طالبان وفد کی مذاکرات کے لیے پہلی بار ناروے کے دارلحکومت اوسلو آمد
طالبان کا ایک وفد ہفتے کے روز مغربی سفارت کاروں اور افغان سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ تین روزہ بات چیت کے لیے ناروے پہنچا ہے۔ وفد کو توقع ہے کہ وہ ملک میں جاری "جنگی ماحول کو بدلنے” کی کوشش کریں گے۔
ناروے کی حکومت کا چارٹرڈ طیارہ ہفتے کی شام اوسلو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترا جس میں طالبان کے 15 ارکان سوار تھے۔ کابل سے آنے والے وفد کی سربراہی وزیر خارجہ امیر خان متقی کر رہے ہیں۔
توقع ہے کہ بات چیت میں انسانی حقوق، انسانی امداد اور افغان مرکزی بینک کے فنڈز کو ڈی ریگولیشن سے متعلق امور پر توجہ دی جائے گی۔
Senior IEA delegation led by the FM H.E Mawlawi Amir Khan Muttaqi left for Norway in a special flight of the said country where talks will be held with representatives of various countries & a number of Afghans about humanitarian aid, political, educational & economic issues. pic.twitter.com/YHoLEuM0t0
— Abdul Qahar Balkhi (@QaharBalkhi) January 22, 2022
طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد افغانستان میں انسانی صورتحال نے ایک المناک صورت حال اختیار کی ہے۔ امریکا نے افغان مرکزی بینک کے 9.5 بلین ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے جو کہ 2020 میں افغانستان کی مجموعی قومی پیداوار کے نصف کے برابر ہے۔
بات یہیں نہیں رکی کیوں کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک نے ایک ایسے ملک میں اپنی سرگرمیاں معطل کر دیں جس کی معیشت بین الاقوامی حمایت پر مبنی تھی کیونکہ یہ قومی بجٹ کے 80 فیصد کے برابر تھی۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ تحریک نے مغربی دنیا کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ سفارت کاری کے ذریعے تمام ممالک بشمول یورپی ممالک اور عمومی طور پر مغرب کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوں گے۔
انہوں نے اپنی امید کا اظہار کیا کہ یہ مذاکرات پچھلی جنگ کے ماحول کو امن میں تبدیل کرنے میں مدد دیں گے۔