ریاست و ملک

این پی آر 2010ء کے فارمٹ میں نہ ہو تو اس کو بائیکاٹ کیا جائے گا

دیوبند: 3؍مارچ (سمیر چودھری) سی ے اے ، این پی آر اور این آر سی کے خلاف گزشتہ27؍ جنوری سے جاری خواتین کا احتجاج آج 37؍ ویں روز منگل کو بھی جاری رہا۔ اس دوران خواتین نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سی اے اے کو واپس لینے اور 2011 کی شرائط پر این پی آر لینے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی انتباہ دیا کہ اگر این پی آر کے اضافی کالم کو نہ ہٹایا گیا تو اس کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔متحدہ خواتین کمیٹی کے زیراہتمام عیدگاہ میدان میں سی اے اے اور این پی آر کے خلاف جاری احتجاج منگل کے روز 37 ویں دن بھی جاری۔متحدہ خواتین کمیٹی کی صدر آمنہ روشی نے کہا کہ سی اے اے مذہب کی بنیاد پر لایا گیا قانون ہے جس کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ سازش کے تحت حکومت این پی آر میں کئی کالم کا اضافہ کرکے اس کو این آر سی میں جوڑنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ این پی آر کسی بھی شرط پر قابل قبول نہیں ہے،انہوں نے این پی آر کا بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر 2011 کی بنیاد پر این پی آر نہ لایا گیا تو اس کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ارم عثمانی ،فوزیہ عثمانی اور فریحہ عثمانی نے کہا کہ اگر وزیر اعظم مودی دہلی فسادات سے اتنے غمزدہ ہیں کہ وہ سوشل میڈیا چھوڑنے کی بات کررہے ہیںتو ہمار ان سے مطالبہ ہے کہ انہیں ملک میں نفرت کی فضا کو ختم کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے، تاکہ ایک بار پھر ملک میں محبت کی فضا پیدا ہوسکے۔ ہادیہ جہانگیر اور نشاط عثمانی نے کہا کہ ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہرے کسی ایک فرقہ یا طبقہ کے نہیں ہورہے ہیں بلکہ ہندوستان کے تمام سماج کے لوگ 130؍ کروڑ ہندوستانیوں کے انصاف کے لئے سڑکوں پر ہیں اور جب تک انصاف نہیں ملے گا اس وقت تک یہ احتجاج جاری رہے گیں۔ اس دوران ہندوستان زندہ آباد کے نعروںکے ساتھ سی اے اے واپسی کامطالبہ کیاکیا۔ دھرنے میں کافی تعداد میں خواتین شامل رہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×