حیدرآباد و اطراف

خان لطیف محمدخان صاحب ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے‘ ملت ایک مخلص اور سچے بہی خواہ سے محروم

حیدرآباد: 7؍اگسٹ (راست) جناب خان لطیف محمدخان صاحب(ایڈیٹر ان چیف روزنامہ منصف وچیرمین منصف ٹی.وی)کے سانحہ ارتحال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ہند جناب سید سعادت اللہ حسینی صاحب نے کہا کہ خان لطیف محمدخان صاحب ملت کے سچے اورمخلص بہی خواہ تھے اور انہوں نے ملت کی خدمت کے لیے صحافت کو ذریعہ بنایا۔مرحوم نے روزنامہ منصف اورمنصف ٹی.وی کے ذریعے ملک کی اردو صحافت کو ایک نیا وقار عطاکیا۔وہ اپنے اخبار وٹی وی چینل کے ذریعہ سچائی، دیانت داری اور صحافتی اقدار کو فروغ دینے کے علاوہ اُمت کے مسائل کی بھی بھرپور نمائندگی کرتے رہے۔امیر جماعت نے مزید کہا کہ خان لطیف محمدخان صاحب مسلمانوں میں پیشہ ورانہ تعلیم کو عام کرنے اور امت کی معاشی بہتری کے لیے بھی مختلف کوششوں کا حصہ رہے۔ خان صاحب کی وفات سے ہندوستان کے مسلمان ایک دردمند دل رکھنے والے دانشور سے محروم ہوگئے ہیں۔خان لطیف محمدخان صاحب کی وفات سے حیدرآباد کے صحافتی و سماجی میدان میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔امیر جماعت اسلامی ہندنے ان کے حق میں دعا کی ہے اللہ مرحوم کو اپنی جوار رحمت میں داخل فرمائے اور ان کی تمام خدمات کو قبول کرے۔

امیر حلقہ جماعت اسلامی ہندحلقہ تلنگانہ نے محترم خان لطیف محمد خان صاحب کی وفات پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خان لطیف محمدخان صاحب نے روزنامہ منصف کے ذریعے حیدرآباد کی اردو صحافت کو ایک نیا موڑ عطاکیا۔اپنے اخبار میں معیاری صحافت اور صحافتی اقدارکو پروان چڑھانے کے ساتھ ساتھ ملت اسلامیہ کے مسائل کی بھرپور نمائندگی بھی کرتے رہے۔ خان لطیف محمد خان صاحب ملت میں تعلیم کے فروغ کے لیے بھی کافی فکرمند رہتے تھے اور حیدرآباد میں معیاری پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کے استحکام میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ وہ سلطان العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی کے روح رواں اور صدر رہے۔جس کے ذریعہ قدیم و جدید شہر حیدرآباد میں کئی تعلیمی ادارے قائم کئے گئے۔ ان سب کے علاوہ خان لطیف محمد خان صاحب ایک دردمند دل رکھنے والے انسان تھے۔خان لطیف محمد خان صاحب کی وفات سے حیدرآباد کے صحافتی و تعلیمی افق پر ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔۔انکی خدمات کو قوم و ملت ایک طویل عرصہ تک یاد رکھے گی۔حامد محمد خان صاحب نے کہا کہ جناب خان لطیف محمد خاں کا ابتداء سے ہی جماعت اسلامی ہند اور اسکے قائدین سے گہرا ربط و تعلق رہا۔وہ جماعت اسلامی ہند کی سرگرمیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے اورہمیشہ ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار رہتے۔ گزشتہ کچھ عرصہ قبل ذمہ داران جماعت کے ایک وفد نے خاں صاحب سے تفصیلی ملاقات کی تھی اس موقع پر کئی ایک پرانی یادیں تازہ ہوئیں۔خان لطیف محمد خان صاحب کے انتقال کے موقع پر امیر حلقہ تلنگانہ جناب حامد محمد خان کے علاوہ ذمہ داران جماعت اسلامی ہند،جناب سید عبد الباسط انور صاحب سابق امیر حلقہ، جناب محمد اظہر الدین سکریٹری حلقہ رابطہ عامہ نے ان کے حق میں دعا کی کہ اللہ تعالی مرحو م کی مغفرت فرمائے اور ان کی تمام خدمات کوشرف قبولیت سے نوازے۔ لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔

حافظ محمدرشادالدین ناظم شہرجماعت اسلامی ہندشہرعظیم ترحیدرآبادنے جناب خان لطیف محمدخان صاحب کے انتقال پرگہرے رنج وافسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ خان لطیف محمدخان صاحب کی رحلت سے ملت ایک ہمدرد اور بہی خواہ سے محروم ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ خان لطیف محمدخان ایک ایسی شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے ملی،سماجی،تعلیمی اور مختلف فلاحی سرگرمیوں میں طویل عرصہ تک نمایاں کردار ادا کیا۔مرحوم طویل عرصہ تک سلطان العلوم ایجوکیشنل سوسائٹی کے ذمہ دار رہے اوران کی قیادت میں سوسائٹی نے کافی ترقی کی۔خصوصاً انجینئرنگ، فارمیسی اوربزنس مینجمنٹ کورسس میں سیٹوں میں اضافہ اوربہتر تعلیم کے لیے انہوں نے اپنا بھرپورکردارادا کیا۔اسکے علاوہ روزنامہ منصف ومنصف ٹی وی کے ذریعہ اُردو صحافت کو عروج پر پہنچایا۔انہوں نے صحافت کے ذریعہ مظلوموں کی آواز کو ایوانوں اور صاحب اقتدار افراد تک پہنچانے کا اہم کام کیا۔ ان کا سانحہ ارتحال ملت کا بڑا نقصان ہے۔مرحوم جماعت اسلامی کے بھی بہی خواہ تھے اور مختلف مواقعوں پروہ جماعت اسلامی کے تئیں ہمدردی ووابستگی کا اظہارکیا کرتے تھے۔ناظم شہر نے اس موقع پر اللہ سے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کوقبول فرمائے کوتاہیوں کو درگذر فرمائے اور جنت میں انہیں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×