احوال وطن

چین میں تباہی مچارہے کورونا کے ذیلی ویئرینٹ کی ہندوستان میں دستک

نئی دہلی: 21؍دسمبر (عصرحاضر) چین میں کورونا نے ایک بار پھر تباہی جیسے حالات پیدا کر دیئے ہیں۔ لگاتار بڑھ رہے کیسز کے لیے اومیکرون کے سَب-ویریئنٹ ’بی ایف 7‘ کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس سَب ویریئنٹ کی ہندوستان میں بھی دستک ہو چکی ہے۔ یہ جانکاری سرکاری ذرائع نے بدھ کے روز دی۔ افسروں نے بتایا کہ گجرات بایو ٹیکنالوجی ریسرچ سنٹر نے ہندوستان میں بی ایف 7 کے پہلے معاملے کا پتہ لگایا تھا اور اب تک گجرات سے دو معاملے سامنے آ چکے ہیں۔ علاوہ ازیں ایک معاملہ اڈیشہ سے بھی سامنے آیا ہے۔ اومیکروین کے سَب-ویریئنٹ ’بی ایف 7‘ کی ہندوستان میں دستک کے بعد تشویش میں اضافہ ہونا لازمی ہے۔ چین میں چونکہ حالات کافی بگڑ گئے ہیں، اس لیے ہندوستان میں ابھی سے احتیاطی اقدام کی تیاریاں بھی شروع ہو چکی ہیں۔ آج ہی مرکزی وزیر صحت منسکھ منڈاویا کی صدارت میں کووڈ ریویو میٹنگ بھی ہوئی ہے لیکن پابندی سے متعلق کوئی بڑا اعلان نہیں ہوا ہے۔ وزیر صحت نے یہ ضرور کہا ہے کہ لوگوں کو بہت احتیاط کرنے کی ضرورت ہے اور ماسک کا استعمال بھی یقینی بنایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ اور آئندہ کے حالات پر مستقل نگرانی رکھنے کی ضرورت ہے اور کسی بھی حالات کا سامنا کرنے کے لیے حکومت تیار ہے۔ بہرحال، ذرائع کا کہنا ہے کہ چین کے مختلف شہر ابھی کووڈ کے سب سے زیادہ متعدی ویریئنٹ اومیکرون، بیشتر بی ایف 7، کی زد میں ہیں جو بیجنگ میں پھیلنے والا سب سے اہم ویریئنٹ ہے۔ اسی کی وجہ سے چین میں کووڈ انفیکشن کے معاملوں میں زبردست اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بی ایف 7 دراصل اومیکرون کے ویریئنٹ بی اے 5 کا سَب ویریئنٹ ہے اور اس میں انفیکشن کی وسیع صلاحیت ہوتی ہے اور اس کی انکیوبیشن مدت کم ہوتی، اور اس میں دوبارہ انفیکشن پیدا کرنے یا ان لوگوں کو بھی متاثر کرنے کی زبردست صلاحیت ہوتی ہے جنھیں ٹیکہ لگایا جا چکا ہے۔ یہ امریکہ، برطانیہ اور بلجیم، جرمنی، فرانس اور ڈنمارک جیسے یورپی ممالک سمیت کئی دیگر ممالک میں پہلے ہی پایا جا چکا ہے۔ اس درمیان چین میں کورونا وائرس کے بڑھتے معاملوں کو دیکھتے ہوئے حکومت ہند ایکشن موڈ میں آ گئی ہے۔ وزارت صحت نے چین سے آنے والوں کی ایئرپورٹ پر جانچ کرنے کو کہا ہے۔ اب چین سے آنے والے لوگوں کی جانچ کی جائے گی۔ وزارت نے افسران کو اس سے جڑی گائیڈلائنس جاری کر دی ہیں۔

مرکزی وزیر صحت منسکھ مانڈویہ نے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اجلاس میں بین الاقوامی اور ملکی ہوائی اڈوں پر حفاظتی اقدامات، بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے اصولوں کا تعین جیسے کئی نکات پر غور کیا جائے گا۔ قبل ازیں، ہیلتھ سکریٹری راجیش بھوشن نے این سی ڈی سی اور آئی سی ایم آر کو ایک خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ تمام ریاستوں کو ’جینوم سیکونسنگ‘ پر زور دینا ہوگا۔ اگرچہ ہندوستان میں اس وقت کورونا کے زیادہ کیسز نہیں ہیں اور اس سے ہونے والی اموات بھی نہ کے برابر ہو رہی ہیں۔ تاہم پوری دنیا میں اس وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار کے پیش نظر، حکومت ایک مرتبہ پھر متحرک ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہیلتھ سکریٹری راجیش بھوشن نے این سی ڈی سی اور آئی سی ایم آڑ کو ایک خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر وقت پر کورونا کی نئی شکلوں کی شناخت کرنی ہے تو اس کے لیے جینوم سیکونسنگ ضروری ہے۔ انہوں نے ریاستوں کو جینوم سیکونسنگ کے لیے نمونے بھیجنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ مرکزی وزارت صحت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ملک میں ابھی 10 الگ الگ کورونا کے ویریئنٹ ہیں، اس میں سب سے تازہ ویریئنٹ بی ایف 7 ہے۔ اسی کے ساتھ ملک میں کہیں کہیں ڈیلٹا ویریئنٹ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×