حالات کو موافقت میں تبدیل بھی کر سکتا ہے اور اس نے توکل کرنے والوں کے ساتھ کرکے بھی دکھایا ہے ، رسول اللہ ؐ کے اعلان نبوت سے لے کر وفات تک ، عہد صحابہ ؓ میں اور ان کے بعد بھی گر چہ وسائل کی قلت تھی ،اسباب کم تھے لیکن توکل نے انہیں فتح ونصرت سے ہمکنار کیا اور خدا کی مدد ان کے ساتھ شامل حال ہوئی ،مسلمان ان سے سبق لیں ،مایوسی کے خول سے باہر نکلیں ، ظاہر ی اسباب اختیار کریں اور توکل کو اپنے گریبان سے باندھ لیں ،یقینا پہلے بھی حالات آ ئے تھے ،آتے رہے ہیں اور آتے رہیں گے لیکن کامیابی انہیں کو حاصل ہوگی جو اسباب کا دامن نہیں چھوڑ تے مگر بھروسہ اسباب پر نہیں خدا کی ذات پر رکھتے ہیں ،مسلمانوں کو ہر دن ہر ایک اذان وہر نماز میں خدا کے سب سے بڑے ہونے کا استحضار کرایا جاتا ہے ،جس کا ایمان اتنی بڑی ذات پر ہو جو بادشاہوں کا بادشاہ ہو، مالکوں کا مالک ہو ،وہ کسی کو پل بھر میں اوپر اُٹھانے کی طاقت رکھتا ہے اور پل بھر میں نیچے گرانے کی قوت بھی رکھتا ہے ،اس پر توکل کرنے والا کبھی مایوس ،ناکام اور نامراد نہیں ہو سکتا ،جو حالات سے ڈر کر خوف زدہ ہو رہے ہیں اور اپنے دل چھوٹے کر رہے ہیں ہم ان سے یہی کہیں گے کہ مایوس نہ ہو اللہ بہت بڑا ہے ؎

مایوس کیوں کھڑا ہے

اللہ بہت بڑا ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×