ریاست و ملک

رام کے نام پر غنڈہ گردی کرنے والوں کو بھاجپا لیڈر اپنے بیانات کے ذریعہ اُکسا رہے ہیں

نئی دہلی: 30؍جنوری (ذرائع) جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے گیٹ نمبر 7؍سے راج گھاٹ تک جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی نے مارچ کا اعلان کیا تھا مارچ اپنے وقت ٹھیک 12؍بجے سے شروع ہوکر پُر امن طریقہ سے راج گھاٹ کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اس بیچ جامعہ کے قریب چل رہے اس احتجاجی مارچ پر ایک شخص جس کا نام گوپال بتایا جارہا ہے نے فائرنگ کردی۔ پولیس نے اس شخص کی شناخت کرلی ہے ۔ پولیس کا کہناہے کہ حملہ آور نے چیخ چیخ کر ” جے شری رام کہتے ہوئے کہا کون آزادی چاہتا ہے؟ ، آؤ میں تمہیں گولی مار دوں گا اور پھر مظاہرین پر فائرنگ کردی ،اس واقعہ کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا نے برہمی کا اظہار کیا۔

صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے طلبا نے اس واقعہ کے لیے پولیس کو ذمہ دار ٹہرایا ہے۔ طلبا کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے لیڈر انوراگ ٹھاکر نے 2دن پہلے ایک انتخابی جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے ’’ دیش کے غداروں کو گولی مارنے کا نعرہ لگایاتھا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کا کہناہے کہ بی جے پی کے لیڈر وں کی جانب سے بعض لوگوں کو گولی مارنے کے لیے اکسایا جارہاہے۔

طلبا نے کہا کہ ہندوستان میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ احتجاجیوں پر گولی چلائی گئی ہے۔ احتجاجی طلبا کا کہناہے کہ بی جے پی کے لیڈر جامعہ ملیہ کے طلبا کو ملک کا دشمن سمجھ رہے ۔ طلبا نے ملک بھر میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے احتجاجیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خود اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں ۔احتجاجی طلبا نے اس واقعہ کی اعلیٰ سطحیٰ جانچ کروانے کا مطالبہ کیاہے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×