ریاست و ملک

مسجد اللہ کی ملکیت ہے،مسلمانوں کو اسے کسی کو دینے کا اختیار نہیں: گلزار احمد اعظمی

ممبئی: 16/اکٹوبر (عصر حاضر) بابری مسجد رام مندر ملکیت مقدمہ کی سماعت چالیس دنوں تک چلنے کے بعد آج فریقین کے وکلاء کی بحث کا اختتام ہوا۔اور عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا، آج کی عدالتی کارروائی پر جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ جمعیۃ علماء کے وکلاء نے اس مقدمہ کو انتہائی دیانتداری سے لڑا ہے اور عدالت کے سامنے وہ تمام حقائق و ثبوت پیش کیئے جسے یا تو الہ آباد ہائی کورٹ نے نظر انداز کردیا تھا یا اس کی مؤثر طریقہ پر پیروی نہیں کی جاسکی تھی ہمیں امید ہے کہ عدالت عقیدہ پر نہیں حقائق کی روشنی میں فیصلہ صادرکریگی۔
ڈاکٹرراجیودھون نے عدالت میں ثبوت وشواہد کی بنیاد پر یہبات واضح کردی کہ1585سے لیکر 1992تک مسجد کا وجود تھااورمسلمان اس میں نماز ادا کرتے آرہے تھے،لیکن 6/ دسمبر کواسے شہیدکردیا گیا۔ سپریم کورٹ کو اب یہ فیصلہ کرناہوگا کہ آیا آستھا کو اہمیت دی جائے یا ثبوت و شواہد کی روشنی میں انصاف کیاجائے۔
گلزار اعظمی نے مزید کہا 1585سے لیکر1934تک تقریباً ساڑھے چار سو سال وہاں نماز ہوتی رہی،اور 23/ مارچ 1934کو پہلی مرتبہ شر پسندوں نے بابری مسجد کو نقصان پہونچایا۔جس پر اس وقت کے جمعیۃعلماء ہند کے صدر مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی ؒ مفتی اعظم ہند نے حکومت برطانیہ کو یہ الٹیمیٹم دیا کہ وہ اپریل میں مسجد کی صفائی اور مرمت کرے ورنہ جمعیۃ علماء کے رضا کار اس کام کو انجام دیں گے۔ج سپر حکومت برطانیہ نے اپنے خرچ سے مسجد کی مرمت کا کام کرایا۔1949میں بابری مسجد میں رام للا کا بت رکھے جانے پر جمعیۃعلماء ہند کے صدر محترم شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی:،جنرل سکریٹری مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی،اور وزیر تعلیم حکومت ہند مولانا ابو الکلام آزاد نے اس وقت کے وزیرا عظم جواہر لعل نہرو سے مل کر اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔ اس وقت مولانا ابو الکلام آزاد نے ایک بات کہی تھی کہ بابری مسجد مسلمانوں کو واپس نہیں دی گئی تو ہم یہ سمجھیں گے کہ اس ملک میں مسلمانوں کو قبول نہیں کیا گیا،اور مجھے ڈر ہے کہ دوسری مساجد پر بھی سوالات کھڑے کئے جائیں گے۔مولانا ابو الکلام آزاد کی کی بات آج سچ ثابت ہورہی ہے کہ ایک بابری مسجد ہی نہیں لبکہ کئی مساجد پر برادران وطن دعویٰ کر رہے ہیں۔
الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ30ستمبر 2010میں آنے کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے صدر محترم مولانا سید ارشدمدنی دامت برکاتہم نے مجلس عاملہ بلائی،اور اس میں طے کیا گیا کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے۔اور صرف دو ماہ کے اندر جمعیۃعلماء ہند سب سے پہلے الٰہ آباد ائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ پہونچی۔
گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ سنی سینٹرل وقف بورڈ کی کارکردگی ہمیشہ مشکوک رہی،کیونکہ اس پر حکومت کا کنٹرول تھا لیکن جمعیۃ علماء ہند کا مقدمہ پر مکمل کنٹرول ہونے کی بناء پر عوام کایہ یقین تھا کہ مقدمہ اپنے اختتام کو پہونے گا،اور فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آئے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×