ریاست و ملک

طالبین صادقین کو اللہ تعالیٰ علم سے نوازتے ہیں

بنگلور: 23؍فروری (سبیل نیوز) آج بتاریخ ۲۸ جمادی الاخریٰ ۱۴۴۱ھ مطابق ۲۳ فروری ۲۰۲۰ء بروز اتوار، صبح تقریباًساڑے دس بجے دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور کی فوقانی مسجد میں حضرت مولانا عبدالقوی صاحب ، بانی ومہتمم جامعہ اشرف العلوم حیدرآباد کا پر مغز خطاب ہوا۔
پیش ازیں مہتممِ مدرسہ حضرت مولانا مفتی صغیر احمد صاحب رشادی دامت برکاتہم نے مہمانِ گرامی کا استقبال کرتے ہوئے تعارف کرایا نیز فرمایا کہ دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور میں روزِ اول ہی سے اکابر علماء و صلحاء تشریف لاتے رہے ہیں ، چنانچہ حضرت مولانا حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ، مہتمم دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ؒ ، حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی ، حضرت مولانا عاقل حسامی صاحبؒ حیدرآباد اور دیگر اکابر علماء یہاں تشریف لائے اور ہم نے ان سے استفاد ہ کیا۔
اسی طرح آج ہمارے درمیان حضرت مولانا عبدالقوی صاحب بانی ومہتمم جامعہ اشرف العلوم حیدرآباد تشریف فرما ہیں ، آپ ایک عظیم ادارہ چلا رہے ہیں، جس میں تقریباً بارہ سو طلبہ زیرتعلیم ہیں۔ حضرتِ والا حضرت مولانا مفتی سعید پرنامبٹ صاحب کے خلیفہ بھی ہیں۔
اس کے بعد حضرت مولانا عبدالقوی صاحب دامت برکاتہم نے طلبہ سے خطاب فرمایا ۔
آپ نے فرمایا:’’اس مدرسے سے اس ناچیز کاحضرت مفتی صاحب کے دور سے تعلق ہے ، محی السنۃ حضرت مولاناشاہ ابرارالحق صاحب ہردوئی رحمہ اللہ کے زمانے میں جب حضرت کی طبیعت کچھ ناساز ہوئی اور علاج کے لئے آپ کا بنگلور آنا ہوا تو ہم خدام بھی زیارت خدمت کے لئے بنگلور پہنچے تو حضرت نے پوچھا کیا تم لوگ سبیل الرشاد جا آئے ، ہم نے کہا کہ نہیں حضرت، جب سے پہنچے ہیں یہیں آپ کی خدمت میں ہیں۔ حضرت نے فرمایا کہ ضرور جا کر آو، اس موقع پر بھی یہاں آنا ہوا تھااور یہاں آکر محسوس ہوا کہ ہمارے بڑوں کی جگہوں پر ہمیں بار بار آنا چاہئے ۔
اللہ تعالیٰ طالب کو علم عطا فرماتے ہیں، وہ طلب بھی صادق ہونی چاہئے ، اس لئے آپ لوگ اپنے اندر طلبِ صدق پیدا کریں۔ پھر اس کے لئے کوشش بھی کریں۔ اپنے اساتذہ کی قدر کریں، ان سے خوب استفادہ کریں۔ اگر آپ کو اپنے اساتذہ کی خدمت میں بار بار حاضری کا موقع نہ ملے تو کم از کم یہ تصور کریں کہ ہم اساتذہ کی صحبت میں ہیں، اس سے بھی فائدہ ہوگا۔
ہمارے بڑے حضرت مولانا سید امیر حسن صاحب فرمایا کرتے تھے کہ طالب علم کو چاہئے کہ وہ کسی کو اپنا دوست بنائے نہ کسی کو اپنا دشمن، اس لئے کہ دوستی کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں اور دشمنی کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ طالب علم کی دوست صرف کتاب ہوتی ہے ۔طلبہ کتاب سے اپنا تعلق مضبوط کریں۔
گناہوں سے بالخصوص اجتناب کریں۔ اگر کبھی گناہ ہوبھی جائے تو صلوٰۃ الحاجۃ پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیں۔ گناہوں کی وجہ سے دل گندہ ہوجاتا ہے ۔ پھر علم کا نور حاصل نہیں ہوپاتا۔ علم اصل میں اللہ تعالیٰ کا نور ہے ، اگر آپ نے سو فیصد نمبر بھی امتحان میں حاصل کرلئے اور علم کا نور آپ کو نہیں ملا تو آپ عالم نہیں بن سکتے ۔
درسی کتابوں کے مطالعہ کے بعد اگر وقت بچتا ہوتو خارجی مطالعہ بھی کریں۔ اس سے آپ کو آج کل کے حالات کا اندازہ ہوگا۔ آج ہم لوگوں سے یہی بھول ہوئی کہ ہم نے دین کی حفاظت کرنے کے لئے اپنے آپ کو محدود کردیا ، جس کا نتیجہ یہ ہو اکہ دین کی حفاظت میں تو الحمد للہ ہم کامیاب رہے لیکن دیگر برادرانِ وطن سے ہمارے تعلقات کمزور ہوگئے اور ہمارے بارے میں وہ غلط فہمیوں کا شکار ہوگئے ۔ اس لئے اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور برادرانِ وطن کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے ۔
آپ کسبِ معاش کے سلسلے میں فکر مند نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے علماء کو گننے والا نہیں بنایا ، مگر ساری سہولتیں فراہم کی ہیں، اچھے سے اچھا آدمی جو کھاتا ہے الحمد للہ ہم بھی وہی کھاتے ہیں۔ یہ اللہ کا ہم پر فضل ہے ۔ اس لئے کسی احساس کمتری میں مبتلا نہ ہو ، اور پوری توجہ کے ساتھ اپنے اساتذہ سے استفادہ کریں۔ آپ کے اساتذہ یہاں آپ کے پاس ہمیشہ رہتے ہیں، اور ہمیں ان کی صحیح قدر نہیں ہوتی، جبکہ دور دور سے لوگ انہیں پہچان کر ان کی قدر کرتے ہوئے پہنچتے ہیں۔ آپ بھی قدر کریں۔
خطاب کے بعد مہمانِ گرامی نے دعا فرمائی اور حضرت مہتمم صاحب کی ایماء پر تمام طلبہ واساتذہ نے مہمانِ گرامی سے مصافحہ فرمایا ۔ طالب علم محمد حماد نے تلاوتِ آیات سے مجلس کا آغاز کیا تھا اور طالب علم محمد اطہر اللہ کولار نے حکیم الملت حضرت مولانا مفتی محمد اشرف علی صاحب کی مشہور زمانہ نعت ’’ آتش عشق نبی میں جل کے سکھ پانے کا نام ‘‘پیش کی تھی۔اس موقع پر جمیع اساتذہ و طلبہ دارالعلوم موجود رہے ۔

Related Articles

One Comment

  1. الحمدللہ ماشاءاللہ ۔۔۔ یہ جان بہت مسرت ہوئی کہ آج دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور میں میرے پیارے شیخ و مرشد حضرت مولانا شاہ محمد عبدالقوی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا بیان ہوا ۔۔۔ حضرت والا جنوبی ہند کے لئے خصوصا اور پورے ہندوستان کے لئے عموما اللہ تعالی کی طرف سے ایک نعمت عظمی ہیں، بندہ کا تعلق حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ سے بہت قدیم ہے ، بندہ کے حضرت ابا جان رحمہ اللہ علیہ جب ۱۹۸۱۔۔۔۸۲ میں مدرسہ فیض العلوم حیدرآباد میں محی السنہ علیہ الرحمہ کی طرف سے نائب ناظم بناکر بھیجے گئے تھے تب ۱۹۸۵ میں بندہ کی پیدائش ہوئی تھی جب حضرت والا بھی مدرسہ فیض العلوم ہی کے احاطہ میں رہتے تھے ، میری والدہ محترمہ بتاتی ہیں کہ حضرت والا کی والدہ صاحبہ مدظلہا نے تمہاری پرورش میں خوب حصہ لیا ہے ۔ تو یقینا بندہ کو بچپن میں حضرت والا کی مشفق گودی بھی ملی ہوگی ۔۔۔۔ خیر اب تو حضرت والا میرے شیخ ہیں آہ کتنے پیارے شیخ ہیں ۔۔ بس اللہ تعالی قدردانی کی توفیق عطاء فرمائے ۔ ان کی ہدایات پر صدق دلی سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
    بندہ نے چونکہ اپنا بچپن کا اکثر حصہ مدرسہ اشرف المدارس ہردوئی کے احاطہ مکان میں گذارا ہے کیونکہ ۱۹۸۸ میں حضرت والا شاہ ہردوئی نے ابا جان رحمہ اللہ علیہ کو ہردوئی بلالیا تھا اور نائب ناظم بنایا تھا اور پھر تاحیات بلکہ آخری لمحوں تک اسی منصب کی ذمہ داریاں ادا کرتے کرتے مالک حقیقی سے جا ملے ۔۔۔ اللہ تعالی شانہ ابا جان رحمہ اللہ علیہ کی بھرپور مغفرت فرمائے اور کروڑوں رحمتیں ان پر نازل فرمائے ۔ آمین ۔۔۔۔ تو بندہ نے بچپن میں حضرت محی السنہ علیہ الرحمہ کو خوب خوب دیکھا پھر شعور میں بھی خوب دیکھا ۔۔۔ بندہ نے ایک طویل عرصے کے بعد جب حیدرآباد کا سفر حضرت والا کے ہی حکم سے کیا تو بندہ نے حضرت مولانا عبدالقوی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے اندر محی السنہ علیہ الرحمہ کی بہت شباہت دیکھی ۔۔۔۔ کام وغیرہ اور مواعظ حسنہ بیان کرنے میں ۔۔۔۔ بہرحال حضرت والا ہم سب کے لئے نعمت عظمی ہیں ۔ اللہ تعالی شانہ قدردانی کی توفیق عطاء فرمائے ۔
    فقط والسلام ۔۔۔ محمد انوار خلیل ہردوئی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×