احوال وطن

چار مسلم نوجوانوں کی ضمانت پر اورنگ آباد سیشن عدالت میں 18؍اپریل کو سماعت متوقع

ممبئی: 16؍اپریل (پریس ریلیز) کورونا کی مہلک وبا سے ہندوستان سمیت پوری دنیا پریشان ہے اور حفاظتی اقدامات کو اختیار کرنے کی تلیقین کی جارہی ہے۔ ایسے میں مہاراشٹر کے ثقافتی شہر اورنگ میں 9؍اپریل کی شام پولیس اور پانچ مقامی نوجوانوں میں اس وقت مبینہ تکرار ہوگئی جب پولس نے انہیں ماسک نہ پہننے کی وجہ سے زدو کوب کیا جس کے بعد پولس نے مسلم نوجوان کو مارا بھی اور ان پر تعزیرات ہند کی دفعات 143, 149 ,188, 332, 333, 353, 594 ,507 ، 185 موٹر وہیکل ایکٹ اور 135 ممبئی پولیس ایکٹ کے تحت مقدمہ قائم کیا، اورنگ آ باد کے آنا بھاؤ ساٹھے نامی علاقے میں یہ واقع پیش آیا ۔
ملزمین کی پولس تحویل سے عدالتی تحویل میں منتقلی کے بعد جمعتہ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی ) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کی ہدایت پر ملزمین فاروق قادر شیخ، شیخ سمیر شیخ سلیم ، شیخ شارب شیخ فاروق اور شیخ شاہ رخ شیخ فاروق کی اورنگ آباد سیشن عدالت میں ایڈوکیٹ گھانیکر اور ان کے معاونین وکلاء ذکی شیخ اور توفیق احمد نے ضمانت عرض داشت داخل کی جسے سیشن عدالت کی جج ورشا میڈم نے سماعت کے لئیے قبول کرتے ہوئے استغاثہ کو آج اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا لیکن استغاثہ کی جانب سے آج عدالت میں جواب داخل نہیں کیا گیا اور وجہ بتائی گئ کہ پولس بندوبست میں مصروف ہے ،عدالت نے ضمانت عرضداشت پر جواب داخل کرنے کے لیے پولس کو دو دن کی مہلت دی ۔ استغاثہ کی جانب سے جواب آنے کے بعد دفاعی وکلاء ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت پر بحث کریں گے۔
ملزمین کی گرفتاری کے بعد سے ہی اورنگ آباد شہر جمعتہ علماء کے صدر حافظ عبدالعظیم اور لیگل سیل صدر مصطفی خان ان کے مقدمہ کی پیروی کررہے ہیں ۔
اس ضمن میں گلزار اعظمی کہا کہ ملزمین کی کے اہل خانہ کی جانب سے قانونی امداد کی درخواست موصول ہونے کے بعد اور مقدمہ کی تفصیل جاننے کے بعد ملزمین کو قانونی امداد مہیا کرنے کا فیصلہ کیا اور جمعتہ علماء اورنگ کے ذمہ داروں کو ملزمین کی جلد از جلد جیل سے رہائی کے لئیے کوشش کرنے کے لئیے اقدامات کرنے کا حکم دیا گیا ۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ٹریفک پولس اور دیگر پولس کے اہلکاروں نے ملزمین کے ساتھ زیادتی کی اور ان کے خلاف مقدمہ بھی قائم کردیا جس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جارہا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ پولس کی من گھڑت کہانی پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پولس نے اپنی فریاد میں کہا ہیکہ ملزمین نے تکرار کے پندرہ منت بعد واپس آکر انہیں زدو کوب کیا نیز ڈیوٹی پر مامور پولس والوں کے ساتھ زیادتی کی جو سراسر جھوٹ پر مبنی بیان ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×