ریاست و ملک

حیدرآباد کی تین مساجد کی شہادت، حکومت تلنگانہ کا بالکل غلط اور جارحانہ اقدام

نئی دہلی :30 ؍جولائی: (پریس ریلیز) حیدرآبادشہر کی تین مسجدوں کوحکومت تلنگانہ نے شہید کردیاہے اورمسلمانوں کے احتجاجی تیورکے پیش نظرحکومت تلنگانہ کے ایک ذمہ دارنے مسجد کی دوبارہ تعمیرکاتیقن دیاہے جوبالکل ناکافی ہے ،یہ مسجدیں وزیراعلی تلنگانہ کے حکم کے بغیر شہید نہیں کی گئی ہیں اس لئے انہیں چاہئے کہ وہ خود مسجد کے سلسلہ میں اگلے پروگرام کاواضح اعلان کریں ،یہ باتیں ایک صحافتی بیان میں آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈکے جنرل سکریٹری حضرت مولانامحمد ولی رحمانی صاحب نے کہیں،انہوں نے یہ بھی کہاکہ چیف منسٹر اس حقیقت کے واقف ہوں گے کہ مسجدیں نہ بیچی جاسکتی ہیں ،نہ منتقل کی جاسکتی ہیںاور نہ ہی ان کاکسی دوسری جگہ تبادلہ ہوسکتاہے ۔یہ مسجدیں سرکار ی افسروں کی طرح نہیں ہیں جن کاتبادلہ چیف منسٹر اپنی رائے سے کردیاکرتے ہیں ،حضرت مولانارحمانی صاحب نے کہاکہ مسجدکی قانونی اورشرعی حیثیت ہے اوراس کیلئے سینٹرل وقف ایکٹ موجود ہے اورشرعاًجوجگہ مسجد کیلئے استعمال کی جاتی ہے وہ ہمیشہ کیلئے محترم ہے اوربرابر مسجد رہتی ہے ،انہوں نے کہاکہ جن تین مسجدوں کوشہید کیاگیاہے انہیںاسی جگہ پربنوائی جائے اورنہیں مسجد کے استعمال میں رکھاجائے ۔ حضرت مولانارحمانی صاحب نے شدید حیرت کااظہار کیاکہ وزیر اعلی مسجد کے سلسلہ میں حیدرآباد کے لوگوں کے وفد سے ملاقات کاوقت نہیں دے رہے ہیں جوایک جمہوری ملک میں انتہائی غلط اورجمہوریت کے خلاف اقدام ہے، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلم پرسنل لابورڈکے حید رآباد ی ارکان اورشہرکے دینی حلقہ کے لوگوں سے ملاقات کریں اوراس معاملہ کوصحیح رخ پرحل کردیں،یہ مسئلہ صرف حیدرآباد کانہیں ہے بلکہ پورے ملک کے مسلمانوں کاہے اوردینی شعائر کی حفاظت کاہے جس کی گارنٹی بھارت کے آئین نے واضح طور پردے رکھی ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×