ریاست و ملک

سی اے اے احتجاج؛ محاذ پر شاہین باغ کی تین دادیاں بھی ڈٹ گئیں

نئی دہلی۔2؍جنوری: (ذرائع) شہریت ترمیمی ایکٹ کے حوالے سے ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔ لیکن دہلی کے شاہین باغ علاقے میں اس قانون کے خلاف جاری احتجاج انوکھا ہے۔جب عزم مستحکم اورجواں ہوتونہ سردی کی پرواہ ہوتی ہے اورنہ عمرکی،متنازعہ ایکٹ کے خلاف ایساہی معاملہ دیکھنے کو آرہا ہے جہاں عزم وہمت کے پہاڑ نوجوان ڈٹے ہوئے ہیں وہیں سرد راتوں میں بزرگ خواتین جمی ہوئی ہیں جواس عزم کااظہار نہایت دلیری سے کررہی ہیں کہ ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے، این آرسی ملک کے غریبوں کے خلاف ہے، سی اے سے دستور کے خلاف اور ملک کو تقسیم کرنے والا ہے۔ستر سال سے زائدکی عمرکی خواتین کا کہنا ہے کہ ایکٹ کی واپسی تک عزم سفرجاری رہے گا۔جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جہاں طلبہ،اساتذہ اورسول سوسائیٹی کے افراد پر زور احتجاج کررہے ہیں وہیں شاہین باغ کے مظاہروں کی قیادت شاہین باغ اور جامعہ نگر میں رہنے والی خواتین کر رہی ہیں اور سخت سردی کے باوجود پچھلے 15 دنوں میں کھڑی ہیں۔ اس احتجاج کی ایک اور انوکھی بات یہ ہے کہ اس میں تین بزرگ خواتین بھی شامل ہیں، جو سب کی توجہ مبذول کر رہی ہیں۔اسماء خاتون 90 سال کی ہیں۔ اسی وقت، بلقیس کی عمر 82 سال ہے اور سروری کی عمر 75 سال ہے۔ جب تین بزرگ خواتین سے ان کے مکمل نام پوچھے گئے تو انہوں نے طنزیہ لہجے میں کہاہے کہ ہم نہیں بتائیں گے کیونکہ ہمارے پاس دستاویزات موجود نہیں ہیں۔ یہ ہمارے خلاف ہوسکتا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ احتجاج میں حصہ لینے والی یہ تینوں بزرگ خواتین ا ب شاہین باغ کی دادی کے نام سے مشہور ہیں۔ این ڈی ٹی وی کے ساتھ خصوصی گفتگو میں،تینوں دادیوں نے بتایا کہ وہ احتجاج میں کیوں حصہ لے رہی ہیں۔تین بزرگوں میں سب سے بڑی اسماء خاتون کاکہناہے کہ مودی سے پوچھیں کہ ہم کیوں احتجاج کر رہے ہیں۔ ہمیں ایسا دن کیوں دیکھنا پڑا۔مجھے مظاہرہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ہوں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیوں یہ قانون واپس کراناچاہتی ہیں تو اسماء خاتون کا کہنا ہے کہ وہ ہم سے اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے دستاویزات دکھانے کوکہتے ہیں۔اس ملک میں بہت سے لوگ ہیں جن کے پاس کوئی کاغذ نہیں ہے۔ سیلاب اور بارش سے بہت سارے لوگوں کی دستاویزات بہہ گئیں۔ وہ کاغذ کہاں لائیں گے؟ میں مودی کو چیلنج کرتی ہوں کہ وہ اپنی 7 پشتوں کا نام لیں۔ میں آپ کو نوپشتیں بتاؤں گی۔تاہم، سی اے اے کی حمایت میں مظاہروں کے سوال پر، انہوں نے کہاہے کہ جولوگ اس قانون کو بخوبی نہیں جانتے، وہ اس کی حمایت میں کھڑے ہیں۔صرف مسلمان ہی مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں۔ آکر دیکھیں کہ مظاہرے میں شامل لوگوں کو کتنے لوگ کھانا دے رہے ہیں۔ وہ تمام مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ کوئی ہمیں کیلے دے رہا ہے، پھر کوئی پھل اورکچھ بسکٹ۔اسی وقت، 75 سالہ سرووری کا کہنا ہے کہ ہم یہاں پیدا ہوئے اور یہاں مرنا چاہتے ہیں۔ یہ قانون تقسیم کرنے ہی والا ہے۔ میں کوئی کاغذ نہیں دکھاؤں گی۔ یہ قانون ان لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو دستاویزات ظاہر نہیں کرسکتے ہیں۔میں اس کے ساتھ کھڑی ہوں۔جب ان تینوں دادیوں سے پوچھا گیا کہ وہ کب تک یہ کام انجام دیتے رہیں گی تو وہ کہتی ہیں ہے کہ ہمیں سردی محسوس نہیں ہوتی ہے۔ ہمیں سب کا تعاون حاصل ہو رہا ہے اور کم سے کم میں میں اپنی آنے والی نسلوں کو بتا سکتی ہوں کہ ہم نے ان کے حقوق کے لیے لڑائی لڑی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×