ریاست و ملک

ایودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ عالمی میڈیا پر بھی چھایا رہا‘ جانیے کس نے کیا کہا ؟

عصر حاضر: 10؍نومبر (اردو نیوز 18) بابری مسجد رام مندر مقدمہ میں سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ سنیچر 9 نومبر کو پوری دنیا میں سرخیوں میں بنا۔ اس فیصلے کو دنیا کے متعدد اہم اخبارات اور نیوز چینلوں نے ترجیح دی۔ کورٹ کے فیصلے اور تنازعہ کی تفصیلی معلومات دیتے ہوئے انہوں نے فیصلے پر اپنا رخ بھی واضح کیا ہے۔

امریکی اخباروں نے اس مسئلے پر یہ لکھا۔۔۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمس نے لکھا، ہندستانی کورٹ نے ایودھیا متنازعہ میں ہندوؤں کے حق میں فیصلہ سنایا۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا، ‘سپریم کورٹ نے ہندستان میں متنازعہ زمین پر مندر بننے کا راستہ صاف کیا’۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا،” ہندستانی سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیتے ہوئےمتنازعہ اراضی پر مندر بننے کا راستہ صاف کر دیا ہے۔ مسلم فریق کو الگ سے پانچ ایکڑ زمین دینے کا بھی حکم دیا گیا ہے’۔

برطانوی میڈیا میں بھی چھایا رہا یہ مسئلہ۔۔۔۔

دا گارڈین نے لکھا ، ‘ایودھیا فیصلہ: متنازعہ اراضی پر ہندو فریق نے جیتاکیس’۔ متحدہ عرب امارات کے اخبار گلف نیوز نے لکھا ہے ، ‘ ہندوؤں کو متنازعہ اور مسلمانوں کے لئے متبادل زمین ‘۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے ذریعہ سنائے جانے والے فیصلے کے تمام اہم پوائنٹس پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

خلیجی ممالک اور پاکستان کے اخبارات نے دی اہمیت

قطر میں واقع نیوز چینل الجزیرہ نے بھی اپنی ویب سائٹ میں ایودھیا فیصلے سے متعلق متعدد نیوز رپورٹس کو اہمیت دیتے ہوئے شائع کیا ہے۔ پاکستان کے معروف اخبار ڈان نے متنازعہ اراضی کو ہندوؤں اور مسلمانوں کو متبادل اراضی کے طور پر دینےوالی بات کو سرخی بنایا۔ ڈان نے اس فیصلے کے اس پوائنٹ کا بھی ذکر کیا جس میں پانچ رکنی بنچ نے متنازعہ ڈھانچے کو مسمار کرنے کی بات قبولی تھی۔

اگر پاکستان کی بات کریں تو وہاں پر اس فیصلے پر سوال ہی اٹھائے گئے۔ پھر چاہے وہاں کے لیڈر ہوں یا پھر وہاں کی میڈیا۔ پاکستانی لیڈران کے بیان پر ہندوستان نے دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسے ہندستان کے اندرونی معاملوں پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہیں پاکستانی چینل جیو ٹی وی نے لکھا ہے۔ ہندستانی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین مندر کیلئے دے دی۔ مسلم فریق کو دوسری جگہ زمین دینے کو کہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×