سیاسی و سماجی

شرپسندوں کا غم و غصہ زائرہ وسیم پر یا اس کے اسلام پسندی پر؟

زائرہ وسیم کشمیری اسلامی گھرانے میں پیدا ہونے والی لڑکی ہے جس کی عمر 18 سال ہے, جس نے اپنی اداکاری سے ہر ایک کے دل کو جیت لیا تھا اب وہ حقیقی اسلام کی طرف لوٹ چکی ہے, اپنی گزشتہ زندگی سے تائب ہو چکی ہے, اب اس نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ بالی ووڈ کو خیرآباد کر رہی ہے, اپنے اس فیصلہ کو اپنے فیس بک پوسٹ کے ذریعہ عام کیا اور وہ فیس بک پوسٹ قابل رشک ہے جس سے اس کی اسلام پسندی جھلکتی ہے.
بس اس پوسٹ اور خبر کام عام ہونا تھا کہ تمام سوشل میڈیا ہاؤسز کا رخ زائرہ وسیم کی طرف ہوگیا اور غم و غصہ کی لہر دوڑنے لگی اور یہ وہ لوگ ہیں جو ہر بار اخبار اور ٹی وی کی سرخیوں میں اس وجہ سے بنے رہتے ہیں کہ وہ *”میرا جسم میری مرضی”* *”میری خواہش چاہے جس سے بھی پوری کروں”* *”میرا جسم چاہے جسے دکھاؤں اور جسے چاہے نہ دکھاؤں*” اور *”میری خوب صورتی جتنا چاہے ڈھانکوں*” جیسے آزادی کے نعرے لگانے والے ہوتے ہیں, *اور اب جب کہ زائرہ وسیم نے بالی ووڈ کو اسلام اور مذہب کے لئے خیر آباد کہا تو ان کے پیٹ میں ایسا درد اٹھا جیسے زچہ کو دردِ زہ*, ہاں اگر وہ اپنی ذاتی پریشانی یا کچھ اور وجہ بتلا کر بالی ووڈ چھوڑتی تو وہ اس کے فیصلے کو سراہتے مگر ان کو جو درد ہے وہ اس کے بالی ووڈ کے چھوڑنے پر نہیں ہے, فلم انڈسٹری کو چھوڑنے پر نہیں ہے بلکہ انہیں جو درد ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ اس نے اسلام کی اطاعت پسندی, اللہ کی رضا مندی, نبی کی خوشنودی اور آخرت میں سرخروئی کے لئے چھوڑا ہے, ورنہ تو ہر روز ہر مہینہ, ہر سال کوئی نہ کوئی اس بظاہر دکھنے والی خوبصورت,رنگین دنیا اور بباطن جنسی استحصال, بہیمانہ فحش, عزت و آبرو کی قاتل اور می ٹو(MEE TOO)جیسے واقعات ہونے والے اس دنیا کو چھوڑ ہی دیتا ہے جس پر نہ کسی کو اشکال ہوتا ہے اور نہ کوئی ہنگامہ بپا ہوتا ہے.
اب ذرا اس گودی اور بکی ہوئی میڈیا کو دیکھیے جو حکومت کے گندے اور مظلوموں کے خون سے رنگے ہوئے جوتوں کو چاٹنے میں لگی ہوئی ہے وہ اس معاملے میں ایک دم خاموش ہے ایسا ہو گیا ہے جیسے سانپ سونگ گیا ہو, یہ وہی گودی میڈیا ہے جب نصرت جہاں نے ایک غیر مسلم نکہل جین سے شادی کی تو بعض لوگوں نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا تو پورے جوش و خروش کے ساتھ یہ کہہ کر میدان کار ساز میں کود پڑی کہ اب پوری دنیا صرف یہی ایک مسئلہ رہ گیا ہے اور گلہ پھاڑ پھاڑ کر کہنے لگی کہ ہر ایک کو اپنے آزادی کا حق ہے اور ہر ایک کو اپنا شوہر پسند کرنے کا اختیار ہے اب میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ گودی میڈیا کہاں چلی گئی اور متعصب اور حرام کار میڑیا اب کس کے تلوے چاٹنے میں لگی ہوئی ہے؟
ہر ایک اپنے اپنے حساب سے سوالات و اعتراضات کر رہا ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ ایک بڑا طبقہ(مسلم و غیر مسلم) ان کا دفاع کر رہا ہے اور زائرہ وسیم کی ہمت افزائی کررہاہے اور اس کے فیس بک پوسٹ پر مفتی اسماعیل مینک(جو اپنے انگریزی تقریروں سے بہت مشہور ہیں) نے مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے, اور مولانا ڈاکٹر رضی اسلام ندوی صاحب نے بھی ہمت افزائی کی ہے,ان کے علاوہ اور نے بھی زائرہ وسیم کی ہمت افزائی کی ہے اور اسے اس کے اسلام پسندی کو علی الاعلان پیش کرنے پر خوب سراہا ہے اور یہی چیز بعد میں آنے والوں کے لئے مشعلِ راہ بن سکتا ہے اور یقیناً یہ بہت خوش آئندہ بات ہے.
زائرہ وسیم اپنی تحریر کے آئینے میں:
زائرہ وسیم کی جو طویل تحریر ہے وہ پڑھنے اور رشک کرنے کے قابل ہے جس میں اس نے اپنی گذشتہ پنج سالہ کا تذکرہ کیا اور ان سالوں میں پیش آنے والی دلی بے اطمینانی اور بے چینی کا حل قرآن و حدیث کی روشنی میں پایا
 ان میں سے چند اہم چیزیں یہ ہیں.
(1) اس نے اپنی گزشتہ زندگی میں اللہ ,محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام سے دوری کو اپنے لئے قابل ذلت سمجھا,اور خدائی رشتہ کو ہلاک کرنے والا پایا*”The enivornment that damaged my peace, imaan and my relationship with Allah”
(2) اس نے اپنی گذشتہ زندگی میں جو بظاہر چمک دمک رکھتی ہے اس میں برکت کو نہ پایا اور اس نے خود کہا ہے کہ برکت کا مطلب صرف ظاہری دولت نہیں ہے بلکہ وہ قلبی دولت ہے جس سے زندگی میں اعتدال رہتا ہے
*I lost all barakah from my life.
(3) اپنی گذشتہ زندگی سے توبہ کرتے ہوئے اللہ سے معافی کی قوی امید کا اظہار کیا ہے.
(4) اس نے اپنی زندگی سے تائب ہونے کا جو ذریعہ بتایا ہے وہ قرآن کی تعلیم و تفہیم ہے کہ جیسے جیسے وہ قرآن پڑھتے جاتی تھی تو زندگی کی حقیقت اس کے سامنے کھلتی چلی جاتی تھی اور قرآن سے چین و سکون کو پایا ہے.
(5) اس نے قرآن کو ہدایت کے چشمہ کے طور پر پایا ہے.
(6) آخرت کی فکر اس تحریر کے الفاظ میں جھلکتی ہے.
(7) ہر ایک کو مشورہ دیا ہے کہ مال و دولت, جاہ و منزلت چاہے کتنا بھی زیادہ ہوجائے اگر اس کے بدلے ہم ایمان سے محروم ہو جائیں تو یہ بہت خسارے کا سامان ہے.
(8) نیز خواہشات کی اتباع سے احتراز کا بھی مشورہ دیا ہے.
(9) کہا ہے کہ ہم مؤثر (اثر ڈالنے والے) بنیں نہ کہ اثر قبول کرنے والے, کہ کوئی اور ہمارے اہداف و مقاصد کو طے کرے.
(10) آخری اور اہم چیز یہ کہی ہے اللہ رزاق ہے وہ بہرحال آپ کا رزق آپ تک پہنچا کر رہے گا.
یہی وہ چیزیں ہیں کہ جس سے اس کی اسلام پسند جھلکتی ہے اور اسی اسلام پسندی کی وجہ سے اس خاص طبقے کو شدید قسم کا درد اور کبھی نہ ختم ہونے والی جلن ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×