کسان احتجاج میں شامل 20؍افراد کو این آئی اے کا نوٹس‘ غیر ملکی فنڈنگ کا شبہ

نئی دہلی: 17؍جنوری (عصرحاضر) این آئی اے نے کسان احتجاج میں خالصتان فنڈ سے متعلق تحقیقات کے تحت 20 افراد کو نوٹس بھجوایا۔ این آئی اے نے کسان تحریک میں خالصتان کی مالی اعانت سے متعلق تحقیقات کے تحت 20 افراد کو نوٹس بھجوایا ، این آئی اے نے کسان تحریک میں غیر ملکی فنڈنگ کا شبہ کیا۔ سکھ جسٹس انصاف کیس سے متعلق تحقیقات کا آغاز ہوا۔ الصتانی فنڈنگ کیس میں بلدیو سنگھ سرسا کو بھی نوٹس ملی۔

این آئی اے کے ذریعہ نوٹس بھیجنے کے بعد سخت ردعمل کو ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے رہنما اورپنجاب کے کابینی وزیر سکھجندر سنگھ رندھاوا نے کہا کہ اپنی محنت سے پورے ملک کا پیٹ بھرنے والا کسان ان گھٹیا چالوں سے ڈرنے والا نہیں ہے۔

کانگریس کے رہنما اور پنجاب کے کابینہ وزیر سکھجندر سنگھ رندھاوا نے مرکزی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے کسانوں اور کسان تحریک کے حامیوں کو نوٹس بھیجنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے مرکزی حکومت کی ایک اور بھدی چال قرار دیا۔

رندھاوا نے ایک بیان میں کہا کہ پرامن طریقے سے احتجاج کررہے کسانوں کے خلاف یہ ’سرکاری ناانصافی‘ برداشت نہیں کی جائے گی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیرقیادت قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی حکومت کو اس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اپنی محنت سے پورے ملک کا پیٹ بھرنے والا کسان ان گھٹیا چالوں سے ڈرنے والا نہیں ہے۔ رندھاوا نے کہا ’کالے‘ زرعی قوانین کے معاملے پر مرکزی حکومت کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر جاری کسان تحریک کو کمزور کرنے کے لئے مودی سرکار کی جانب سے چلی گئی بھدی چال ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ حکومت نے اپنے سیاسی مفادات کے لئے مرکزی ایجنسیوں کا غلط استعمال کیا ہو۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ سازش ناکام ہو جائے گی اور مرکزی سرکار کے پاس زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

Exit mobile version