حیدرآباد و اطراف

شہریت قانون کے خلاف شہر حیدرآباد سے سپریم کورٹ میں 5/ہزار درخواستیں داخل کی جائیں گی

حیدرآباد: 26/ ڈسمبر (ذرائع) شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے کانگریس قائدین اور قانونی ماہرین نے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون اور مجوزہ این آر سی کے خلاف سپریم کورٹ میں 5 ہزار سے زائد عوامی مفاد عامہ کی درخواستیں داخل کرنے کا اعلان کیا۔ پردیش کانگریس کے ترجمان سید نظام الدین، حیدرآباد سٹی کانگریس کمیٹی میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدر سمیر ولی اللہ اور دوسروں نے آج پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا اور کہا کہ تاحال 98 مفاد عامہ کی درخواستیں شہریت قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متنازعہ قانون کے خلاف ملک بھر سے کم از کم ایک لاکھ درخواستیں داخل کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ صرف حیدرآباد سے 5000 درخواستوں کے ادخال کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کے لیے لیگل ٹیم تیار کی گئی ہے۔ وکلاء اور دیگر اخراجات کی پابجائی کانگریس قائدین اور قانونی ماہرین پر مشتمل کمیٹی کرے گی۔ جو کوئی بھی سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست داخل کرنا چاہے وہ ہیلپ لائن نمبر 9100109111 پر ربط قائم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مفاد عامہ کی درخواست کے لیے حیدرآباد کے 4 مراکز پر دستاویزات داخل کئے جاسکتے ہیں۔ یہ مراکز ڈائپر زون روبرو رمیا ہاسپٹل، اولڈ بوئن پلی، ایڈوکیٹ رفیع کلیم کا دفتر تھرڈ فلور سلور اووک مانصاحب ٹینک، میکس کیور ڈیاگناسٹک سنٹر پیرامونٹ کالونی اور سابق کارپوریٹر واجد حسین کے دفتر بھولک پور ہیں۔ قائدین نے کہا کہ 5 جنوری کو سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواستیں داخل کی جائیں گی اور یہ انفرادی سطح پر ہوں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ درخواست کے ادخال کے خواہشمند ہوں مندرجہ بالا نمبر پر ربط پیدا کریں۔ نظام الدین نے کہا کہ بی جے پی حکومت حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے شہریت قانون این آر سی اور این پی آر جیسے مسائل کو اچھال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این پی آر دراصل این آر سی کا آغاز ہے۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے این آر سی سے متعلق بیانات میں کافی تضاد ہے۔ صدر جمہوری رام ناتھ کووند نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے این آر سی پر عمل آوری کے حکومت کے منصوبے کا اظہار کیا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×