اسلامیات

ہم زندہ ٔ جاوید کا ماتم نہیں کرتے!

جیسے ہی محرم الحرام کا آغاز ہوتا ہے تو حضرت حسینؓ کی المناک شہادت کا تذکرہ ذہن و دل میں تازہ ہو جاتا ہے ، آپ کی اور آپ کے اہل خانہ کی یاد کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے،یقینا حضرت حسینؓ کی اپنے خاندان کے ساتھ دردناک شہادت تاریخ اسلامی کا ایک عظیم سانحہ ہے کہ نواسہ رسول جگر گوشۂ بتول کو بڑی اذیتوں اور تکلیفوں سے گذارکر انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیاـ؛ لیکن یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اسلام کی تاریخ شہداء کے خون سے لالہ زار ہے،اسلامی کیلنڈر کا ہر صفحہ شہیدوں کے مقدس خون سے رنگین ہے۔
در حقیقت شہادت کو ئی غم اور ماتم کی چیز نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک عظیم مرتبہ ہے جس پر فائز ہونے کی خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمنا ظاہر کی چناں چہ فرمایا:لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أُحْيَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أُقْتَلُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أُحْيَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أُقْتَلُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أُحْيَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أُقْتَلُ. میری تو آرزو ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیاجاؤں، پھر قتل کیاجاؤںاورپھر زندہ کیاجاؤںپھر قتل کیاجاؤںاورپھرزندہ کیاجاؤںاورپھر قتل کیاجاؤں۔(بخاری:2797)
حضرات صحابہ کرام بھی شہادت کا شوق رکھتے تھے اور جب بھی جام شہادت نوش کرنے کا موقع ملتا تو اپنے آپ کو دین اسلام کی خاطر بے دریغ پیش کر دیتے تھے،نہ مال کی پرواہ ہوتی تھی نہ بیوی بچوں کی فکر دامن گیر رہتی تھی، بس ایک ہی دھن سوار ہوتی تھی کہ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنے جان کا نذرانہ مالک حقیقی کے دربار میں پیش کردے؛چناں چہ حضرت حمزہ ؓجو کہ آپؐ کے چچا ہیں اعلی درجہ کے صحابہ میں آپ کا شمار ہوتا ہے ان کی قیامت خیز شہادت کا تذکرہ تو ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل کو سوگوار کر دیتا ہے، جن کی دردناک شہادت کو دیکھ کر خود نبی اکرم ﷺنے فرمایا کہ:سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَۃ حَمْزَةُ َ . (المستدرک :۴۸۴۷)اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سید الشہداء حضرت حمزہ ہوں گے۔ ظالم وحشی نے آپ کو شہید کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ آپ کا کلیجہ نکالااور ہندہ کے پاس لے آیا اورکہا یہ حمزہ کا کلیجہ ہے،اس نے اسے چبایا یہاں تک کہ آپ کے جسم کا مثلہ تک بنایا گیا۔
اسی طرح داماد رسول،جامع القرآن،ذی النورین حضرت عثمان غنی ؓکہ جن کے متعلق نبیؐ نے فرمایا تھا کہ: اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتیں تو میں یکے بعد دیگرے عثمان کے نکاح میں دیتا،یہاں تک کہ ان میں سے کویی باقی نہ رہتی ۔(اسد الغابہ :۳ / ۴۸۲ )ایسے چہیتے داماد اور جلیل القدر صحابی کے ساتھ ظالموں نے کیا سلوک کیا اگر وہ بیان کیا جائے تو تاریخ کی چیخیں نکل جائیں گی۔۔۔آج وہی عثمان پانی کے ایک گھونٹ کے لئے ترس رہے ہیں کہ جس نے امت کے لئے کنویں کو خرید کر وقف کیا تھا، کھانے کے ایک نوالے کے لئے بے چین ہیں کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارۂ ابرو پر اناج سے بھرے ہوئے اونٹوں کی قطار لگا دیا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔تقریبا چالیس روز تک بھوکا اور پیاسا رکھ کر انتہائی مظلومانہ طریقہ پر آپ کو شہید کیا گیا۔
اس طرح اسلام کے دامن میں بے شمار شہداء ہیں جنہوں نے اپنی جانیں راہ خدا میں لٹا دی،اسلامی تاریخ کا ہر مہینہ اور مہینے کا ہردن شہادتوں سے بھرا ہوا ہے۔ محرم الحرام کے مہینہ میں حضرت حسین کی شہادت کے نام پر مجلسیں منعقد کی جاتی ہیں اور عجیب و غریب انداز
میں واقعۂ شہادت کو بیان کیا جاتا ہے، سامعین پر رقت طاری کرنے کیلئے من گھڑت قسم کے واقعات کو سنایا جاتا ہے۔ایسے موقع پر ہمیں تھوڑی دیر کے لیے یہ سوچنا چاہیے کہ کیا اسلام کی تاریخ میں ایک ہی شہید ہے؟ یا دوسروں نے بھی اپنی جان قربان کی ہے؟ اگر دوسروں نے بھی جامِ شہادت نوش کیا ہے تو پھر کیوں دوسرے شہداء کو بھلادیا گیا؟ کیوں ان کے ساتھ بے توجہی برتی جاتی ہے؟ اگر غم اور ماتم کی محفلیں ہی سجانی ہیں تو پھر آئیے ہردن اسلام میں کوئی نہ کوئی شہید ہے ہر دن ماتم کی مجلسیں منعقد کرتے ہیں اور خوب آہ و بکا ءکرتے ہیں۔۔۔اگر ایسا نہیں کر سکتے تو پھر حضرت حسینؓ کی شہادت کے ساتھ ساتھ دیگر شہداء کا بھی تذکرہ کیجئے ان کو بھی یاد رکھیے کہ جنہوں گلشن اسلام کی آبیاری اپنے مبارک خون سے کی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×