ریاست و ملک

خراب موسم اور طوفانی آندھیوں کے باوجود ڈٹی رہیں دیوبند عیدگاہ میں احتجاج کرنے والی خواتین

دیوبند،5؍ مارچ(سمیر چودھری) متحدہ خواتین کمیٹی کے زیراہتمام سی اے اے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ جمعرات کے روز 39 ویں دن بھی جاری رہا۔ بدھ کی رات خراب موسم کے باوجود ، خواتین احتجاج گاہ میں موجود رہیں اور انہوں نے ہندوستان زندہ باد،انقلاب زندہ باد کے نعروں کے درمیان سی اے اے کی واپسی تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔گزشتہ 27؍ جنوری سے جاری اس احتجاج میں خواتین بڑی تعداد میں شامل ہورہی ہیں۔ بدھ کی دیر رات اچانک موسم نے کروٹ لے لی اور آندھی طوفان شروع ہوگیا ،باوجود اس کے خواتین عیدگاہ میدان میں ڈٹی رہی اور حکومت کے خلاف اپنا مظاہرہ جاری رکھا۔ اس دوران خواتین نے دوٹوک کہاکہ جب تک حکومت اپنی ضد اور ہٹ دھرم سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور سی اے اے کو واپس نہیں لے گی اس وقت تک ہمارا احتجاج بدستور جاری رہے گا۔اس دوران خطاب کرتے ہوئے سیما اور عرشی انصاری نے کہا کہ ملک کا مسلمان پیدائشی ہندوستانی ہونے کے ساتھ ساتھ بائی چوائس انڈین ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1947 میں ہمارے بزرگوں نے اپنے کو چھوڑ دیا لیکن ہندوستان کی مٹی کو نہیں چھوڑا،انہوںنے اس ملک کی آزادی اور تعمیر و ترقی کے لے ہمارے آباد واجداد نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور آج ہم سے شہریت کے ثبوت مانگے جارہے ہیں، حکومت کو شرم کرنی چاہئے اور اپنا دوہرا رویہ چھوڑ کر ملک اور عوام کے مفاد میں فیصلے کرنے چاہئے۔ اقصیٰ، صوفیہ ضیا اور ندا ارشاد نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے ملک کو آزاد کرایا تھا اور اب ہم ایک خاص نظریہ سے ملک کو ایک بار پھر آزاد کرائینگے،لہٰذا اس کے لئے ہم سب ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج حکومت کے غلط فیصلوں اور کالے قانون کے خلاف ملک کے کونے کونے سے آوازیں آرہی ہیں اور جب تک حکومت اپنی اس غلطی کو قبول نہیں کرتی اور اس کالے قانون کو واپس نہیں لیتی ہے تب تک یہ آوازیں آتی رہیں گی۔ اس دوران مختلف اسکولوں کی طالبات نے حب الوطنی پر مبنی گیت بھی پیش کیے۔ احتجاج میں حسب معمول بڑی تعداد میں خواتین شریک رہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×