ریاست و ملک

مسلمانوں کو نظر انداز کرنے والا قانون ہم اپنی ریاست میں نافذ نہیں کریں گے: وزیر اعلی پڈوچیری

نئی دہلی: 27؍دسمبر (ذرائع) پڈوچیری کے وزیراعلیٰ وی نارائن سوامی نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ مسلمانوں کو نظر انداز کرنے والا اور ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور این آرسی کو اس مرکز کے زیر انتظام ریاست میں ‘کسی بھی حال’ میں نافذ نہیں کریں گے۔ کانگریس کے وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ سی اے اے اور این آرسی ‘برے ارادوں’ والا ہے اور حکومت کے ذریعہ ‘ہندتوا’ کے ہدف کو حاصل کرنے کے مقصد سے لایا گیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ کانگریس کے زیراقتدار ریاستوں نے فیصلہ لیا ہے کہ وہ سی اے اے اور این آرسی نافذ نہیں کریں گے اور’میں بھی پڈوچیری میں ایسا ہی کروں گا’۔

وزیراعلیٰ نے اٹھائے یہ سوال 

وزیراعلیٰ وی نارائن سوامی نے پی ٹی آئی – بھاشا کو فون پربتایا  ‘سری لنکا میں تمل لوگوں کے ساتھ استحصال ہوتا ہے۔ آپ نے انہیں کیوں چھوڑ دیا؟ یہی بات روہنگیا کے ساتھ ہے’۔ انہوں نے سی اے اے کے بارے میں کہا کہ اس میں سبھی مذاہب کو شامل کیا جانا چاہئے تھا۔ اسے کسی خاص مذہب کے لوگوں کے لئے درجہ بندی نہیں کی جانا چاہئے، جوکچھ بھی ہو، یہ پڈوچیری میں نافذ نہیں ہوگا’۔

وزیراعلیٰ نے کرن بیدی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا

صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند 23 دسبر کو  پڈوچیری کے سفر پر تھے اور اس دوران وزیراعلیٰ نے ان سے یہ کہتے ہوئےلیفٹیننٹ گورنر کرن بیدی کوفوری طور پر ریاست سے واپس بلا لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کرن بیدی مختلف اسکیموں کو نافذ ہونے میں رخنہ اندازی کر رہی ہیں۔  اس سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں صدرجمہوریہ سے اس پر ردعمل نہیں ملا ہے اور وہ اپنے الزامات پر اب بھی قائم ہیں۔

ملک کے اتحاد کو چوٹ پہنچا رہی ہے بی جے پی
وہیں کانگریس سکریٹری اورپڈوچیری میں پارٹی کے امورکے انچارج سنجے دت نے جمعرات کوالزام لگایا کہ بی جے پی نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) بناکر مبینہ طور پرملک کے اتحاد کوچوٹ پہنچائی ہے۔ اپنے معاونین کے ساتھ برسراقتدارکانگریس کے ذریعہ منعقدہ ایک ریلی میں سی اے اے اوراین آرسی کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی فرقہ وارانہ بنیاد پرملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرہی ہے اورملک کے اتھاد کو ٹھیس پہنچانے والے قانون کولے کرآئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اقتصادی صورتحال بدتر ہے اورنوٹ بندی جیسے اقدامات سے بحران پیدا ہوا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×