حیدرآباد و اطراف

نماز عید الاضحی اور قربانی سے متعلق شہر کے ممتاز و مقتداء علماء کرام کی جانب سے ضروری ہدایات

حیدرآباد: 16؍جولائی (عصر حاضر) مفتی محمد عبد المغنی مظاہری صدر سٹی جمعیۃ علماء گریٹر حیدرآباد نے عالی جناب الحاج حضرت حافظ پیر شبیر احمد صاحب زید مجدہ صدر جمعیۃعلماء تلنگانہ و آندھرا کے مشورہ سے کرونا وائرس اور اس سے متعلق پابندیوں کے ضمن میں نماز عید الاضحی اور قربانی کے بارے میں درج ذیل ہدایات مرتب کرکے شہر کے بعض ممتاز اور مقتداء علماء کرام کی خدمت میں بذریعہ واٹس ایپ پیش کیا، جس سے ان علماءکرام نےبذریعہ واٹس ایپ اتفاق کیا۔
حضرت مولانا شاہ محمد جمال الرحمٰن صاحب‘  حضرت مولانا مفتی محمد عبدالودود صاحب مظاہری‘  حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب‘  حضرت مولانا محمد عبد القوی صاحب مدظلہ‘  محترم مولانا احمد عبید الرحمٰن اطہر صاحب ندوی‘  حضرت مولانا مفتی غیاث الدین رحمانی صاحب‘  حضرت مولانا مفتی تجمل حسین صاحب قاسمی‘  محترم مولانا مفتی عبد اللہ صاحب قاسمی‘ محترم مفتی تجمل حسین صاحب نے قربانی کے بدل نہ ہونے کی وضاحت کرنے اور مفتی عبد اللہ صاحب قاسمی نے ایک مسجد میں عید کی دوسری جماعت قائم کرنے کی صورت میں دوسرے امام اور خطبہ کےلازم ہونے کی وضاحت کرنے کے لئے کہا، جس کو مضمون میں شامل کر لیا گیا ہے، علماء کرام کے اتفاق اور تائید کے بعد امت مسلمہ کی رہنمائی کے لئے صدر محترم کے مشورہ سے جاری کیا جارہا ہے۔
قربانی سنت ابراہیمی ہے، اسلامی شعائر میں سے ہے، اسلام میں اہم عبادت ہے جوبقرعید کے دنوں میں ہر صاحب ِ نصاب پر واجب ہے، قربانی کسی بھی طرح ممکن ہونے کے باوجود قربانی نہ کرنے پر سخت وعید بھی وارد ہوئی ہے،اس لئے قربانی کے دنوں میں قربانی کرنا واجب ہوگا جس کا کوئی بدل نہیں ہے، یعنی قربانی کے دنوں میں قربانی کے بجائے اس کی قیمت کا صدقہ کرنا قربانی کا بدل نہیں ہوسکتا، کرونا وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے پچھلے دنوں میں بڑی پابندیاں اور بندشیں ضروری اور لازم تھیں جس کی وجہ سے نمازِ پنجگانہ، نمازِ تراویح، نمازِ جمعہ، نماز عید الفطر کے لئے عام لوگوں کا مسجد میں آنا ممنوع تھا، مگر اب عام زندگی اور عام معمولات بحال ہوچکے ہیں۔ تقریباً تمام سرگرمیاں چند شرائط کے ساتھ جاری ہوچکی ہیں، حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کرتے ہوئےمسجدوں میں نماز پڑھنے کی اجازت بھی مل چکی ہے ،تاہم کورنا وائرس کا خطرہ ابھی بھی باقی ہے، بلکہ زیادہ شدید ہے اس لئے مسلمانوں سے گزارش ہے کہ درج ذیل ہدایات کا احترام کریں اور اس کو اپناتے ہوئے نماز عید الاضحی و قربانی کا اہتمام کریں۔
(۱) ۔حکومت ، پولیس، محکمۂ صحت کی جانب سے جاری کردہ تمام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔
(۲) ۔ماسک اور فاصلہ کا اہتمام کرتے ہوئےنمازِ عید الاضحی قریبی مسجدوں میں ادا کریں۔
(۳) ۔آپس میں ایک دوسرے سے گلے ملنے، مصافحہ ومعانقہ(بغل گیر) ہونے سے فی الحال اجتناب کریں۔
(۴)۔ مسجد چھوٹی ہو اور لوگ زیادہ ہوں تو مجبوری میں ایک سے زائد بار بھی نماز عید قائم کی جاسکتی ہے،البتہ دوسری جماعت میں دوسرا مام ہوگا اور مستقل خطبہ ہوگا۔
(۵)۔ہر سال کی طرح اس سال بھی ذوق و شوق کے ساتھ قربانی کا اہتمام کریں، بلاوجہ خوف زدہ نہ ہوں۔
(۶) ۔قربانی کا جانور بیچتے اور خریدتے وقت زیادہ لوگ ایک جگہ جمع نہ ہوں۔
(۷) ۔ہر وقت ماسک کا استعمال لازمی طور پر کریں، بارش میں بھیگنےسے احتیاط کریں۔
(۸)۔ لب سڑک یا گلی کوچوں میں یا گھروں کے سامنے کھلے مقام پر جانور ذبح نہ کریں۔
(۹) ۔چہار دیواری یا بند جگہ محفوظ و مناسب مقام پر جانور ذبح کریں۔
(۱۰) ۔قصاب، ذابح، دیگر مددگار لوگ پہلے ہی سے ہاتھ پاؤں کو سَنِٹائز( Sanitize) کر لیں۔
(۱۱) ۔ماسک پہن کر باہمی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے جانور ذبح کریں۔
(۱۲) ۔ذبح کے تمام اوزار کو سَنِٹائز( Sanitize) کر لیں، یا تیز گرم پانی میں اچھی طرح دھولیں۔
(۱۳)۔ذبح کرنے سے پہلے ہی ضرورت کے بقد ر۲-۳ پلاسٹک کے تھیلے یا پلاسٹک کَور فراہم رکھیں۔
(۱۴) ۔جانور ذبح ہوتے ہی اس کی گندگی اور فضلات کو ایک تھیلے میں اور کھال ایک تھیلے میں محفوظ کردیں۔
(۱۵) ۔اورذبح کی جگہ کو صاف کرکے سَنِٹائز( Sanitize) کر لیں، ۔
(۱۶) ۔جانور کی گندگی، فضلات یا کوئی اور چیز گلی کوچوں میں یا محلہ میں قائم گھوڑ میں یا محلہ کے نالہ اور نالیوں میں ہرگز نہ پھینکیں۔
(۱۷)۔نگرانی رکھیں کہ جلد بازی میں قصاب کھال اور گوشت کو ضائع نہ کرے۔
(۱۸)۔ کھال کو محفوظ کرکے کسی قریبی مدرسہ کے مرکز تک جلد ہی ازخودپہونچانے کی فکر کریں۔
(۱۹) ۔کھال کی قیمت بہت کم ہوگئی ہےبلکہ نہیں کے برابر ہے ، اس لئے کھال کے ساتھ نقد رقم بھی مدارس میں ضرور جمع کرائیں۔
(۲۰)۔ گوشت کو محفوظ پلاسٹک کَوَر میںپیاک کرکے جلد از جلد تقسیم کرنے کا اہتمام کریں۔
(۲۱) ۔شروع سے آخر تک اس بات کی فکر کریں کہ دوسروں کو کسی قسم کی اذیت یا تکلیف نہ ہو۔
(۲۲)۔ کرونا وائرس اور موجودہ موسم کی وجہ سے صفائی ستھرائی کا زیادہ اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔
(۲۳)۔ذبح کے مقام سے چھوٹے بچوں اور زیادہ عمر کے لوگوں کو دور رکھیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×