ریاست و ملک

ممبئی کے آزاد میدان میں انسانی سروں کا سمندر‘ شہریت ترمیم قانون ناقابل قبول کی گونج

ممبئی 27؍ دسمبر ( عزیز اعجاز کی رپورٹ) جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام آج آزاد میدان میں منعقدہ شہری ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ایک زبردست احتجاجی ریلی میں مظاہرین نے مرکزی سرکار کی جانب سے ہندوستانی عوام پر جبراً تھوپے جانے والے شہر یت قانون کے خلاف متحدہ طور پر جدو جہد جاری رکھنے کا عزم کر تے ہوئے یہ عہد کیا کہ وہ اس متنازعہ قانون کو منسوخ کرنے تک چین نہیں لیں گے۔ اس موقع پر احتجاجی اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ ، بینرس اور ترنگا پرچم لہراتے ہوئے ملک کی یکجہتی کو برقرار رکھنے کی غرض سے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف نعرے بلند کرتے ہوئے نظر آئے ۔دوپہر 3؍ بجے سے شام 7؍ بجے تک جاری رہنے والے اس احتجاجی مظاہرہ میں ممبئی ہائی کورٹ کے ریٹائر جسٹس کولسے پاٹل ،جواہر لال نہرو یو نیورسٹی( جے این یو ) کے سابق طالب علم اور معروف سوشیل ایکٹوسٹ عمر خالد، بالی ووڈ اداکارہ سورا بھاسکر ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ( اے ایم یو ) اِنڈین اِنسٹی ٹیوٹ آف بامبے( آئی آئی ٹی بامبے) سمیت دیگر سماجی اور ملی تنظیموں کے ہزاروں رضاکار مو جود تھے ۔بتایا جا تا ہے کہ آزاد میدان میں 10؍ زار سے زائد لوگوں کے اس جم غفیر میں چو طرفہ اِنسانی سروں کا سمندر دکھائی دے رہا تھا اور ہر زبان پر ایک ہی بات تھی کہ ’’ہم اس سیاہ قانون کے خلاف اُس وقت تک اپنی لڑائی اور جدو جہد جاری رھیں گے جب تک مودی سرکار اس سیاہ قانون کو منسوخ نہیں کر دیتی ۔قبل ازیں یہاں منعقدہ ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس کو لسے پاٹل نے کہا کہ شہرت قانون کو نافذ کرنے کا مقصد ملک کے سیکو لر ڈھانچہ کو نقصان پہچانا اور ہندو راشٹر کے قیام کی مذموم کو شش ہے جسے ہم کسی بھی قیمت پر کامیاب ہو نے نہیں دیں گے ۔فلم ادادکارہ سو را بھاسکر نے کہا کہ مرکزی سرکار حد سے تجاوز کررہی ہے اور دانستہ طور پر ہندوستانی شہریوں کو مسائل میں مبتلاکیا جارہا ہے ۔انہوںنے مزید کہا کہ آج ملک کے حالات اِنتہائی ابتر ہیں ۔ خواتین اورلڑکیوں پر ظلم و ستم کے واقعات پیش آرہے ہیں ایسے میں مود ی سرکار حقیقی مسائل سے عوام کی تو جہ ہٹاتے ہوئے جمہو ریت اور دستور اور فرقہ وارانہ یکجہتی کے ماحول کو تار تار کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×