ریاست و ملک

جمعیۃ علماء ہند اور شیخ الہند چیریٹبل ٹرسٹ کی طرف سے لوک نایک ہسپتال کو ایک ہزار پی پی ای کٹس دئیے گئے

نئی دہلی: 10؍جولائی  (پریس ریلیز) کرونا آفت سے نجات پانے کی قومی جد وجہد میں لگاتار اپنے حصے کا کردار پیش کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء ہند اور معتبر فلاحی ادارہ شیخ الہند چیریٹبل ٹرسٹ کی طرف سے آج لوک نایک ہسپتال دہلی کو بطور ہدیہ ایک ہزار پی پی ای کٹس پیش کی گئیں جو ہیلتھ جانبازوں کی حوصلہ افزائی کے لیے تیار کی گئی ہیں۔شام چار بجے دہلی گیٹ پر واقع لو ک نایک ہسپتال پہنچ کر جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے باض ابطہ پیکٹ میں بند پی پی ای پیش کیا۔وفد میں مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند، مولانا غیور قاسمی، مولانا قاری محمد عارف قاسمی، انورحسین،عظیم اللہ صدیقی اور جمعیۃ یوتھ کلب بھارٹ اسکاؤٹ اینڈ گائیڈ کے نوجوانوں کی ایک ٹیم شریک تھی، اس موقع پر ایل این جے پی انتظامیہ نے جمعیۃ علماء ہند اور شیخ الہند چیریٹیبل ٹرسٹ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ قابل تقلید اور قابل ستائش عمل ہے۔واضح ہو کہ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے ایک اعلان میں دس ہزار پی پی ای تیار کرکے ہیلتھ جانبازوں کی خدمت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اسی کڑی کے تحت یہاں لوک نایک ہسپتال کو ایک ہزار کٹس دی گئی ہیں۔گزشتہ ہفتہ سہارن پور کلکٹریٹ میں بھی پانچ سو پی پی ای کٹس پیش کی گئی تھیں جن کو جامعہ زینب للبنات دیوبند کی طالبات نے تیار کیا تھا۔
اس موقع پر اپنے پیغام میں جمعےۃ ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے ہیلتھ پروفیشنلزکے لیے خصوصی طور سے خراج تحسین پیش کیا۔ ساتھ ہی اس مشکل دور میں جمعیۃ کا یہ عزم دوہرایا کہ وہ ملک کی خدمت اور طبی عملے کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر ممکن جد وجہد جاری رکھے گی۔یہ بھارت کی تہذیب اور اس کی وراثت کا حصہ ہے کہ مصیبت کے وقت میں سبھی طبقے ایک دوسرے کے تعاون میں کھڑے ہوتے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند شروع دن سے ضرورت مندوں تک امداد رسانی، طبی ہدایات کو لے کر عوامی بیداری اور ہیلتھ جانبازوں کی حوصلہ افزائی کرتی آرہی ہے۔ حال میں جمعیۃ نے دہلی میں فری ایمبولینس سروسز اور گھر تک آکسیجن سیلنڈر پہنچانے کا اعلان کیا ہے۔آج جس طرح کے حالات چل رہے ہیں ان میں طبی عملوں اور ہیلتھ پروفیشنلز سے زیادہ کسی کو چیلنج کا سامنانہیں ہے۔ لیکن کسی بھی آفت کے وقت ایک طبقہ ہی میدان میں ہو اور باقی لوگ غفلت برتیں تو چھوٹی سی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوتی ہے، یہ قومی سطح کی آفت ہے تو ہمیں جہاں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور اپنے گناہوں کی مسلسل معافی مانگتے رہنا چاہیے، وہیں طبی ہدایتوں پر عمل پیرا ہو کر ملک اور قوم کی خدمت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×