ریاست و ملک

سوشل میڈیا پر ججوں کو لے کر کئے جارہے ذاتی تبصرے ناقابل برداشت: مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد

نئی دہلی: 10؍ستمبر (عصر حاضر) مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے سینئر وکیل پرشانت بھوشن کی توہین عدالت معاملہ میں ایک روپے کے جرمانہ کی سزا سنائے جانے کے ایک ہفتہ کے اندر ہی سوشل میڈیا پر ججوں کو لے کر کئے جارہے ذاتی تبصروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزیر قانون نے عدلیہ پر ہورہے مسلسل حملوں کو انتہائی تشویشناک بتایا ۔ ایک انگریزی اخبار میں لکھے اپنے مضمون میں روی شنکر پرساد نے الزام لگانے کے اس نگیٹو ٹرینڈ پر سوالات کھڑے کئے ہیں ۔ انہوں نے لکھا کہ ججوں کو لے کر کئے گئے یہ ذاتی تبصرے برداشت کے قابل نہیں ہیں ۔ مرکزی وزیر قانون نے کانگریس کے ذریعہ چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی کوشش کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی ۔ انہوں نے کانگریس کی اس کوشش کو عدلیہ کی آزادی پر سب سے بڑا دھچکہ بتایا ہے ۔ انہوں نے لکھا کہ مفاد عامہ میں عرضی داخل کرنا اور پھر سوشل میڈیا مہم چلانا اور اگر حق میں فیصلہ نہ آئے تو پھر منفی تشہیر کرنا کہاں تک صحیح ہے ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ My Way or the Highway کا طریقہ اس وقت عدلیہ کی آزادی کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے ۔ روی شنکر پرساد نے لکھا کہ وزیر اعظم مودی سمیت سینئر بی جے پی لیڈروں نے ایمرجنسی کے دوران عدلیہ کی آزادی کی لڑائی کیلئے کافی کچھ برداشت کیا ہے ، اس وجہ سے عدلیہ کو لے کر مسلسل بڑھتے حملے تشویشناک حالات پیدا کررہے ہیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×