سیاسی و سماجی

مکرسنکرانتی۔ محض پتنگ بازی یا آفتاب پرستی

لائق ِ حمد وسزاوار ِ ستائش ہے وہ ہستی جو اکیلی اور واحد الوجود ہے ، تولدوتزوج سے پاک ہے ، زمین وآسمان میں جو کچھ ہے شجر وحجر، شمس وقمر، صحراوبیاباں ،خارو گل، جن وانس اور ملک وسلطنت سب کا خالق ومالک معبود ومسجود ہے۔ موت وحیات ، آسائش وآلام، ثروت وغربت ، خوشحالی وخشک سالی سب صفات ِ باری تعالیٰ کا مظہر اور قدرت ِ الٰہی کا جلوہ ہیں۔ یہی خدائی پیغام ، انبیاء کی دعوت ِ عام اور عقیدۂ اہل ِاسلام ہے۔ اس سے انکار واعراض یعنی مخلوقات ومصنوعات کو صفات ِ الٰہیہ میں شریک کرنا یاانہیں درجۂ الوہیت دینا یا خدائی مظہر اور تغیرات ِ عالم میں اُنہیں مؤثر ماننا کفر و شرک کہلاتا ہے ۔
ہندوقوم جو خدائے واحد کی منکر ہے، اس بے نیاز رب کے ساتھ بہت سی مخلوقات کو اس کا شریک ٹھہراتی ہے بلکہ ان کو مظہر خدا اور عین ِ حق مانتی ہے اور یہ ان کے عقائد کا حصہ ہے کہ معبودان ِ باطلہ حیات ِ انسانی کے احوال وکوائف اور عالم ِ دنیا میں وقوع پذیر واقعات وحوادث میں مؤثر ودخل انداز ہیں۔چنانچہ نجوم وکواکب کے ظہور اور شمس وقمر کے طلوع وغروب سے اپنی زندگی کے اہم ترین امور میں کامیابی وناکامی ، سعادت مندی ونیک بختی اور نحوست وبدبختی کو وابستہ سمجھتے ہیں۔ ان کی عید وتہوار کے مواقع پر ان کی نذرونیاز ، خوشی ومسرت اور بندگی کے طور طریق سب ان کے فرضی معبودوں کے نام سے ان کے عظمت واحترام میں انجام دے جاتے ہیں، ان کے سبھی عیدوں کے پس منظر میں یہی شرکیہ عقائد کارفرمامعلوم ہوتے ہیں، غالباً یہی ان کے گمان کے مطابق مذہبی فریضہ اور تقاضہ بھی ہے ۔
ماہ ِ جنوری کی ۱۴؍تاریخ ان کا ایک عظیم الشان تہوار ’’مکرسنکرانتی‘‘کے نام سے انجام دیا جاتا ہے ، ہندوؤں کے نزدیک یہ مبارک ترین دن ہے ، لاکھوں لوگ گنگا ساگر میں ڈبکی لگاکر ’’سورج‘‘ دیوتا کی پوجا کرتے ہیں ، ہندوؤں کے نزدیک ’’سورج ‘‘نہ صرف خدائی مظہر بلکہ مجسم ِ علم ودانائی ہے ، دیوتا کرشنا نے گیتا میں ’’سورج‘‘ کو مظہر خدا اور اس کا پہلا شاگرد کہا ہے ،مکر سنکرانتی کے دن ’’سورج ‘‘اپنی بالادستی کا سفر شروع کرکے شمالی کرہ میں داخل ہوتا ہے ، اس موقع پر تمام دیوتا یہ یاددہانی کراتے ہیں کہ تم بلند سے بلند تر ہو، تمہاری درخشانی میں اضافہ ہوتا رہے اور کبھی تم تاریک نہ ہو۔
شمالی ہندوستان میں یہ ’’پونگل‘‘ اور پنجاب میں’’لوہری وماگھی‘‘ کے نام سے منایا جاتا ہے ، تمل ناڈو میں بھی یہ تہوار ’’پونگل‘‘ کے نام سے اور آندھراپردیش میں تلگو عوام اس کو ’’پدا پنڈوگا‘‘ یعنی بڑا تہوار کہتی ہے ، جو چار دنوں پر مشتمل ہوتاہے ۔ پہلا دن بھوگی ،دوسرا دن سنکرانتی، تیسرا دن کنمو اور چوتھا دن سُکّا نُما ہوتا ہے ۔ گجرات میں اس تہوار کے موقع پر چھوٹے بڑے تحفے تحائف ایک دوسرے کو پیش کرتے ہیں، گجراتی پنڈت اس مبارک دن طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے امداد دیتے ہیں، گجراتی عوام سورج کو نہ صرف ادب سے دیکھتے ہیں بلکہ اس کی نذر کے لیے رنگ برنگی پتنگیں اڑاتی ہے، اوروہ اس نذر کے ذریعہ اپنے باعظمت خدا (سورج) کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں، پتنگ بازی اس تہوار کا خاص مشغلہ ہے ۔ بہرحال مختلف علاقوں میں مختلف انداز سے اس تہوار میں سورج پرستی ہوتی ہے ۔ اور اس طرح پورے ملک میں سورج کی عظمت کے گُن گائے جاتے ہیں۔
ان کے اس تہواراور خوشی کے موقع سے یقینا اہل ِاسلام کا کوئی تعلق نہیں اور ہونا بھی نہیں چاہیے ، کیونکہ اُن کی عیدیں مسلمانوں کے عقیدۂ توحید کے مغائر اور منافی ہیں۔ پھر مذہب اسلام خود دیگر تمام ادیان سے ممتاز اور فائق ہے ، اسکی اپنی ایک شناخت اور پہچان ہے ، وہ اپنے تشخص میں شرکت ِ غیر کو بالکل گوارا نہیں کرتا ،مسلمانوں کو اس نے یہ تعلیم دی کہ وہ اسلامی امتیازات کو باقی رکھیں ، اسلام میں دیگر مذاہب کی آمیزش سے قطعاً اجتناب کریں ورنہ وہ دیگر مذاہب کے عقائد کو اسلامی عقائد میں شامل کرلیں جس سے نبی نے منع فرمایا، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے واضح طورپر فرمایا: جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہیں میں سے ہوگا۔
اللہ کے نبی ؐ نے بھی اپنی امت کو اس بات کی سختی سے تاکید فرمائی کہ دیگر اقوام کی روایات ورسومات کی مخالفت کرو ۔ چنانچہ ارشاد فرمایا  وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے علاوہ (دیگر اقوام ) کے طریقوں کی مشابہت اختیار کرے ،تم یہود ونصاریٰ کی مشابہت مت اختیار کرو ۔(مشکوٰۃ شریف ص:۳۹۹) اپنی تعریف ومدح میں غلو کرنے سے بچنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا ’’ لا تطرونی کما اطرت النصاری فانما عبدہ فقولو ا عبد اللہ ورسولہ ‘‘ (کتاب الآداب مشکوٰۃ ) تم میری تعریف میں ایسا غلو مت کرو جیسا کہ نصاریٰ غلو کرتے تھے ،اس لیے کہ میں تو اللہ کا بندہ ہو ں ، تو (مجھے ) اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو ۔ سر پر عمامہ باندھنے کے سلسلہ میں تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’ فرق مابیننا وبین المشرکین العمائم علی القلانس ‘‘ہمارے اور مشرکین کے درمیان ٹوپیوں پر عماملہ باندھنے سے فرق کیا گیا(وہ بغیر ٹوپیوں کے عمامہ باندھتے ہیں ) (مشکوٰۃ کتاب اللباس ص:۳۷۴)
داڑھی رکھنے کے بابت ہدایت فرمائی کہ ’’ خالفوا المشرکین واوفروا اللُحیٰ واحفوا الشوارب ‘‘ (باب الترجل مشکوٰۃ ص: ۳۸۰)یعنی مشرکین کی مخالفت کرو داڑھی بڑھائواور مونچھیں کٹائو ۔ (کیونکہ وہ داڑھی کٹاتے ہیں اور مونچھ بڑھاتے ہیں)۔ اسکے علاوہ بہت سی روایات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اور اسلامی تعلیمات امت ِ مسلمہ کو عقائد واعمال اخلاق وعادات میں دیگر مذاہب کی اتباع اور پیروی سے سختی سے منع کرتے ہیں اور اسلامی تشخص کی حفاظت اور برقراری کا پابند بناتے ہیں ۔
لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ضعیف العقیدہ مسلمان بالخصوص نادان نوجوان طبقہ اپنی کم علمی یا ناواقفیت سے (ﷲ کرے دانستہ یہ عمل نہ ہو) یا اپنے شوق وذوق کی تسکین کے لیے پتنگ بازی کرکے اس ہندوانہ تہوار میں شریک ہیں ، گویا عملاً مسلمان اس مشرکانہ عقیدہ(سورج پرستی) کی نہ صرف تائید کررہے ہیں بلکہ ادنیٰ درجہ میں سہی اس سے اپنی وابستگی کا اظہار کررہے ہیں ، نوجوان شوق کی تکمیل میں اور والدین اپنے بچوں کی آرزوئیں پوری کرنے بیش بہا مال پتنگوں کی خریدی میںاس آسانی سے صرف کردیتے ہیں جس طرح سہولت سے پانی زمین پر بہایا جاتا ہے پھر اس پتنگ بازی میں جو مکر سنکرانتی کا اہم حصہ ہے ایک دوسرے پر تفاخر وتنافس ، موسیقی اور گانوں کی گونج بھی شامل ہوجاتی ہے ، مال کے ضیاع کے ساتھ اس میں جانی نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔ ہماری بربادی پہلے ہی کیا کم تھی کہ ہم نے مزید اس تہوارکو اپناکر دنیوی واُخروی دونوں محرومیاں اپنا مقدر بنالیا۔ الامان والحفیظ
لہٰذا ضرورت ہے کہ اپنی آنکھوں سے غفلت کے پردے اٹھائیے ،اغیار کے طریقوں سے منہ موڑئیے، ہم خدائے واحد پر ایمان رکھنے والوں کے لیے یہ کہاں زبیا ہے کہ ملعون ومردود اور مغضوب قوموں کے طرز ِ عمل کو اپنا پسندیدہ مشغلہ بنائیں! ہمیں تو دنیا میں واحدانیت کا پرچار کرنے کے لیے بھیجا گیا ، نعمت ِ ہدایت سے اس لیے سرفراز کیا گیا کہ دوسروں کے گھر ہدایت کا چراغ جلا سکیں ، اس لیے نہیں کہ اپنے گھر کی ایمانی شمع گل کرکے اُسے ظلمت کدۂ کفر بنالیں۔
مکر سنکرانتی خدافراموش قوموں کا تہوار ہے ، جس میں وہ خدائے واحد کی عظمت وکبریائی کی چادر سورج کو اوڑھا رہے ہیں، ہماراتہوار عید الفطر وعیدالاضحی ہیں جس میں ہم گلی کوچوں میں تکبیر وتہلیل سے خدا کی عظمت وکبریائی، برتری وبڑائی کا اعتراف و اعلان کرتے ہیں۔ــــــــــ ہمیں چاہیے کہ پتنگ بازی ترک کردیں اور توبہ کرکے اس بیہودہ عمل سے بازآجائیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×