اداریہسیاسی و سماجی

کورونا کی وباء سے میڈیا کے وائرس تک

اس وقت پوری دنیا میں تبلیغی مرکز بنگلہ والی مسجد واقع حضرت نظام الدین ؒ بستی کو لیکر فکر مند ہے‘قومی میڈیا کورونا وائرس کے اس حساس مسئلہ کو یکایک فرقہ وارانہ رنگ دے کر وائرس کے سدِ باب پر مرکوز سب کی توجہات کو منتشر کرچکا ہے۔ تبلیغی جماعت چونکہ خالص مذہبی جماعت ہے ‘اس جماعت کا جہاں دیگر غیر مذہبی مسائل سے کچھ لینا دینا نہیں ہے وہیں ذرائع ابلاغ سے بھی دور کا واسطہ نہیں ہے۔ ایسے میں اس قضیہ کو لیکر کوئی بھی فیصلہ کن نتیجہ پر نہیں پہنچ پارہا ہے کہ آخر یہ قضیہ کیاہے؟ تو آئیے تفصیلی طور پر ہم اس پر ایک نظر ڈالیں اور پورا معاملہ سمجھیں!
جنتا کرفیو کے بعد سے مرکز میں کوئی پروگرام منعقد نہیں ہوا۔
13؍سے 15؍مارچ کے درمیان جو جوڑ ہوا تھا اس میں شرکت کے لیے آئے تمام ساتھی اپنے گھرو اپس لوٹ گئے۔
نظام الدین مرکز چونکہ عالمی حیثیت رکھتا ہے تو یہاں پر کم و بیش پانچ ہزار افراد ہمیشہ ہی قیام کرتے ہیں ۔
جنتا کرفیو کے دن یعنی 22؍مارچ کو دہلی حکومت کی جانب سے ایک ہفتہ کا لاک ڈاؤن اور پھر 24؍مارچ کو وزیر اعظم کی جانب سے 21؍دنوں کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا۔ وزیر اعظم نے پورے ملک کے باشندوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جو جہاں ہے وہیں پر قیام کرلے۔ نیز جنتا کرفیو کے بعد تمام ٹرانسپورٹنگ لائینیں مسدود کردی گئیں۔وزیر اعظم کی اس اپیل پر عمل کرتے ہوئے مرکز نظام الدین میں موجود افراد کی تعدادجس کو مرکز نے اپنے خطوط میں 1500؍سے زائد لکھا ہے‘(سرکاری ذرائع کے مطابق 2100؍ افراد)وہیں پر قیام کرنے پر مجبور ہوگئے۔
مرکز کے تمام ذمہ داروں نے اس بات کے لیے مسلسل کوشش کی کہ دہلی حکومت مرکز میں پھنسے ہوئے لوگوں کو وہاں سے نکالے اور بعافیت اپنے گھروں تک پہنچنے کی اجازت فراہم کریں۔ لیکن دہلی حکومت اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔
26؍مارچ کو محکمۂ پولیس کی جانب سے مرکز کے اندرون ویڈیوز نکالے گئے۔ جس کو اے این آئی نے یکم اپریل کو شئیر کیا اور اندرونی مناظر بتاتے ہوئے لکھا کہ مرکز میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لوگوں کی حالت دیکھیے یہ ویڈیو محکمۂ پولیس سے ملی ہے۔
27؍مارچ کو جمعہ کا دن تھا اور جمعہ کو دہلی کے مقامی افراد کی کثیر تعداد نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مرکز پہنچتی ہے اسی مناسبت سے محکمۂ پولیس کا عملہ مرکز کے اطراف سرگرم ہوگیا اور کڑی نگرانی کرنے لگا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونا شروع ہوگئی اور یہاں سے افواہوں کا بازار گرم ہونے لگا۔
30؍مارچ کو قومی میڈیا پر رفتہ رفتہ وائرس کی وباء کو نظام الدین مرکز سے جوڑ کر دکھانا شروع کیا اور یہ بتلایا گیا کہ تمل ناڈو سے یہ خبر موصول ہوئی کہ مرکز سے لوٹے ایک ساتھی فوت ہوگئے ہیں۔ حالانکہ ذمہ داروں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ ان کی موت طبعی تھی ۔ پھر اسی تاریخ کو دہلی پولیس نے مرکز کا مکمل محاصرہ کیا اور اس محاصرہ میں مرکز کے اطراف کی کالونیوں کو بھی مکمل طور پر سیل کر دیا گیا اور یہاں پر موجود ملک و بیرونِ ملک تمام لوگوں کی جانچ کرنی شروع کردی۔ ڈرون کیمروں سے نگرانی کی گئی جس سے مسئلہ کو حد سے زیادہ حساس سمجھا جانے لگا۔ اسی دن ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ٹیم بھی مرکز پہنچی اور مرکز میں موجود افراد کا جائزہ لیا ۔ مرکز کے ذمہ داروں کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ اگر یہاں پر کورونا وائرس ہوتا تو اب تک کئی لاشیں نکل جاتی‘کورونا کا اتنا خوفناک اثر یہاں پر دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن اسی دن سے مرکز کو خالی کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور وہاں پر موجود جن لوگوں کو کھانسی‘سردی‘نزلہ کی شکایت تھیں ایسے 200؍لوگوں کو پہلے دن یعنی 30؍مارچ کو لوک نایک ہاسپٹل وغیرہ میں بغرض چیک اپ منتقل کیا گیا اور دوسرے دن یعنی 31؍مارچ کو یہ تعداد بڑھ کر 441؍ ہوگئی ۔ اس میں سے 31؍مارچ کو وزیر صحت دہلی ستیندر جین کے مطابق 24؍افراد اور یکم اپریل کو سرکاری ذرائع دہلی سی ایم او ٹوئٹر کی اطلاع کے مطابق 53؍افراد میں کورونا کے آثار پائے گئے ہیں۔ اروند کیجریوال کے مطابق مزید دو دنوں میں دواخانوں میں موجود تما م ساتھیوں کی رپورٹ سامنے آجائے گی۔ ان 441؍افراد کے علاوہ جتنے لوگ بھی مرکز نظام الدین میں موجود تھے انہیں مختلف آئی سولیشن سنٹروں میں رکھ دیا گیا۔ مرکز میں موجود تمام افراد کو منتقل کرنے کا سلسلہ 31؍مارچ اور یکم ؍اپریل کی شب کے درمیان تک چلتا رہا اور تقریبا رات 3:30؍بجے مرکز کو تالا لگا دیا گیا۔
30؍مارچ کو ریاست تلنگانہ کے سی ایم آفس کے ٹوئٹر ہینڈل سے اچانک یہ خبر چلائی گئی کہ ریاست بھر میں مرکز نظام الدین سے لوٹے 6؍افراد کورونا وائرس کے سبب فوت ہوگئے ہیں۔ واضح ہو کہ ان تمام کی کورونا کی جانچ موت کے بعد ہوئی ہے۔ چونکہ ایک دن قبل ریاستی وزیر اعلی نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بتادیا تھا کہ ہماری ریاست میں آج کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔ دوسرے دن شام تک کسی کو بھی نئے کیس کی اطلاع نہیں ملی لیکن یکایک ٹوئٹر ہینڈل سے میسیج نکلا اور سیدھے کورونا اموات کی لسٹ میں 6؍افراد کا اضافہ ہوگیا۔ یہاں پر یہ تذکرہ بھی ضروری ہے کہ جن لوگوں کی موت واقع ہوئی ہیں اس میں سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ لوگ قلب پر حملہ کے باعث فوت ہوگئے۔کورونا وائرس کے آثار میں اس کا ذکر نہیں ہے‘ اس کی تحقیق نہیں ہوسکی۔ باقی والله اعلم ۔ تلنگانہ حکومت کے اعلان کے بعد قومی میڈیا کا رویہ یکسر تبدیل ہوگیا اور بدتمیزی کا ایک سیلاب امڈ پڑااور کورونا وائرس کا پورا سہرا مرکز کے سر ڈالنے کی مذموم کوشش شروع کردی گئی اور مسلمانوں کو اس کے پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا جانے لگا۔
30؍مارچ کو ہی مرکز نظام الدین کے قضیہ پر اروند کیجریوال نے لیفٹیننٹ گورنر سے یہ درخواست کی کہ مرکز میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی ہوئی ہے اس پر ایف آئی آر درج ہونا چاہیے‘جس پر مرکز کے ذمہ داروں کی جانب سے ایک پریس ریلیز کے ساتھ وہ لیٹر پیش کیے گئے جن میں متعدد بار دہلی پولیس سے درخواست کی گئی تھی کہ مرکز میں موجود افراد کو اپنے گھر واپسی کی شکلیں بنائی جائیںاور مرکز کو خالی کروایا جائے۔مرکز کے ذمہ داروں کا کہنا تھا کہ ہماری بات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
31؍مارچ کو وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اپنی پریس کانفرنس میں صاف کہا کہ ہم ایسے لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے جنہوں نے لاک ڈاؤن اصولوں کی خلاف ورزی کی ہو۔ اور ان افسران کو بھی نہیں بخشا جائے گا جنہوں نے لیٹر پہنچنے کے باوجود بھی کوئی کارروائی نہیں کی ۔پریس کانفرنس کے کچھ دیر بعد ہی دہلی پولیس نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا سعد صاحب اور دیگر احباب کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔مولانا سعدصاحب کے بشمول چھ افراد پر ایف آئی آر درج کروایا گیا ‘ جس میں مولانا سعدصاحب‘ ڈاکٹر ذیشان‘ مفتی شہزاد‘ ایم سیفی‘ یونس اور محمد سلمان شامل ہیں۔ مولانا سعد صاحب پر سرکاری ہدایات کی خلاف ورزی پر دفعہ 269 ، 270 ، 271 اور 120-B IPC کے تحت اور مولانا سعد صاحب و دیگر افراد کے خلاف وبائی امراض بیماری ایکٹ 1897 کی خلاف ورزی کے سبب ایف آئی آر درج کیا گیا۔جس کی تحقیق سائبر کرائم کرے گی اور اپنی رپورٹ داخل کرے گی پھر اس پر مقدمہ چلے گا۔
مولانا سعد صاحب کی آڈیو کلپ کو مرکز کی موجودہ صورتحال کے عنوان سے جو وائرل کیا گیا وہ آڈیو کلپ 30؍مارچ کی ہے‘ اور 30؍مارچ کو یہ آڈیو بشکل آڈیو چلتی رہی اور پھر 31؍مارچ کو ویڈیو کی شکل دے دی گئی ۔جو یکم اپریل تک چلتی رہی۔ اس درمیان متعدد آڈیو ویڈیو کلپ موصول ہوتے رہے۔ جس سے حقیقتِ حال کا صحیح پتہ کرنا دشوار ہوگیا۔یکم اپریل کو ممبئی اردو نیوز اخبار کا تراشہ سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوا جس میں مولانا مطیع الرحمن حیدرآبادی کے حوالہ سے کہا گیا کہ مرکز کے کسی بھی فرد میں کورونا نہیں پایا گیا۔ حالانکہ سرکاری ذرائع سے اس کے بر عکس خبریں آرہی ہیںاور یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ سرکاری ذرائع محض اٹکلوں کی بنیاد پر نہیں حقیقت کی بنیاد پر پیش کی جاتی ہیں۔ سرکاری ذرائع سے کورونا کی مصدقہ خبروں میں مرکز کا بھی باضابطہ ایک کالم شامل کردیا گیا جس میں تا دم تحریر 53؍افراد کا ذکر ہے۔
30؍مارچ کی صبح ہی سے اکثر ریاستوں میں مرکز نظام الدین سے واپس ہوئے افراد سے متعلق حکومتیں سرگرم ہوگئیں اور جوڑ میں شریک ہوئے ہر فرد کو ٹیسٹ کروانے کی ہدایات جاری کردی گئیں۔
اس تفصیلی جائزہ کے بعد معاملہ اس قدر شفاف ہوجاتا ہے کہ مرکز کسی بھی اعتبار سے قصور وار نہیں ہے اور نہ کسی بھی لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کے ارتکاب کیے ہوں۔جوڑ 13؍تا 15؍مارچ منعقد ہوا اور لوگ اپنے اپنے گھر لوٹ گئے۔ اس وقت ملک بھر میں مختلف مذہبی ‘سیاسی و غیر سیاسی ‘ نجی تقریبات یہاں تک کہ پارلیمنٹ کا سیشن بھی برابر چلتا رہا۔ اسی درمیان کنیکا کپور کا مسئلہ بھی بڑی تیزی سے چلتا رہا جس کی وجہ سے اراکینِ پارلیمنٹ کی بڑی تعداد بھی متأثر تھی اور پھر یہ لوگ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے دئیے گئے ناشتہ کی دعوت میں بھی شرکت کیے تھے۔ جس کو میڈیا مکمل نظر انداز کرتے ہوئے جانب داری کا ثبوت دیا۔ حکومت کا جنتا کرفیو اور لاک ڈاؤن نہایت غیر منظم تھا جس کی وجہ سے پورا ملک دشواریاں جھیل رہا ہے‘لاکھوں مزدور فاقہ کرنے پر مجبور ہوگئے۔ دارالحکومت دہلی کے آنند وہار کی تصویریں اس بات کی شاہد ہیں کہ کورونا وائرس کے سنگین خطرہ سے نمٹنے کے لیے حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ جو جہاں تھے وہیں پھنس کر رہ گئے ۔ ریاستی حکومتوں کی یقین دہانی پر اپنے گھروں تک پیدل چلنے اور بسوں کے انتظام سے استفادہ کے لیے لوگ سڑکوں پر نکل پڑے اور وائرس کے خطرے سے زیادہ اپنی جان کو جوکھم میں ڈال کر سینکڑوں کیلو میٹر کی دوریوں کو طے کرنا شروع کیےاور بعض لوگ اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی لقمہ أجل بن گئے۔
ایسے میں مرکز میں موجود 1500؍سے زائد لوگوں کی اپنے گھروں اور اپنے وطن تک واپسی کیسے ممکن ہوپاتی۔ جس حکومت نے یہ اقدام کیا ہے اسی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو گھروں تک پہنچانے کا بندو بست کریں اور ان کے کھانے رہنے کا خیال رکھیں؛ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اُلٹا چور کوتوال ڈانٹے کے مصداق مرکز کے ذمہ داروں پر ہی ایف آئی آر کروادیا گیا۔
جن لوگوں کو دواخانوں میں یا آئی سولیشن سنٹروں میں رکھا گیا امید ہے کہ وزارت صحت کی جانب سے طے شدہ ایام مکمل کرکے بہت جلد اپنے گھروں کے لیے واپس ہوجائیں گے۔ وائرس سے متأثرہ افراد کی تو علاج کے بعد ہی واپسی ممکن ہوگی۔ بیرون ممالک سے آنے والے تمام ساتھیوں کے ویزے سے متعلق مختلف خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن الله تعالی کی ذاتِ عالی سے امید قوی ہے کہ وہ بھی بعافیت اپنی منزل رواں دواں ہوجائیں گے۔ رہی بات مقدمہ کی تو یہ مقدمہ بالکل منافقانہ طریقہ سے درج کیا گیا ہے ۔ دہلی کے وزیر اعلی کے پاس تو پولیس کا پاور بالکل بھی نہیں ہے اسی لیے انہوں نے ایل جی سے ایف آئی آر کی مانگ کی اور ایل جی کے توسط سے مقدمہ درج کروایا گیا ‘مرکز کے پاس بھی کافی ثبوت موجود ہیں کہ انہوں نے وہاں سے لوگوں کو نکالنے کی مزاحمت کی اور مسلسل کوشاں رہے۔ قصوروار تو وہ افسران ہیں جنہوں نے اس پر کسی قسم کی توجہ نہیں دی۔
بہر حال اب مرکز نظام الدین کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ وہ ایسے نازک موقع پر کوئی بڑی چوک نہ کریں اور خود پریس کانفرنس کرکے مرکز کے اس قضیہ کو واضح کردے تاکہ پوری دنیا کے سامنے صحیح بات چلی جائے ۔چونکہ تبلیغی جماعت سے ملک و بیرون ملک بہت بڑی تعداد وابستہ ہےاور اس وقت ہر کوئی اپنی جانب سے دفاع کے لیے کوشاں ہیں ۔ مرکز کو تالا لگنے کے باوجود کچھ لوگ ابھی تک یہی کہہ رہے ہیں کہ حالات سب قابو میں ہےمعمول کے مطابق چل رہے ہیں۔ اسی لیے مرکز ہی سے صحیح طرح کی پریس کانفرنس ہوجائے تو یہ سب کے اطمینان کا ذریعہ بنے گا۔

Related Articles

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×