سیاسی و سماجی

صبح کی بات

انسان، انسان ہے’ فرشتہ نہیں۔۔۔ اس کی رائے درست بھی ہوسکتی ہے اور نا درست بھی۔۔۔ اس کے کام اچھے بھی ہوتے ہیں اور غلط بھی۔۔۔۔ اس پر تعجب نہیں ہونا چاہئے۔۔۔ اسی کا نام انسان ہے۔۔۔۔ وہ صرف کمال نہیں ہوسکتا۔۔۔ اس کے تمام کام بے داغ نہیں ہوسکتے۔۔۔ ورنہ پھر وہ فرشتہ ہوجائے گا۔۔۔۔۔ لیکن انسان تو فرشتہ سے افضل ہے۔۔۔ آدم کو فرشتوں نے سجدہ کیا تھا۔ کہ یہ اللہ ہی نے حکم دیا تھا۔۔۔۔
لیکن یہ بھی کہ۔۔۔ کوئی انسان مکمل غلط نہیں ہوتا۔۔۔ کیسے ہوسکتا ہے؟ ۔۔۔ اس کو تو خالق و مالک نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خوبیوں سے سجایا ہے۔۔۔۔ تو ہر انسان کے اندر خوبیاں ہیں۔۔ اور ہر انسان کے بہت سے کام اچھے ہوتے ہیں۔۔۔ اس کی رائے بھی بہت سی جگہوں پر بہت اچھی ہوتی ہے۔۔۔
البتہ۔۔ ہم غلط کو اچھا نہیں کہہ سکتے۔۔۔ ٹھیک ایسے ہی اچھی بات اور اچھی رائے کو غلط نہیں کہا جاسکتا۔۔۔ اسی کا نام سچائی ہے۔ یہی امانت ہے۔ یہی اعتدال اور راست روی ہے۔۔۔۔
تو سماج میں یہی مطلوب ہے۔۔۔ یہ نہ تھا تو اسلام یہ لے کر آیا۔۔ نبی مجتبی ﷺ نے یہ سکھایا۔۔ آپ جانتے ہیں نا کہ انھوں نے کالے معمولی غلام بلال کو بھی اسی طرح اچھا سمجھا، جیسے قبیلہ ور باجبروت عمر کو سمجھا۔۔۔ ہاں ۔۔ اسی لئے عمر فاروق بلال کو سیدنا کہا کرتے تھے۔۔۔ آقائے مکی ومدنی نے ہر ماہر فن کی۔ ہر سطح کے انسان کی اور ہر کہہ و مہ کی رائے اختیار کرلی۔۔۔۔۔ آقائے مصطفی نے غلطی پر ٹوکا بھی۔۔ اور غلطی کے بعد بھی اس کی عزت کم نہ ہونے دی۔۔۔۔ حاطب بن ابی بلتعہ، معاذ بن جبل، اسامہ بن زید اور ابو ذر وغیرہ کتنے صحابیوں کی سخت سرزنش کی۔۔۔کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور ابو لبابہ وغیرہ کی غلطیوں پر سخت گرفت فرمائی۔۔ لیکن وہ ان کے پیارے رفیق اور ان پر بے حد شفیق اور وہ مدح و ستائش کے مستحق بنے رہے۔۔۔۔ اور وہ جماعت مضبوط و متحد برقرار رہی۔۔ کوئی صف شکن کامیاب نہ ہوسکا۔۔۔
تو ہم کو بھی یہی کرنا ہوگا۔۔۔ غلطی ہی کو غلط کہیں گے۔ انسان کو نہیں۔۔۔ اختلاف اور اعتراض صرف غلط رائے پر ہوگا۔ اس کی ذات اور پورے کردار پر نہیں۔۔۔ اور غلط رائے کی حمایت نہیں کرسکتے۔ لیکن اس کو راندہ درگاہ اور خارج سماج بھی نہیں بناسکتے۔۔۔۔۔۔ اور ایسا کیسے کرسکتے ہیں؟ ۔۔۔۔ پھر تو کوئی انسان کسی کے ساتھ نہیں رہ سکے گا۔۔ کہ رائے میں غلطی اور کام میں غلطی تو ہر ایک سے ہوتی ہے۔ ہوسکتی ہے۔۔۔ تو ہر فرد دوسرے کو باہر کا راستہ ہی دکھاتا چلے تو صف اور اجتماعیت کے اندر کون باقی رہے گا؟؟
یاد رکھئے ۔۔ یہ درست نہیں ہوگا کہ۔۔ جس کی تائید کی جائے تو اس کا غلط بھی صحیح بنادیں۔۔۔ اور جس سے اختلاف کریں تو اس کی ذات ہی مردود ٹھہرے۔۔۔ یہی تو اصل غلطی ہے۔۔۔۔ تو کیا ہم غلطی پر انگلی رکھتے وقت اس سے بڑی غلطی رقم کررہے ہوتے ہیں؟؟
آج جماعت منتشر ہو رہی اور اشخاص نابود ہورہے ہیں تو اس میں ہماری اس کوتاہ بینی کا بھی حصہ ہے۔۔۔ یہ نبوی طریقہ نہیں ہے۔۔۔ اسلام نے اس غلط کو ہی تو صحیح کیا تھا۔۔۔۔۔۔ تو کیا ہم اسلام نے نام پر ہی اس غلط کو رائج کر دیں گے؟؟
سوچئے گا۔۔ اپنے قلم اور الفاظ کو تولئے گا۔۔ اپنے قریب میں ہی دیکھئے گا۔۔ اور اگر کچھ نظر آجائے تو جلد ٹھیک کرلیجئے گا۔۔۔۔ یقین مانئے۔ دل خوش ہوجائے گا۔ اور جماعت مضبوط ہونے لگے گی۔
تو اس سمت دیکھتے ہیں۔ آغاز کرتے ہیں۔ آپ بھی کریں۔ ہم بھی کرتے ہیں۔ پھر ملتے ہیں۔
خدا حافظ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×