ریاست و ملک

ٹی وی چینلوں کے خلاف معاملے کو چیف جسٹس آف انڈیا نیوز براڈ کاسٹنگ اسٹینڈر اتھاریٹی کے پاس بھیجنے کے حق میں

نئی دہلی: 27؍اگست (پریس ریلیز) مسلسل زہر افشانی کرکے اور جھوٹی خبریں چلاکر مسلمانوں کی شبیہ کوداغدار اور ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوارکھڑی کرنے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں کے خلاف داخل کی گئی جمعیۃ علما  ہند کی پٹیشن پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران جمعیۃعلماء ہند کی طرف سے بحث کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے نے کہا کہ وہ عدالت کی جانب سے اس معاملے کو نیوز براڈ کاسٹنگ اسٹینڈر اتھاریٹی کے پاس بھیجنے کے سخت خلاف ہیں کیونکہ NBSAصرف ایک کمپنی ہے اور ان کے پاس کارروائی کرنے کے اختیارات نہیں ہیں۔آج جیسے ہی اس معاملے کی سماعت  چیف جسٹس آف انڈیا اے ایس بوبڑے کی سربراہی والی تین رکنی بینچ جس میں جسٹس اے ایس بوپننا اور جسٹس وی رام سبرامنیم کے رو برو شروع ہوئی چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اس معاملے کو NBSA کے حوالے کرنا چاہتے ہیں جس پر دشییت دوے نے اعتراض کیا  اور کہا کہ وہ عدالت کے اس فیصلہ کے خلاف ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پھر وہ پٹیشن کو خارج کردیں گے جس پر دشینت دوے نے کہاکہ عدالت ان کے دلائل کی سماعت کیئے بغیر اس پٹیشن کو خارج نہ کرے اور انہیں بحث کرنے کے لیئے کم از کم ایک گھنٹہ چاہئے کیونکہ وہ عدالت کو اس معاملے کی سنگینی بتانا چاہتے ہیں۔ایڈوکیٹ دشینت دوے نے عدالت سے کہا کہ یونین آف انڈیا نے اپنے حلف نامہ میں خود ا س بات کا اعتراف کیا ہیکہ این بی ایس اے نے اب تک ان نیوز چینلوں پر کارروائی نہیں کی ہے اس کے باوجود اگر عدالت اس معاملے کو این بی اے کے پاس بھیجے گا تو اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔اسی درمیان عدالت نے اپنی کارروائی ملتوی کردی، امید ہیکہ اس معاملے کی اگلی سماعت پر عدالت سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے کے دلائل کی سماعت کے بعد فیصلہ صادر کریگی۔آج کی سماعت سے قبل ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے گذشتہ دنوں ہی ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے جسٹس ٹی وی نلاؤڑے اور جسٹس ایم جی سیولکر ن کی جانب سے دیا گیافیصلہ عدالت میں داخل کیا تھا جس میں لکھا ہیکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بڑا واویلا مچایا گیا تھا کہ تبلیغی مرکز سے ہندوستان میں کرونا پھیلا ہے اور اس کے لیئے تبلیغی جماعت کے لوگوں کو بلی کا بکرا بنایا گیا۔ میڈیا نے مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیئے فیک نیوز چلائی اورعوام میں یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی وجہ سے کرونا پھیلا جبکہ اس کی حقیقت عوام کے سامنے آچکی ہے لہذا ایسے نیوز چینلوں اور اخبارات کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔این بی ایس اے کیجانب سے پیش ہوتے ہوئے ایڈوکیٹ نشا بھمبانی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اس تعلق سے شکایت ملی ہیں اور اس پر کارروائی کررہے ہیں جس پر ایڈوکیٹ دشینت دوے نے عدالت کو بتایا کہ این بی ایس اے ایک کمپنی ہے اور ان کے پاس کوئی پاور نہیں ہے سخت کارروائی کرنے کی لہذاعدالت مرکزی حکومت کو ہدایت دے کہ وہ ان نیوز چینلوں کے خلاف کارروائی کرے۔ایڈوکیٹ دشینت دوے نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے دیڑھ سو چینلوں اور اخبارات کی کٹنگ اور تفصیلات پٹیشن کے ساتھ داخل کی ہیں جس میں انڈیا ٹی وی،زی نیوز، نیشن نیوز،ری پبلک بھارت،ری پبلک ٹی وی،شدرشن نیوز چینل اور بعض دوسرے چینل شامل ہیں جنہوں نے صحافتی اصولوں کو تار تار کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل آزاری اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی ناپاک سازش چی تھی۔ اسی درمیان پریس کونسل آف انڈیا کی جانب سے ٹی گو کھانگین (انڈر سیکریٹری)نے عدالت میں چھ صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ابتک 49 پرنٹ میڈیا کے خلاف شکایت موصول ہونے کے بعد پریس کونسل پروسیجر فور انکوائر ریگولیشن 1979 کے تحت کارروائی کی جارہی ہے۔تبلیغی مرکز کو لیکر کمیونل رپورٹ کے کرنے والے اخبارات جن کے خلاف شکایت موصول ہوئی ہیں دینک جاگران، لوک مت،دینک بھاسکر، ٹائمز آف انڈیا، نو بھارت، دی ہندو، دوییا بھاسکر، وجئے کرناٹک،دی ٹیلی گراف، اسٹار آف میسور، ممبئی سماچار، تہلکا میگزین، انڈیا ٹودے و دیگر شامل ہیں۔دوران بحث سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے کی معاونت کرنے کے لیئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ اکریتی چوبے، ایڈوکیٹ سارہ حق، ایڈوکیٹ نیہا سانگوان و دیگر موجود تھے۔ صدر جمعیۃ علماء ہند سید مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر عرض گذار بنے جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ پر گلزار اعظمی نے آج کی عدالتی کارروائی کے بعد کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری پٹیشن پر چیف جسٹس آف انڈیا کوئی مثبت فیصلہ دیں تاکہ کمیونل رپورٹنگ کرنے والے مخصوص نیوز چینلوں کے خلاف حکومت کارروائی کرے۔  گلزار اعظمی نے مزیدکہا کہ اول دن سے ہمارے وکلاء عدالت سے گذارش کررہے ہیں کہ وہ خود اس معاملے میں فیصلہ کرے اور اس دوران وکلاء نے عدالت میں سارے ثبوت پیش کردیئے ہیں نیز نیوزبراڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن،نیوز براڈ کاسٹنگ اسٹینڈر اتھاریٹی، پریس کونسل آف انڈیا کے پاس پہلے سے ہی سیکڑوں شکایتیں درج کی جاچکی ہیں لیکن اس پر ابھی تک انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی یہ ہی وجہ ہیکہ ہم عدالت سے گذارش کررہے ہیں وہ حکومت کو ہدایت جاری کرے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×