ریاست و ملک

نئی تعلیمی پالیسی پر زعفرانی رنگ نہ چڑھایا جائے: مفتی سید محمد عفان منصورپوری

امروہہ: 10/جنوری (سالار غازی) اج جامع مسجد امروھہ میں مرکزی حکومت کی طرف سے تیار کردہ نئی تعلیمی پالیسی کے خد و خال پر گفتگو کرتے ھوئے معروف عالم دین مفتی سید محمد عفان منصور پوری نے کہا کہ موجودہ وقت میں اس نظریاتی حملے کو سمجھنے کی اور اس کے توڑ کی تدابیر اختیار کرنے کی اشد ضرورت ھے اس لئے کہ کسی بھی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی آئیڈیالوجی ، نظریہ سوچ وفکر اور شناخت و پہچان ھوا کرتی ھے ، جو قوم اپنے نظریے اور پہچان سے محروم ھو جاتی ھے اس کا وجود مٹ جاتا ھے ، مسلم امت کو بھی بحیثیت مسلمان ایک خاص نظریہ اور سوچ وفکر کا حامل بنایا گیا ھے جس کی حفاظت بہر صورت ھر مسلمان کے لئے لازم اور ضروری ھے ۔
مفتی صاحب نے کہا کہ موجودہ حالات میں ھندی مسلمان دو محاذوں پر جنگ لڑرھا ھے اگر ایک طرف اپنے جان و مال کی حفاظت اور وجود و بقاء کا مسئلہ ھے تو دوسری طرف اپنی آئیڈیالوجی اور شناخت و پہچان کے تحفظ کی جنگ ھے اور ھم سمجھتے ہیں کہ یہ لڑائی جان و مال کی حفاظت سے زیادہ اھم لڑائی ھے اس لئے کہ پہلی جنگ ھارنے کے نتیجہ میں زیادہ سے زیادہ جان چلی جائیگی لیکن ایمان باقی رھیگا لیکن دوسری جنگ ھارنے کے نتیجہ میں نہ صرف یہ کہ ھمارا بلکہ آنے والی نسلوں کا ایمان بھی جا سکتا ھے ، اللہ حفاظت فرمائے ۔
مرکزی حکومت نے جو نئی تعلیمی پالیسی وضع کی ھے وہ اس لحاظ سے بڑی خطرناک ھے کہ اسے ایک خاص رنگ میں رنگا گیا ھے اور انگریزوں کی طرح ایسا نصاب تعلیم اسکولوں میں جاری کرنے کی پلاننگ ھے جسکو پڑھنے والے طلبہ اپنی تہذیب و کلچر کو بھول کر دوسروں کی تہذیب کو قبول کرنے والے بن جائیں ، نئی تعلیمی پالیسی کی رو سے تیسری کلاس ھی سے ھر اسکول میں وھی کتابیں پڑھانی ھوں گی جو سرکار طے کرے گی اب تک پرائیوٹ اسکول اپنے طور پر ھائی اسکول سے پہلے دینیات کے نام پر جو کتابیں پڑھایا کرتے تھے ان کی بھی گنجائش نہیں رہ جائیگی اور پہر آرٹ کے نام پر اسکولوں میں ایسے اعمال کو لازم کردیا جائیگا جو روح اسلامی کے صریح منافی ھے جیسے بھجن، کیرتن، سوریہ نمسکار اور یوگا وغیرہ ، اس لئے مسلمانوں کو نئی تعلیمی پالیسی کا مقابلہ کرنے کے لئے بہترین حکمت عملی طے کرنی ھوگی اور اپنے بچوں کو دین کت بنیادی عقائد ومسائل سکھانے کے لئے ٹھوس اور معقول بندوبست کرنا ھوگا ورنہ آنے والی نسلیں ھمیں معاف نہیں کریں گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×