حیدرآباد و اطراف

ماب لنچنگ کے خلاف موہن بھاگوت کا سخت رویہ قابل ستائش

حیدرآباد: 26؍ستمبر (پریس ریلیز) گذشتہ دو ہفتہ قبل مولانا سید ارشدمدنی صدرجمعیۃ علماء ہند نے موہن بھاگوت کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے ان سے ملک میں جاری نفرت کے موحول پر گفتگو کی تھی ، جس میں صاف لفظوں میں انھوں نے موہن بھاگوت جی سے کہا تھا کہ اگر یہ نفرت کی فضاء ملک میں قائم رہی اور اسی طرح پھیلتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب اس ملک میں نہ آپ محفوظ رہ سکتے ہیں اور نہ ہم محفوظ رہیں گے ،انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کی جو پرانی روایات ہیں جس میں مختلف مذاہب کے لوگ بشمول ہندو اور مسلمان پیار ومحبت کے ساتھ پڑوسیوں کے جذبات اور ان کی مذہبی چیزوں کے احترام کے ساتھ زندگی گذارتے آئے ہیں ،اسی ہمدردانہ جذبات کے ساتھ ملک ترقی کرسکتا ہے ، اس پر موہن بھاگوت جی نے مولانا سید ارشد مدنی کو تیقن دیا تھا کہ وہ اس سلسلہ میں قدم آگے بڑھائیں گے ،مولانا سید ارشد مدنی نے ان کی جانب سے مثبت ردعمل پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کام آپ کے لئے بہت دشوار ہے ، اس پر موہن بھاگوت نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آر ایس ایس جب کسی چیز کا فیصلہ کرتی ہے تو اس سے پیچھے نہیں ہٹتی ،جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھراپردیش ماب لنچنگ کے سلسلہ میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے سخت بیان کا خیر مقدم کرتی ہے ،جس میں انھوں نے کھلے لفظوں میں آر ایس ایس کے سیوم سیوکوں سے کہاتھا کہ وہ ماب لنچنگ کو روکنے کے لئے اہم کردار ادا کریں ، ساتھ میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی آرایس ایس کا ورکر ماب لنچنگ میں ملوث پایا گیا تو اس کا جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور اسے عدالتوں کی کاروائیں کا سامنا کرنا پڑے گا ،جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھراپردیش کے صدر محترم مولانا مفتی محمد غیاث الدین رحمانی قاسمی نے کہا کہ ملک کے موجودہ ماحول میں جمعیۃ علماء آرایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت کے اس بیان کو انتہائی اہم تصور کرتی ہے اور امید ظاہر کرتی ہے کہ وہ لوگ جو شرانگیز ی کرتے ہوئے ماب لنچنگ میں ملوث ہیں ان کے حوصلے ٹوٹینگے ،اس موقع پر جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھراپردیش ریاستی ومرکزی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں سخت قانون سازی کرے کہ یہ اندوناک کیفت جو ملک کو عالمی سطح پر بدنام کررہی ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×