اسلامیات

دوکتابیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو مثالیں

از : محمد انصاراللہ قاسمی
آرگنائزر مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ تلنگانہ وآندھراپردیش

مخدوم گرامی حضرت مولانا محمد عبد القوی صاحب دامت برکاتہم ممتاز اور مایہ ناز علماء دین میں سے ہیں اوراپنی بلند پایہ ہمہ جہت اور ہشت پہلو علمی فکری تعلیمی اور دعوتی خدمات کی وجہ سے وقت کے نامور وقدآور علماء میں قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ، آپ کی تحریروں اور تقریروں میں دردِ دل دواۓ دل اور سوزِ دل تینوں باتیں بیک وقت محسوس کی جاتی ہیں
” بھٹکے ہوئے آہوں کو پھر سوئے حرم لے چلنا” یہ مولانا محترم کی خدمات کا ایک اہم اور خاص عنوان ہے بالخصوص جن بھائیوں نے اسلام کے نام پر کفریہ عقائد کو قبول کیا ہے اور ہدایت کے نام پر گمراہی کے راستہ کو اختیار کیا ہے اُن تک پوری ہمدردی اور خیرخواہی کے ساتھ حق بات پہونچانا اور سمجھانا یہ آپ کا جذبہ دروں ہے اس سلسلہ میں آپ کی دوکتابیں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں ، ایک "مطالعہ مہدویت” اور دوسری کتاب ” صدیق دیندار چن بسویشور اپنی تحریرات کے آئینہ میں” ہے
"مطالعہ مہدویت” کتاب کے بارے میں یہ کہنا تو درست نہیں ہوگا کہ اس کی وجہ سے مہدوی فرقہ میں ” زلزلہ اور بھونچال ” آگیا کیوں کہ یہ کتاب اس مقصد سے لکھی ہی نہیں گئی تھی ، کتاب کا مقصد مثبت اور معروضی انداز میں بغیر کسی طنز و تعریض کے دعوتی اسلوب میں مہدوی فرقہ کے اصل عقیدوں کو پیش کرنا تھا اور مہدوی حضرات کو منصفانہ غور وفکر کی دعوت دینا تھا ، الحمدللہ مہدوی عقائد کی اصلیت سامنے آنے کےبعد بہت سے منصف مزاج اور حقیقت پسند مہدوی حضرات کو احساس ہوا کہ صحیح منزل کوپانے اور اس تک پہنچنے کے شوق وجذبہ میں کہیں ہم غلط راستے پر تو نہیں چل پڑے؟؟ چنانچہ مہدوی فرقہ کی بڑی تعداد اپنے غلط وگمراہ عقائد سے تائب ہوئی اور مہدویت کے اسلام مخالف تصور ونظریہ کو چھوڑ کر قبولِ حق کی سعادت سے مشرف ہوئی اس طرح مولانا محترم کی یہ کتاب مہدوی حضرات کے لیے اصلاح وہدایت کی نقیب ثابت ہوئی
دوسری کتاب دیندار انجمن سے وابستہ افراد کی اصلاح وہدایت کے لئے لکھی گئی ، اس میں بھی انجمن کے بانی وپیشوا کی تحریروں کی روشنی میں نہایت ہی گمراہ کن ملحدانہ اور کافرانہ افکار و نظریات کی وضاحت کی گئی ۔۔۔۔۔۔ مگر اس کتاب کی اشاعت کے بعد دیندار انجمن کے لوگوں میں وہ تبدیلی نظر نہیں آئی جو "مطالعہ مہدویت” کی اشاعت کے بعد مہدوی فرقہ میں نظر آئی اور نہ ہی مہدوی حضرات کی طرح ان لوگوں میں قبول حق کا امید افزا ردعمل دیکھنے کو ملا۔
قبولِ حق کے حوالہ سے دونوں کے ردعمل میں یہ فرق کیوں ہے ؟ حالاں کہ دونوں کتابیں ایک ہی مقصد اور ایک ہی جذبہ کے تحت لکھی گئیں
دیندار انجمن اور مہدوی فرقہ کے حالات اور ماحول پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دیندار انجمن کی بہ نسبت مہدوی فرقہ میں تعلیم یافتہ افراد زیادہ ہیں ظاہر ہے کہ آدمی جب تعلیم یافتہ ہوتووہ کچھ سنجیدہ اور باشعور بھی ہوتا ہے ، اس میں صحیح اور غلط کو سمجھنے کی صلاحیت ہوتی ہے ، اس لئے مہدوی فرقہ میں جب حق بات پوری سچائی اور ثبوتوں کے ساتھ سامنے آئی تو ان تعلیم یافتہ حضرات کو حق سمجھنے اور قبول کرنے میں دیر نہیں لگی، اس کے علاوہ مہدوی فرقہ میں مالدار اور خوشحال طبقہ بھی اچھا خاصا ہے، مالدار آدمی میں اگر مال و دولت کا غرور وتکبر نہ ہو اور اس میں قبولِ حق کا مادہ اور حوصلہ ہوتووہ کسی نام نہاد پیرومرشد کی ذہنی و فکری غلامی میں زیادہ دن نہیں رہ سکتا ۔
مشکل یہ ہے کہ دیندار انجمن کے لوگوں یہ دونوں باتیں نہیں ہے ، جہالت کی وجہ سے وہ بہت ہی ضدی اور ہٹ دھرم واقع ہوۓ، اس بناءپر وہ اپنے گمراہ اور گستاخانہ عقیدوں پر اڑے رہے ، ان میں تلاشِ حق کا جذبہ اور قبولِ حق کا حوصلہ پیدا نہیں ہوسکا
غرض یہ کہ اللّٰہ تعالیٰ کی توفیق وعنایت کے بعد قبولِ حق کے لئے آدمی کا تعلیم یافتہ ، سنجیدہ اور باشعور ہونے کے ساتھ اس میں تلاشِ حق کا جذبہ اور قبولِ حق کا حوصلہ ہونا خاص اہمیت رکھتا ہے
اللہم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×