اسلامیات

فضائل ومناقب حضرت حسینؓ

تذکرہ اس مقدس ہستی کاجو چمن ِ رسالت کے نو شگفتہ پھول ہیں، گلستان علیؓ  وفاطمہ الزھراؓ کے لعل وگوہر ہیں، سید الانام، خیرالبشر  محمد عربی ﷺ کی محبتوں کی امانت  ہے،اہل بیت اطہار کی زینت ہے،  ساری دنیا کو جن پر ناز ہے ، وہ میدانِ کربلا کے عظیم سپہ سالار ،امت کے جانثار، حضرت سیدنا و سید الشھدا ء  حضرت حیسنؓ  کی ذات مقدسہ ہے
آپؓ کے بے شمار طرق سے بہت سی باتیں ہمیں ملتی ہیں،
یہاں قدرے پہلوؤں کو اجاگر کیاجاتا ہے
ولادتِ باسعادت اوربشارت نبوی:-
سید الشھداء حضرت حسینؓ بن علیؓ کی ولادت با سعادت ۵ شعبان المعظم ؁۴ مدینہ منورہ میں ہوئ ،آپ کا نام نامی اسم گرامی ،حسینؓ ،کنیت، ابو عبداللہ ،لقب، سبط الرسول ، وریحانۃ الرسول ہے،
 ۱۰ محرم ؁۶۱ھ جمعہ کے دن کربلا کے میدان میں یزیدی ستمگاروں نے انتہائی بے دردی کے ساتھ آپ کو شہید کر دیا ،( اکمال ؃۵۶۰)
روایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چچی جان صاحبہ نے ایک فکر انگیز خواب دیکھا اور حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیں تو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی فرحت آفریں تعبیر بیان فرمائی اور حضرت حسینؓ  کی ولادت کی بشارت دی جیساکہ امام بیہقی کی دلائل النبوۃ میں مذکور ہے :
 حضرت ام الفضل بنت الحارث رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ وہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے آج رات ایک خوف ناک خواب دیکھا ہے، سرکار نے ارشاد فرمایا آپ نے کیا خواب دیکھا؟ عرض کرنے لگیں وہ بہت ہی فکر کا باعث ہے ،آپ نے ارشادفرمایاوہ کیا ہے؟ عرض کرنے لگیں : میں نے دیکھا گویا آپ کے جسد اطہر سے ایک ٹکڑا کاٹ دیا گیا اور میری گود میں رکھ دیا گیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم نے بہت اچھا خواب دیکھا ہے، ان شاء اللہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو صاحبزادے تولد ہونگے اوروہ آپکی گود میں آئینگے چنانچہ ایساہی ہوا ،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حضرت اما م حسین رضی اللہ عنہ تولد ہوئے اوروہ میری گود میں آئے جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارت دی تھی ، پھر ایک روز میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت  میں حاضر ہوئی اورحضرت حسین رضی اللہ عنہ کو آپ کی خدمت  میں پیش کیاپھر اسکے بعد کیا دیکھتی ہوں کہ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے چشمان اقدس اشکبار ہیں، یہ دیکھ کر میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان !اشکباری کا سبب کیاہے ؟حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرئیل علیہ السلام نے میری خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: عنقریب میری امت کے کچھ لوگ میرے اس بیٹے کو شہید کرینگے ۔ میں نے عرض کیا سرکار کیا وہ اس شہزادے کو شہید کرینگے ؟ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاں! او رجبرئیل امین علیہ السلام نے اس مقام کی سرخ مٹی میری خدمت میں پیش کی ۔ ( دلائل النبوۃللبیہقی، حدیث نمبر:-2805مشکوۃ المصابیح ،ج1 ص 572)
خصوصیات وفضائل:-
روایات واحادیث نے آپؓ کی فضیلت ومنقبت کا  کوئ گوشہ تشنہ نہ چھوڑا ، آپ کی ہر ادا پر فدا ہونے والے ہر پہلو کو زندہ وتابندہ رکھا، اور ساتھ ہی ملت اسلامیہ پر ایک ایسا عظیم احسان کیا جو کھبی فراموش نہیں کیا جاسکتا
حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرما یا کہ اک روز میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، حسن و حسین(  رضی اللہ عنہما ) دونوں آپ کے صدرِ مبارک پر چڑھے کھیل رہے تھے ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیک وسلم) کیا آپ ان دونوں سے اس درجہ محبت کرتے ہیں ؟ کیوں نہیں یہ دونوں دنیا میں میرے پھول ہیں( رواہ الطبرانی فی المعجم)
اور حارث علیؓ سے مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا حسنؓ و حسینؓ جوانانِ جنت کے سردار ہیں﴿ ایضا‌‌‌﴾
یزید بن ابی زیاد کی روایتوں میں ہےکہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسینؓ کے رونے کی آواز سنی تو ان کی والدہ سے کہا : کیا تم کو معلوم نہیں کہ ان کا رونا مجھے اندوہگیں کرتا ہے ، ( الطبرانی)
امام طبرانی کی معجم اوسط اورکنزالعمال میں روایت ہے:
لَمَّا اِسْتَقَرَّ أَہْلَ الْجَنَّۃِ قَالَتْ الْجَنَّۃُ: یَا رَبِّ أَلَیْسَ وَعَدتَّنِیْ أَنْ تُزَیِّنَنِیْ بِرُکْنَیْنِ مِنْ أَرْکَانِکَ؟ قَالَ: أَلَمْ أُزَیِّنْکِ بِالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ؟ فَمَاسَتِ الْجَنَّۃُ مَیْسًا کَمَا یَمِیْسَ الْعَرُوْسُ-
ترجمہ:جب جنتی حضرات جنت میں سکونت پذیر ہونگے تو جنت معروضہ کریگی پروردگار ! ازراہ کرم کیا تو نے وعدہ نہیں فرمایا کہ تو، دو ارکان سے مجھے آراستہ فرمائیگا ؟ تو رب العزت ارشاد فرمائیگا: کیا میں نے تجھے حسن و حسین رضی اللہ عنہماسے مزین نہیں کیا؟ یہ سن کر جنت دلہن کی طرح فخر و ناز کرنے لگے گی۔( معجم اوسط طبرانی،حدیث نمبر343۔
کنزالعمال، ج13ص106،حدیث نمبر34290
)
حضرات ِ حسنین کریمینؓ  سے محبت ایمانی تقاضہ:-
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہماسے مروی ہے حدیث شریف میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے متعلق ارشادفرمایا۔ ۔ ۔
فَقَالَ ہَذَانِ ابْنَایَ وَابْنَا ابْنَتِی اللَّہُمَّ إِنِّی أُحِبُّہُمَا فَأَحِبَّہُمَا وَأَحِبَّ مَنْ یُحِبُّہُمَا .
ترجمہ :یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں ائے اللہ !تو ان دونوں سے محبت فرما اور جو ان سے محبت رکھے اسکو اپنا محبوب بنالے۔(جامع ترمذی، حدیث نمبر 4138 )
 ابن ماجہ کی حدیث میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے جس میں محبتِ حسنین کے پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے،
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم: مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِی وَمَنْ أَبْغَضَہُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِی.
ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہما سے محبت کی، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے محبت کی اور جس نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہما سے بغض رکھا اس نے مجھ ہی سے بغض رکھا۔( سنن ابن ماجہ شریف، حدیث نمبر148)
ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خصوصی جذبات  اور ایسی نسبت کا اظہار فرمایا جس پر ساری دنیا کو تا قیامت فخر رہے گا
عن ‏ ‏يعلي بن مرة ‏ ‏، قال : ‏ ‏قال رسول الله ‏ (ص) ‏: ‏حسين ‏ ‏مني وأنا من ‏ ‏حسين ‏، ‏أحب الله من أحب ‏ ‏حسينا ‏،
حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ، جس نے اللہ سے محبت کی اس نے حسین سے محبت کی ، (الترمذي :-رقم الصفحة : 326 / 327 )
حضرت عبد اللہ بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ،انہوں نے فرمایاکہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نمازکیلئے ہمارے پاس تشریف لائے،اس حال میں کہ آپ حضرت حسن یا حضرت حسین رضی اللہ عنھما کواٹھائے ہوئے تھے ،پھرحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے تشریف لے گئے اور انہیں بٹھادیا،پھرآپ نے نمازکیلئے تکبیرفرمائی اور نمازادافرمانے لگے ،اثناء نماز آپ نے طویل سجدہ فرمایا، میرے والد کہتے ہیں :میں نے سر اٹھاکر دیکھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں ہیں اور شہزادے رضی اللہ عنہ آپ کی پشت انور پر ہیں ، تو میں پھر سجدہ میں چلاگیا، جب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازسے فارغ ہوئے تو صحابہ کرام نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے نمازمیں سجدہ اتنا دراز فرمایا کہ ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں کوئی واقعہ پیش تو نہیں آیا، یا آپ پروحی الہی کا نزول ہورہا ہے ،تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اس طرح کی کوئی بات نہیں ہوئی سوائے یہ کہ میرا بیٹا مجھ پرسوار ہوگیا تھا،اور جب تک وہ اپنی خواہش سے نہ اترتے مجھے عجلت کرنا ناپسند ہوا۔
( نسائی ،حدیث نمبر-1121)
غمِ محبت کے سوا اور کیا ہے!!
۔آج ہم اپنے چاروں طرف جو آگ اور خون کے سمندر دیکھ رہے ہیں اور مسلم امہ مجموعی طور پر جس تضحیک کا نشانہ بنی ہوئی ہے، اس کی ایک وجہ تو قرآنی تعلیمات اور عملی اسلام سے دوری ہے، اور دوسری بڑی وجہ پیغام کربلا اور فکر حسین کو فراموش کرنا ہے۔ ہم روایات و رسومات میں اپنا تشخص کھو چکے ہیں اور ہماری سوچ پر جیسے جمود طاری ہے اور علم سے جیسے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ جمود بھی ایسا کہ نہ تو اسے کربلا کا پیغام حریت و انقلاب توڑ پا رہا ہے اور نہ ہی استغاثہ حسینی کی صدا اس پر کچھ اثر انداز ہو رہی ہے،
ضرورت ہے کہ اقوام عالم اپنے اندر  حسین جیسا صبر کا عنصر پیدا کرے، اسلامی تعلیمات پر سچی وفاداری کا ثبوت دیں ، شھادت حسین اور حیات حسین کی روشنی میں سیاسی وسماجی سرگرمیوں ومسائل کا حل تلاش کرے ، طاعت کا لباس زیب تن کرے، اسلام کے دفاع کےلئے شجاعت وبہادری حاصل کرے، کچھ ایسا کر گزرے کہ زمانہ کو ہم نہیں بلکہ زمانہ ہم کو یاد رکھے ،  آخرش؛ جینا ،مرنا ،کٹنا ہر قربانی میں رضاۓ الہی کا طلبگار ہو

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×