اسلامیات

واقعہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ اوراس کے عبرت خیز پہلو

سیدناوسیدالشباب اہل الجنہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا واقعہ شہادت نہ صرف اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے بلکہ پوری دنیا کی تاریخ میں بھی اس کو خاص امتیاز حاصل ہے،حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا المناک واقعہ تاریخ انسانیت کا ایک ایسا سانحہ ہے،جسے رہتی دنیا تک فراموش نہیں کیا جاسکتا، نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، جگر گوش بتول، سردار جوانان جنت کو جس بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا،وہ تاریخ اسلام کا خونچکاں باب بن چکا ہے,جب ان کی خون کی سرخی سے کربلا کی زمین لالہ زار ہو رہی تھی تو یہ دل دوز منظر دیکھ کر زمین و آسمان تک رو پڑے تھے,ابن اثیرو غیرہ مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعے کے بعد دو تین مہینے تک فضائے آسمان سرخ رہی،یہاں تک کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے اور اس کی کرنے درودیوار پر پڑتیں تو ایسا لگتا جیسے دیواروں پر خون پھیر دیا گیا ہوں۔
ہر سال محرم کا مہینہ آتے ہی ذکرِ غم حسین رضی اللہ عنہ اور یاد شہادت حسین رضی اللہ عنہ سے فضائیں گونجنے لگتی ہے،کتنے ہی لوگ ہیں جو یاد حسین رضی اللہ عنہ میں سینہ کوبی کرتے نظر آتے ہیں، مگر انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا ،کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی اور اپنے پیاروں کی جان کی قربانی کیوں دی؟ وہ مدینہ چھوڑ کر کس مقصد کے لیے عراق جارہے تھے؟شہادت کا واقعہ کس طرح پیش آیا؟کون لوگ اس کے ذمہ دار تھے؟کس مقصد کے لئے ان کو شہید کیا گیا؟وقت کے ساتھ ساتھ اس قصے میں بہت سی بے سروپا اور من گھڑت باتیں شامل ہو گئی ہیں اور اصل واقعہ دھندلا پڑتا جا رہا ہے،ضرورت ہے کہ اس واقعے کو اس کے حقائق کے ساتھ زندہ رکھا جائے اور اس مقصد کو بھی پیش نظر رکھا جائے، جس کے لیے حضرت حسین نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور یزید کی ولی عہدی
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری ایام سے اس واقعہ کو جوڑ کر دیکھئے انہیں مختلف لوگوں کی طرف سے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ کی زندگی میں نظام خلافت کی بنیادوں کو اس طرح مستحکم کردیں کہ کوئی انہیں ہلانا سکے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے بیٹے یزید کو اپنا ولی عہد نامزد فرما دیں،عراق کے شہر کوفے سے چالیس مسلمانوں پر مشتمل ایک وفد نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ یزید بڑا قابل شخص ہے،مملکت اسلامیہ کے امور پر اس کی گہری نظر ہے،بہتر ہوگا کہ آپ اپنی زندگی ہی میں عمائدین مملکت اور مخصوص افراد سے یزید کی خلافت پر بیعت لے لیں تاکہ آپ کی زندگی ہی میں یہ مسئلہ حل ہو جائے،اور آپ کے بعد ملت اسلامیہ کا شیرازہ منتشر نہ ہو،اس وقت یزید کی اخلاقی صورت حال بھی لوگوں پر خاص طور پر ان کے والد بزرگوار پر منکشف نہیں تھی،شروع میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ تجویز قبول کرنے میں کچھ تردد بھی تھا،لیکن مختلف جہتوں سے اصرار بڑھا تو وہ اس تجویز کو مسترد نہ کرسکے،بالآخر یزید کی ولی عہد اور اس کی خلافت پر بیعت کا وہ حادثہ رونما ہو گیا جو شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے انسانیت سوز سانچے کا سبب بنا،فتنہ سازوں نے پوری منصوبہ بندی کر رکھی تھی،چنانچہ مملکت اسلامیہ کے طول و عرض میں یہ خبر پھیلا دی گئی کہ یزید کی خلافت کا اعلان ہوچکا ہے،اور شام،عراق،کوفہ،بصرہ سمیت تمام بڑے شہر اس کی خلافت پر متفق ہو گئے ہیں اب صرف حجاز باقی ہے،وہاں کے لوگ بھی اگر بیعت کر لیں تو کوئی شخص بھی ایسا نہ ہو گا جو یزید کی خلافت و امارت پر اتفاق نہ ہو،حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ کے گورنر مروان کو لکھا کہ وہ یزید کی خلافت کا اعلان کرے اور لوگوں سے بیعت لے، اس نے مسجد نبوی میں لوگوں کو جمع کیا اور خطبہ دیا کہ امیرالمومنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے پیش رو خلفا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سنت کے مطابق یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے بعد کے لیے انہوں نے یزید کا نام طے کیا ہے آپ حضرات بھی اس کی خلافت پر بیعت کر لیں،حجاز کے لوگ جن میں کئی صحابہ بھی تھے یزید کی خلافت پر متفق نہیں تھے،اول تو ان کی نظر میں یہ طریقہ ہی غلط تھا کہ باپ کے بعد خلافت کو وراثت کے طور پر اولاد کی طرف منتقل کر دیا جائے،دوسرے وہ یزید کے حالات سے بھی بے خبر نہیں تھے ،ان کی نگاہ میں وہ اس ذمہ داری کا اہل نہیں تھا،اس لیے مروان کی تقریر پر لوگوں کا ردعمل منفی رہا،یہاں تک کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سن۵۱ ہجری میں خود حجاز کا سفر کیا،پہلے مدینہ منورہ تشریف لائے،وہاں انہوں نے امیر المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضری دی اور عرض کیا کے مدینہ کے فلاں فلاں حضرات میری مخالفت کر رہے ہیں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے فرمایا میں نے سنا ہے آپ ان پر زبردستی کر رہے ہیں، اور انہیں قتل تک کی دھمکی بھی دے رہے ہیں، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کی تردید کی اور کہا کہ یہ محض افواہ ہے البتہ یزید کی خلافت پر تمام شہروں کے باشندے متفق ہو چکے ہیں، بیعت مکمل ہوچکی ہے، یہ چند حضرات مخالفت پر کمر بستہ ہیں ،کیا میں اس بیعت کو فسخ کردوں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں صبر و تحمل اور رواداری احترام اور نرمی کا مشورہ دیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس مشورے پر عمل کا وعدہ کرکے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے- مدینہ منورہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے قیام کے دوران حضرت حسین رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ ابن الزبیر رضی اللہ عنہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما جیسے کبار صحابہ اس خوف سے اہل و عیال کے ساتھ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے کہ کہیں ان لوگوں کو یزید کی خلافت پر بیعت کرنے کے لیے مجبور نہ کیا جائے -حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو انہوں نے موخرالذکر تینوں حضرات کو فردا فردا بلاکر گفتگو کی ،مگر انہوں نے ایک ہی بات کہی کہ ہمیں یہ تجویز منظور نہیں،اس کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ ابن الزبیر رضی اللہ عنہما وغیرہ کئی افراد نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور انہیں مشورہ دیا کہ آپ اس معاملے میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ،یا حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا طریقہ اختیار کریں، مگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں قبول نہیں فرمایا اور حجاز میں یزید کی بیعت کا معاملہ اسی طرح معلق رہا،یہاں تک کہ۶۰ ھجری میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے۔
یزید کی تخت نشینی اور کبار صحابہ کا بیعت سے انکار
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے انتقال سے پہلے انہوں نے یزید کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ میرا گمان یہ ہے کہ اہل عراق حسین رضی اللہ عنہ کو تمہارے مقابلے میں لائیں گے، اگر ایسا ہو اور تم مقابلے میں کامیاب ہو جا تو حسین سے درگزر کرنا،سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت داری کی بنا پر وہ احترام کے مستحق ہیں،تمام مسلمانوں پر ان کا بڑا حق ہے-تخت خلافت پر متمکن ہوتے ہی یزید نے پہلا کام یہ کیا کہ مدینہ منورہ کے حاکم ولید بن عتبہ بن ابی سفیان کو خط لکھا کہ جن لوگوں نے میری بیعت کی مخالفت کی ہے ان سب کو بیعت پر مجبور کیا جائے،خاص طور پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو کسی بھی حال میں مہلت نہ دی جائے یہ خط پڑھتے ہیں اس نے ان حضرات کو مسجد نبوی میں بلا بھیجا، حضرت حسین رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ اس مجلس کا مقصد یقینی طور پر یزید کی خلافت پر بیعت لینا ہے، ایسا لگتا ہے کہ اب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس دنیا میں نہیں رہے ،حضرت حسین رضی اللہ عنہ دوسرے حضرات کے مشورہ سے ولید کے پاس پہنچے،ولید نے ان کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر دی اور یزید کی خلافت پر بیعت کا مطالبہ کیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ بیعت کا معاملہ ہے میں خفیہ طور پر کچھ کرنا یا کہنا نہیں چاہتا آپ عامۃ المسلمین کو جمع کر لیں میں اسی وقت جو کہنا چاہوں گا کہوں گا ،یہ کہہ کر وہ مجلس سے اٹھ گئے اور خاموشی کے ساتھ مکہ مکرمہ چلے گئے یہی طریقہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی اختیار کیا، اس طرح ولید کو ناکامی ہاتھ لگی جس کا خمیازہ اسے اپنے منصب حکومت گنواکر بھگتنا پڑا،اس کی جگہ عمروبن سعید اشدق کو مدینہ کا حاکم مقرر کیا گیا،اس نے عبداللہ ابن زبیر کے بھائی عمر ابن الزبیر کو ان حضرات کی گرفتاری پر مامور کیا،یہ شخص دوہزار نوجوانوں کولے کر مکہ پہنچا،اس نے ان حضرات کو گرفتار کرنا چاہا مگر ناکام واپس ہواجن دنوں حضرت حسین رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں مقیم تھے،اطراف و اکناف کے لوگ ان کی زیارت و ملاقات کے لیے حاضر ہوتے تھے۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہا کی کوفہ روانگی ۔
اہل کوفہ کو یہ اطلاع مل چکی تھی کہ حضرت معاویہ وفات پاچکے ہیں اور حجاز کے سرکردہ حضرات نے یزید کی بیعت سے انکار کردیا ہے،کوفہ کے کچھ لوگوں نے حضرت حسین کو خط لکھا کہ آپ فورا کوفہ تشریف لے آئیں،ہم آپ کے دست حق پر بیعت کرنا چاہتے ہیں،یزید کے خلافت پر ہم بھی متفق نہیں ہے،کوفہ والوں نے اسی ایک خط پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یکے بعد دیگرے متعدد خطوط لکھے، یہاں تک کہ ان خطوط سے دو تھیلے بھر گئے تھے، تمام خطوط میں یہی بات تھی کہ ہم یزید کی خلافت سے اتفاق نہیں کرتے آپ خود یہاں تشریف لے آئیں،کوفے کا بچہ بچہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہتا ہے،خطوط کے ساتھ ساتھ کچھ وفود بھی آئے، اور انہوں نے بھی یہی درخواست کی، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا متاثر ہونا فطری تھا وہ ایک دانشمند اور زیرک انسان تھے، اس لیے انہوں نے بہتر سمجھا کہ کوفہ جانے سے پہلے کسی معتمد قاصد کو بھیج کر حالات معلوم کر لیے جائیں، اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو کوفہ روانہ کیا، مسلم بن عقیل نے اپنے چند روزہ قیام کے دوران یہ محسوس کیا کہ کوفہ کے عام مسلمان یزید سے متنفر ہیں، اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی بیعت کے لیے بے چین و بیقرار ہیں،یہ دیکھ کر انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت لینا شروع کر دی اور ابتدائی چند دنوں میں بیعت کرنے والوں کی تعداد اٹھارہ ہزار سے تجاوز کرگئی، ابھی مسلم بن عقیل نے یہ اطمینان بخش صورت حال دیکھ کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو لکھ دیا کہ وہ کوفہ آ سکتے ہیں، مگر ابھی خط حضرت حسین رضی اللہ عنہ تک پہنچا بھی نہ تھا کہ اچانک تبدیل ہوگئے اور کوفے کے حاکم نعمان ابن بشیر جو فطرتا صلح جو قسم کے انسان تھے، حضرت معاویہ کے مشیر خاص’’ سرجو‘‘ ان کے مشورے سے نعمان بن بشیر کو برخواست کر دیا اور کوفے کی امارت پر عبیداللہ ابن زیاد کو منتخب کر دیا، اور یہ کہا کہ جہاں بھی خلیفہ وقت یزید کا کوئی مخالف پایا جائے اسے اسی وقت سولی پر لٹکا دیا جائے، اس اعلان کے بعد کوفے کے لوگوں میں سراسیمگی پھیل گئی،جن لوگوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی خلافت پر مسلم بن عقیل سے بیعت کی تھی وہ کونوں کھدروں میں منہ چھپانے لگے، کچھ وقت گزرا تھا کہ مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ تنہا رہ گئے ،اخیرش مسلم بن عقیل گرفتار کر لیے گئے اور انہیں قصرامارت کی فصیل پر لے جا کر قتل کر دیا گیا، ابن عقیل رضی اللہ عنہ کو جیسے ہی حالات کی تبدیلی کا اندازہ ہوا انھوں نے محمد بن اشعث کے ذریعے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں یہ پیغام بھجوایا کہ آپ راستے سے ہی واپس چلے جائیں ہرگز قصد نہ کریں،اہل کوفہ کے خطوط سے دھوکا نہ کھائیں یہ وہی لوگ ہیں جن کی بے وفائی سے مایوس ہو کر آپ کے والد بزرگوار موت کی تمنا کیا کرتے تھے،محمد بن اشعث نے اپنے قاصد کے ذریعے یہ پیغام بھجوا دیا، اس وقت حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کا قافلہ مقام زیالہ تک پہنچ چکا تھا، یہ پیغام سن کر بھی حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنا سفر جاری رکھنے کا ارادہ منسوخ نہیں کیا اور فرمایا،،جو چیز مقدر ہوچکی ہے وہ ہو کر رہے گی۔
شہادت حسین رضی اللہ عنہ کی خونچکاں داستاں
اگر چہ کبار صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو منع کیا کہ وہ کوفہ نہ جائیں،حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ایک دینی ضرورت سمجھ کر یہ عزم کیا تھا اگرچہ متوقع خطرات سے وہ باخبر تھے، مگر مقصد کی اہمیت نے تمام خطرات کو ان کی نگاہوں سے اوجھل کر دیا بالآخر۶۰ ھجری ذی الحجہ کی ابتدائی تاریخوں میں آپ مکہ سے کوفے کے لئے روانہ ہوئے، بہرحال یہ قافلہ اسی طرح چلتا رہا، کوفہ دن بدن قریب آتا رہا، راستے میں بھی کئی لوگوں نے منع کیا،، مقام ثعلبیہ میں پہنچ کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی،یہ خبر سن کر بعض ساتھیوں نے عرض کیا کہ ان حالات میں لوٹ جانا ہی بہتر ہے کیوں کہ کوفہ میں آپ کا کوئی ساتھی اور غمگسار نہیں ہے، یہ سن کر بنو عقیل کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ ہم ابن عقیل کا قصاص لیں گے، مقام زیالہ پر پہنچ کر یہ اطلاع ملی کہ آپ کے رضاعی بھائی ابن لقیط بھی قتل کر دیے گئے ہیں، ان کو ابن عقیل کی خیریت معلوم کرنے کے لیے آگے روانہ کیا گیا تھا، اس موقع پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اہل کوفہ نے ہمیں دھوکا دیا ہے اب جس کا جی چاہے وہ واپس ہو جائے، اس اعلان کے بعد وہ بدوی جو راستے کے مختلف مقامات سے ساتھ ہو گئے تھے ادھر ادھر ہو گئے اور صرف وہ لوگ باقی رہ گئے جو مکے سے ان کے ساتھ چلے تھے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سفر جاری تھا ابن زیاد نے حر بن یزید کی قیادت میں ایک ہزار نفوس پر مشتمل فوج حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے مقابلے کے لئے بھیج دی حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو مستعد رہنے کا مشورہ دیا،جب وہ لوگ قریب آگئے تو ان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے لوگو!میں اللہ تعالی کے سامنے اور تمہارے سامنے یہ عذر رکھتا ہوں کہ میں تمہارے بلانے پر یہاں آیا ہوں، اگر تم اپنے وعدے پر قائم ہو تو کوفے کی طرف جاؤں گا اور اگر تمہیں میرا آنا پسند نہیں تو میں جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا جاتا ہوں حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے مختلف خطبوں میں اس بات کا اعادہ کیا، ایک موقع ایسا بھی آیا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ سوار ہو جائیں اور لوٹ چلیں،مگر حر بن یزید نے انہیں جانے نہیں دیا اور یہ اصرار کیا کہ آپ ابن زیاد کے پاس چلیں، مگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ابن زیاد کے پاس جانے سے انکار فرما دیا، کچھ دیر تک اسی طرح رد و کد ہوتی رہی،پھرطے ہوا کہ ایسا راستہ اختیار کیا جائے جو نہ کوفہ پہنچے اور نہ مدینہ بلکہ کسی اور راستے پر چلتے رہے یہاں تک کہ ابن زیاد کی طرف سے واضح حکم آجائے، جب ابن زیاد کو مقام نینوا پر یزید کا خط ملا جس میں لکھا تھا کہ تم حسین رضی اللہ عنہ پر میدان تنگ کر دو اور انہیں ایسی جگہ لے جا ؤجہاں پانی نہ ہو، اسی دوران عمر بن سعد کی قیادت میں چار ہزار کا مزید مشکل بھی پہنچ گیا، اس وقت بھی حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد سے فرمایا کہ میں اہل کوفہ کی دعوت پر آیا ہوں اگر ان کی رائے بدل گئی ہے تو میں واپسی کے لئے تیار ہوں، عمر بن سعد نے ابن زیاد کو لکھا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ واپسی پر آمادہ ہیں، مگر ابن زیاد نے جواب میں لکھا کہ ان کے سامنے یزید کے ہاتھ پر بیعت کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، اس نے عمر بن سعد کو حکم دیا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر پانی بالکل بند کردو، حضرت حسین رضی اللہ عنہ مسلسل اس کوشش میں تھے کہ جنگ نہ ہو اور مسلمانوں کا خون رائگاں نہ جائے ، اسی لئے انہوں نے تجویز بھی رکھی کہ مجھے یزید کے پاس جانے دیا جائے میں خود اس سے اپنا معاملہ طے کر لوں گا مگر زیاد نے یہ تجویز بھی نہیں مانی اور عمر بن سعد کو معطل کرکے شمر ذی الجوشن کو لشکر کی کمان سپرد کردی، اس نے قتال کا اعلان کردیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ آج قتال نہ کرو تاکہ میں آج رات وصیت نماز دعا اور استغفار کر سکوں، اس کے بعد انہوں نے اپنے اہل بیت کو تسلی دی اور ساتھیوں سے کہا کہ دشمن صرف میری تاک میں ہے، تم لوگ ادھر ادھر ہو جا ؤمگر کسی نے بھی ان کا یہ مشورہ قبول نہیں کیا، اس کے بعد انہوں نے اپنی بہن سے کہا میں تمہیں خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ تم میری شہادت پر ماتم نہ کرنا،کپڑے نہ پھاڑنا آواز سے نہ رونا نہ چلانا، دشمن کی فوج سے خطاب کرتے ہوئے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے لوگو! تم میرا نسب دیکھو میں کون ہوں، کیا میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کا بیٹا نہیں ہوں، کیا تمہارے لیے جائز ہے مجھے قتل کر ڈالو مجھے بتلا کہ میں نے کسی کو قتل کیا ہے میں نے کسی کا مال لوٹا ہے یا کسی کو زخمی کیا ہے ،، جب یہ خطبہ طویل ہونے لگا تو شمر نے تیرانداز شروع کر دی، اس طرح گھمسان کی جنگ شروع ہوئی، ظہر کے وقت تک حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اکثر رفقا شہید ہوچکے تھے، نماز کے بعد پھر جنگ شروع ہوئی، اسی دوران حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بڑے صاحبزادے علی اکبر شہید ہوچکے تھے، حضرت حسین بہادری کے ساتھ ڈٹے رہے، یہاں تک کہ ایک قبیلہ کندہ کے شقی القلب مالک بن نسیر نے آگے بڑھ کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر پر تلوار چلائی، اس کے باوجود حضرت حسین رضی اللہ عنہ بہادری کے ساتھ لڑتے رہے ،اس وقت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پیاس اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی، آپ پانی پینے کے لیے دریائے فرات کے قریب تشریف لے گئے بدبخت حصین بن عمیر نے آپ کے منہ پر نشانہ لگا کر تیر پھینکا اور منہ سے خون جاری ہو گیا، اس کے بعد شمر دس آدمیوں کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا مگر انہوں نے اس حالت میں بھی سب کا مقابلہ کیا تاریخ جنگ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے جس شخص کی اولاد اور ان کے رفقا اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دیے گئے ہوں اور خود شدید طور پر زخمی ہو، اسے پیاس کی شدت نے بے چین کررکھا ہو، اور وہ قوت اور ثبات قدمی سے مقابلہ کرے_شمر نے جب یہ دیکھا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کسی طرح قابو میں نہیں آرہے ہیں تو اس نے اپنے کئی ساتھیوں کو للکار کے کہا کہ وہ سب مل کر یکبارگی حملہ کریں، چنانچہ بہت سے بد نصیب آگے بڑھے اور انہوں نے نیزوں اور تلواروں سے حملہ کرکے ان کو شہید کر ڈالا، آپ کی لاش کو دیکھا گیا تو تینتیس زخم نیزوں کے ، چونتیس زخم تلواروں کے، بدن پر تھے، تیروں کے زخم ان کے علاوہ تھے، ابن زیاد کا حکم تھا کہ قتل کے بعد لاشوں کو روندا جائے، یہ کام بھی کیا گیا اس کے بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک ابن زیاد کے دربار میں لایا گیا، پھر کوفہ کے بازاروں میں گھمایا گیا پھر یزید کے پاس شام روانہ کیا گیا جب یہ خبر شام پہنچی تو ہر طرف ماتم برپا ہوگیا، خود یزید کامحل آہ وبکا سے گونجنے لگا۔
واقعہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ اور درس عبرت
نواسہ رسول جگر گوشہ بتول سردار نوجوانان جنت کی دردناک مظلومانہ شہادت پر تو زمین و آسمان روئے، جنات روئے، جنگل کے جانور متاثر ہوئے، انسان اور پھر مسلمان،تو ایسا کون ہے جو اس کا درد محسوس نہ کرے- یاکسی زمانے میں بھول جائے لیکن شہید کربلا رضی اللہ عنہ کی روح مقدس درد و غم کا رسمی مظاہرہ کرنے والوں کے بجائے ان لوگوں کو ڈھونڈتی ہے جو ان کے درد کے شریک اور مقصد کے ساتھی ہوں، ان کی خاموش مگر زندہ جاوید زبان مبارک مسلمانوں کو ہمیشہ اس مقصد عظیم کی دعوت دیتی رہتی ہے جس کے لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بے چین ہو کر مدینہ سے مکہ اور پھر مکہ سے کوفہ جانے کے لیے مجبور تھے، اور جس کے لیے اپنے سامنے اپنی اولاد اپنے اہل بیت کو قربان کرکے خود قربان ہو گئے_واقع شہادت کو اول سے آخر تک دیکھئیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے خطوط اور خطبات کو غور سے پڑھیے آپ کو معلوم ہوگا کہ مقصد یہ تھا
1۔ کتاب و سنت کے قانون کو صحیح طور پر رواج دینا۔
2۔ اسلام کے نظام میں عدل کو از سر نو قائم کرنا۔
3۔ حق کے مقابلے میں زور و زر کے نمائشوں سے مرعوب نہ ہونا۔
4۔ حق کے لیے اپنا جان و مال اور اولاد سب قربان کر دینا۔
5۔ اسلام میں خلافت نبوت کے بجائے ملوکیت و آمریت کی بدعت کے مقابلے میں مسلسل جہاد۔
6 ۔خوف و ہراس اور مصیبت و مشقت میں نہ گھبرانا ،اور ہر وقت اللہ تعالی کو یاد رکھنا اور اسی پر توکل اور ہر حال میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا کوئی ہے جو جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مظلوم کربلا شہید کی اس پکار کو سنے اور ان کے مشن کو ان کے نقش قدم پر انجام دینے کے لیے تیار ہو، ان کے اخلاق فاضلہ اور اعمال حسنہ کی پیروی کو اپنی زندگی کا مقصد پر ٹھرائے، یا اللہ ہم سب کو اپنی اور اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کی محبت کاملہ اور اتباع کامل نصیب فرما۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×