ریاست و ملک

بابری مسجد ملکیت مقدمہ؛ تمام مسلم فریقوں کی جانب سے ہندو فریقوں کا جواب دینے پیش ہوں گے ڈاکٹر راجیو دھون

نئی دہلی: 2؍ستمبر (پریس ریلیز) بابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت تنازعہ مقدمہ میں آج ہندو فریق کی جانب سے 16 دنوں تک کی گئی بحث کا جواب دینے کے لئے جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون پیش ہوں گے اس معاملہ میں ڈاکٹر راجیو دھون تما م مسلم فریقوں کی طرف سے ہندو فریقوں کی بحث کا جواب دیں گے جنہوں نے اپنی بحث میں الزام عائد کیا ہے کہ مسجد غیر شرعی طریقے سے بنائی گئی تھی اور مسجد سے قبل اس جگہ پر رام مندر تھا۔گذشتہ 16 دنوں کی سماعت کے دوران شری رام براجمان (رام للا) کے وکلاء سینئر ایڈوکیٹ کے پرسارنن اور سی ایس  ویدیاناتھن، آل انڈیا ہندو مہاسبھا سوامی چکر پنی کے وکیل ورندر کمار، اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کے وکیل ایچ ایس جین، رام جنم بھومی پنر نرما سمیتی کے وکیل پی این مشرا، نرموہی اکھاڑہ کے وکیل ایس کے جین، گوپال سنگھ وشارد کے وکیل رنجیت کمار،شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے وکیل ایم سی دھنگرا ودیگرنے بحث کی اور عدالت کو بتایا کہ رام مندر مہندم کرکے بابری مسجد کی تعمیر کی گئی تھی۔ یہ تمام وکلاء سو ٹ نمبر 3 اور سوٹ نمبر 5 میں پیش ہوئے جس میں مسلم فریق مدعا علیہ ہیں۔اس معاملہ کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی آئینی بینچ جس میں چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی، جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں،دوران بحث آج عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ڈاکٹر راجیو دھون کی معاونت کرنے کے لیئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ قرۃ العین، ایڈوکیٹ کنور ادتیہ، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ سدھی پاڈیا، ایڈوکیٹ ایشامہرو و دیگر موجود رہیں گے۔ قابل ذکرہے کہ جمعیۃعلماء ہند بابری مسجد معاملہ میں اس کی شہادت سے پہلے سے ہی اس کے تحفظ اور تقدس کیلئے سر گرم رہی ہے۔1934ء میں جب بابری مسجد کی دیوار شہید کر دی گئی تھی،کتبے نکال دیئے گئے تھے اور مسجد کی دیواروں پر جگہ جگہ ”رام“لکھ دیا گیا تھا۔اس وقت کے جمعیۃعلماء ہند کے صدر حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ مفتی اعظم ہند نور اللہ مرقدہ ٗبہ نفس نفیس نہ صرف خود اجودھیا تشریف لے گئے تھے بلکہ آپ نے اعلان بھی کیا تھا کہ 21/ اپریل 1934ء سے جمعیۃعلماء ہند اپنے خرچ سے اور اپنے رضاکاروں کے ذریعہ مسجد کی مرمت کرکے اس کے تقدس کو بحال کریگی۔اس اعلان و اقدام کے بعد حکومت برطانیہ کانپ گئی اور اس نے اعلان کیا کہ مسجد کی مرمت کا کام وہ اپنے خرچ پر کریگی۔چنانچہ یہی ہوا برطانوی حکومت نے مسجد کی مرمت اور صفائی کا کام انجام دیا۔اسی طرح 23/ دسمبر1949ء کی شب میں جب دوبارہ مسجد میں بت رکھ کر اس کے تقدس کو داغدار کرنے کی کوشش کی گئی تو اس وقت کے جمعیۃعلماء ہند کے صدر اور جنگ آزادی کے عظیم سپاہی شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی ؒاور جمعیۃعلماء ہند کے جنرل سکریٹری مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی ؒ نے آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابو الکلام آزادؒ کی سر براہی میں وزیر اعظم ہندپنڈت جواہر لال نہرو سے ملاقات کی اور اپنے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔اور جمعیۃعلماء ہند کی مرکزی قیادت کے مشورہ سے سب سے پہلے جمعیۃعلماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا سید نصیر احمد صاحب فیض آبادی اور مولانا محمد قاسم شاہجہاں پوری جنرل سکریٹری نے جمعیۃعلماء ہند کی نمائندگی کرتے ہوئے فیض آباد کی عدالت سے 1950میں رجوع کیا۔ بابری مسجد کی شہادت  اور الٰہ آباد ہائی کورٹ کے 2010ء کے فیصلہ کو جس میں مسجد کی ملکیت کو تین حصوں میں تقسیم کردیا گیا تھا،سب سے پہلے جمعیۃعلماء ہند کے صدر محترم حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃعلماء اتر پردیش کے جنرل سکریٹری جناب حافظ محمد صدیق صاحب مرحوم نے سپریم کورٹ میں 30 /ستمبر 2010کو چیلنج کیا،جس کا سول اپیل نمبر 10866-10867/2010ہے۔ حافظ محمد صدیق صاحب کے انتقال کے بعد جمعیۃعلماء اترپردیش کے صدر مولانا سید اشہد رشیدی مدعی بنے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×