اسلامیات

رمضان المبارک میں کلمۂ طیبہ کی کثرت

’استقبالِ رمضان‘ میں صحیح ابنِ خزیمہ میں ایک طویل حدیث وارد ہوئی ہے،جس میں ہے کہ رمضان المبارک میں کلمۂ طیبہ کی کثرت کرنی چاہیے۔ اس لیے ہمیں رمضان المبارک میں اس پاک کلمے کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ اسی لیے یہاں کلمۂ طیبہ کے فضائل پر چند احادیث پیش کی جاتی ہیں:
دوزخ کی آگ حرام
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ (ایک مرتبہ) آپ ﷺ کے ہمراہ آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے سوار تھے۔ رسول اللہ ﷺنے  فرمایا: اے معاذ بن جبل! انھوں نے عرض کیا: لبیک و سعدیک اے اللہ کے رسول! آپﷺ نے فرمایا: اے معاذ! انھوں نے عرض کیا: لبیک و سعدیک اے اللہ کے رسول! تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا: جو کوئی سچّے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ)اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ اُس پر (دوزخ کی) آگ حرام کردیتا ہے۔ حضرت معاذ نے کہا: اے اللہ کے رسول!کیا میں لوگوں کو اس کی خبر کردوں، تاکہ وہ خوش ہوجائیں؟ آپ ﷺنے فرمایا:اگر تم انھیں اِس کی خبر کر دوگے تو لوگ اِسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے اور عمل سے باز رہیں گے۔ حضرت معاذ نے یہ حدیث اپنی موت کے وقت اِس خوف سے بیان کردی کہ کتمانِ علم پر مواخذہ نہ ہوجائے۔[بخاری، مسلم] اللہ تعالیٰ کے قلعے میں داخلہ
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں؛ میں نے حضورﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: آپ فرما رہے تھے کہ میں نے جبرئیل سے سنا؛ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں اللہ ہوں، میرے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں ۔ اے میرے بندو ! جو میرے پاس اس حال میں آیا کہ اخلاص کے ساتھ لاالہ الا اللہ کی شہادت دے رہاہو، وہ میرے قلعےمیں داخل ہوجائے گا، اور جو میرے قلعے میں داخل ہوگیا، وہ میرے عذاب سے مامون ہوگیا۔[کنزالعمال] اللہ تعالیٰ کی نظر رحمت کا باعث
ایک حدیث میں ہے:کسی بندےنے اخلاص کے ساتھ لاالہ الا اللہ نہیں کہا مگر وہ کلمہ اوپرجاتا ہے اور اُس کو کوئی حجاب مانع نہیں ہوتا، لہٰذا جب وہ بارگاہِ الٰہی میں پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کے کہنے والے کی طرف نظر فرماتے ہیں اور اللہ پر حق ہے کہ جب بھی اپنے کسی توحید پرست کی طرف نظر فرمائیں تو رحمت کی نظر فرماتے ہیں۔[کنزالعمال] آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اخلاص کے ساتھ لا الٰہ الا اللہ کہتا ہے، اُس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ (کلمہ) عرش تک پہنچ جاتا ہے اور یہ اسی صورت میں ہوتا ہے کہ کہنے والا کبائر سے بچتا رہے۔[ترمذی، سنن کبریٰ نسائی] اخلاص کا مطلب
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سےروایت ہے:جس نے اخلاص کے ساتھ لاالہ الا اللہ کہا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ دریافت کیا گیا: اخلاص کاکیامطلب ہے؟ فرمایا: وہ کلمہ تمھیں اللہ کی حرام کردہ اشیا سے روک دے۔[کنزالعمال] صبح و شام کلمے کی برکت
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: جس نے صبح کے وقت لا الہ الا اللہ کہا، پھر شام کے وقت بھی کہا، تو ایک منادی آسمان سے نِدا دیتا ہے : آخری کلمے کو پہلے کے ساتھ ملاؤ اور دونوں کے درمیان جو بھی (صغیرہ گناہ) ہو، اُس کو چھوڑ دو۔[کنزالعمال] اسلام کی تازگی کا ذریعہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! لا الہ الا اللہ کی شہادت کے ساتھ اسلام کو تازہ کرتے رہا کرو۔ [کنزالعمال] قیامت میں میزانِ عمل بھاری ہو جائے گا
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے حجۃالوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ استغفار کے وقت تمھارےگناہوں کو معاف کردیتے ہیں، جس شخص نے سچّی نیت کے ساتھ استغفار کیا اس کی مغفرت ہوجاتی ہے، جس نے لا الہ الا اللہ کہا اس کا میزان بھاری ہوجاتا ہے، جس نے مجھ پر درود بھیجا، قیامت کے دن میں اُس کی شفاعت کروں گا۔[کنزالعمال] ستّر ہزار مرتبہ کلمہ پڑھنے کی برکت
ملا علی قاریؒ نے مشکوٰۃ کی شرح مرقاۃ میں یہ حدیث نقل کی ہے: مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ سَبْعِیْنَ اَلْفًاغُفِرَلَہٗ۔ جو شخص ستر ہزار مرتبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ پڑھے یا پڑھ کر کسی کو بخش دے، تو جس کو ثواب بخشا جائے گا، اُس کی مغفرت ہوجائے گی اور پڑھنے والے کو بھی بخش دیا جائے گا۔اور اس حدیث کے تحت لکھا ہے کہ شیخ محی الدین ابن عربیؒکے دسترخوان پر ایک نوجوان آیا، جو اُس زمانے کا ولی اللہ تھا۔اُس نوجوان کا کشف بہت مشہور تھا۔ اُس نے کھانا شروع کیا تو کھاتے کھاتے زور زور سے رونے لگا۔شیخ نے پوچھا: تم رو کیوں رہے ہو؟اُس نے کہا:میں اپنی ماں کو عذاب میں دیکھ رہاہوں۔ شیخ کے پاس ستر ہزار مرتبہ لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ کا ثواب جمع تھا، انھوں نے اس کے کشف کو آزمانے کےلیے دل ہی دل میں کہا:یَا اَللہْ! فَوَھَبْتُ لِاُمِّہٖ ثَوَابَ تَحْلِیْلَۃِ الْمَذْکُوْرَۃِ میں نے اس کی ماں کو ستر ہزارلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کا ثواب بخش دیا۔ وہ نوجوان ہنسنے لگا۔ شیخ نے پوچھا:تم ہنس کیوں رہے ہو؟ اُس نے کہا:میں اپنی ماں کو جنّت میں دیکھ رہا ہوں۔شیخ فرماتے ہیں:اُس کے کشف سے میرا اس حدیث کی صحت پر اور حدیث کی صحت سے اُس کے کشف پر یقین اور بڑھ گیا کہ یہ واقعی اللہ کا ولی اور صاحبِ کشف ہے۔[مرقاۃ المفاتیح]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×