اسلامیات

’’اعتکاف ‘‘ تقرب الٰہی کا اہم ترین ذریعہ نکل جائے دم تیر ے قدموں کے نیچے

ارشاد رب العالمین ہے :وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ (العنکبوت:’’جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ،ہم انہیں اپنی (خوشنودی کی) راہ ضرور دکھلائیں گے،بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ساتھی ہے (جو خلوص دل سے) نیک عمل کرتے ہیں ‘‘(مذکورہ آیت مبارکہ میں) جہاد کے اصل معنیٰ دین میں پیش آنے والی رکا وٹوں کو دور کرنے میں اپنی پوری توانائی صرف کرنے کے ہیں،اس میں وہ رکاوٹیں بھی داخل ہیں جو کفار وفجار کی طرف سے پیش آتی ہیں ،کفار سے جنگ ومقاتلہ اس کی اعلیٰ فرد ہے ،اور وہ رکاوٹیں بھی داخل ہیں جو اپنے نفس اور شیطان کی طرف سے پیش آتی ہیں(معارف القرآن :۶؍ سورہ ٔ عنکبوت ۲۶) دین اور احکام دین پر عمل پیرا ہونے کے لئے جد وجہد کرنا اور دین پر ثابت قدم رہنے کے لئے کفار ومشرکین یا نفس وشیطان کی طرف سے پیش آنے والی رکاوٹوں کا مقابلہ کرنے کا نام مجاہدہ ہے، اہل ایمان کے دشمن جہاں ایک طرف کفار ومشرکین اور یہود ونصاریٰ ہیں تو دوسری طرف شیطان اور اس کا اپنا نفس بھی ہیں ، کفار ومشرکین اور دیگر دشمنوں کے شر سے بچنا شیطان اورنفس کے مقابلہ میں آسان ہے ،کفار ومشرکین کو مقابلہ کے ذریعہ زیر کیا جاسکتا ہے ،شیطان کو لاحول پڑھ کر بھگایا جا سکتا ہے لیکن کمبخت نفس لاحول سے بھی نہیں بھاگتا بلکہ اندر ہی سے وار کرتا رہتا ہے ، نفس کا حملہ دشمن کے حملہ سے زیادہ خطر ناک اور کاری ضرب پہنچاتا ہے ،اسی لئے ا س سے مقابلہ کو جہاد اکبر سے تعبیر کیا گیا ہے ،چنانچہ ایک جنگ سے واپس ہوتے ہوئے آپؐ نے صحابہ ؓ سے مخاطب ہوکر فرمایا’’ہم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف لوٹ رہے ہیں ‘‘یعنی ظاہری دشمنوں سے تو ہم نے نمٹ لیا ہے اور اب باطنی دشمن سے نمٹنا ہے ،باطنی دشمن نفس ہے اور وہ نقصان پہنچانے میں ظاہر ی دشمن سے بھی زیادہ طاقور اور خطر ناک ہے،ایک حدیث میں آپ ؐنے نفس سے مقابلہ کرنے اور اس کی مخالفت کرنے والے کو اصل مجاہد قرار دیا ،ارشاد فرمایا :المجاھد من جاھد نفسہ(ترمذی :۱۷۲۱) ’’ مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرتا ہے ‘‘ ۔
جو شخص مستقل مزاجی کے ساتھ مجاہدہ کرتا رہے گا اور اس کے ذریعہ اپنے دشمن کو مغلوب کر نے کی کوشش میں لگا رہے گا تواس کے لئے اعمال صالحہ کو اختیار کرنا سہل ہو جائے گا ، درحقیقت مجاہدہ کرنے والا خود اپنا ہی فائدہ کرتا ہے،ارشاد ربانی ہے:وَمَن جَاہَدَ فَإِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفْسِہِ إِنَّ اللَّہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِیْنَ(العنکبوت:۶)’’اور جو شخص محنت کرتا ہے (یعنی نیکیوں کے حصول میں بھر پور کوشش کرتا رہتاہے تو در اصل) وہ اپنے ہی (نفع کے) لئے محنت کرتا ہے (ورنہ) اللہ تعالیٰ (تو) تمام عالم سے بے نیاز ہیں‘‘یعنی انسان کا نیکی کی طرف بڑھنا اور اعمال صالحہ کے لئے جد وجہد کرنا ،اس کے اپنے فائدہ اور ثواب کے لئے ہے ، انسان کو اس طرح کی مشقت میں ڈالنے سے اللہ تعالیٰ کا کچھ فائدہ نہیں ،وہ تو ہر چیز سے بے نیاز ہے ،اگر ساری دنیا سجدہ میں گر جائے تو اس کی شان میں ذرہ برابر اضافہ ہونے والا نہیں اور اگر پوری دنیا بغاوت پر اتر آئے تب بھی اس کے مقام میں ذرہ برابر کمی ہونے والی نہیں ،انسان جو کچھ اچھا یا بُرا عمل کرے گا اسی کے لحاظ سے جزا یا سزا پائے گا۔
چونکہ مجاہدہ تقرب الٰہی کا اہم ترین ذریعہ ہے اسی لئے قرآن مجید اور احادیث شریفہ میں اہل ایمان کو مجاہدہ کی ترغیب دی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ حضرات مشائخین رحمہ اللہ کا معمول ہے کہ وہ راہ سلوکے طالب علموں کو اول مجاہدہ کے ذریعہ گناہوں سے بچنا سکھا تے ہیں کیونکہ مجاہدہ نفس کو کمزور کرنے اور معاصیات سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے، مشائخین رحمہ اللہ مجاہدہ کی حقیقت بیان کر تے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’ مجاہدہ دراصل اتکاب طاعات اور اجتناب معاصی کا نام ہے ،چنانچہ ان حضرات نے معاصی سے بچنے اور نفس جیسے خطرناک دشمن کو کمزور کرنے کے لئے چار چیزوں کا حکم دیا ہے جو در حقیقت مجاہدہ کے چار اہم رکن کہلاتے ہیں ، (۱) تقلیل کلام’’کم بولنا‘‘ یعنی بے فضول اور لایعنی گفتگو سے اجتناب کرنا۔ (۲) تقلیل طعام’’ کم کھانا‘‘ یعنی بقدر ضرورت کھانا ، (۳) تقلیل منام ،’’ کم سونا‘‘ یعنی رات کی عبادت کے لئے وقت نکالنا،اور (۴) تقلیل اختلاط مع الانام ’’لوگوں سے میل جول کم رکھنا‘‘ یعنی غیر صالح لوگوں سے بچتے رہنا۔
اللہ تعالیٰ نے مجاہدہ کے چار وں ارکان کو رمضان المبارک کی عبادتوں میں شامل کر دیا ہے ،گویا رمضان المبارک کے ذریعہ مجاہدہ کی تکمیل کرائی گئی ہے ،روزہ کے ذریعہ بھوکے رہنے کا مجاہدہ کرواکر کھانے پینے میں اعتدال پیدا کیا جاتا ہے ، اگر چہ روزہ دار کو کم کھانے کا حکم نہیں دیا گیا لیکن اس کے معمولات پر روک لگا دی گئی ، یہ ایسا مجاہدہ ہے جو کم کھانے سے بھی زیادہ نافع ہے ، روزہ کے ذریعہ نفس کو حکم ربی کا پابند بننے کی ترغیب دی جاتی ہے اور نفسانی خواہشات پر کنٹرول کرنے کی تربیت دی جاتی ہے ،باوجود حلال غذائیں سامنے ہونے کے روزہ دار ان کی طرف ہاتھ نہیں بڑ ھاتا اور نفس کو تربیت دیتا ہے کہ وقت مقررہ سے پہلے اس کا استعمال ناجائز اور حرام ہے ، اسی طرح حالت روز میں فضول اور لایعنی گفتگو سے منع کرکے کم بولنے کا مجاہدہ کروایا جاتا ہے،روزہ کی حالت روزہ دار کے لئے ضروری گفتگواور ذکر وتلاوت تو درست ہے لیکن غیبت ،گالی گلوج اور فضول گفتگو سے سخت منع کیا گیا ہے ، آپ ؐکا ارشاد ہے ’’جو شخص روزہ رکھتے ہوئے باطل کلام اور باطل کام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں(بخاری:۱۷۷۵) ، اور پھر روزہ کے ذریعہ سر کش نفس کو لگام دی جاتی ہے ،آپ ؐ نے ایک موقع پر نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا’’اے نوجوانو! تم میں سے جو کوئی نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی سکت رکھتا ہو تو اسے شادی کر لینی چاہیے ،کیونکہ شادی نگاہ کو پست رکھتی ہے اور شہوانی خواہشات کو بے لگام نہیں ہونے دیتی ،اور جو نکاح کی ذمہ داریاں اُٹھانے کی سکت نہیں رکھا تو وہ روزہ کھے ،اس لئے کہ روزہ شہوت کو توڑ نے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے‘‘(بخاری)۔ تراویح کے ذریعہ قیام الیل کی تربیت دی جاتی ہے ، اس مجاہدہ کے ذریعہ رات کو جاگنے اور خدا کے حضور حاضر ہونے میں مدد ملتی ہے ،جب بندہ دن میں روزہ رکھتا ہے ،پھر بوقت غروب افطار کرتا ہے اور جب رات آتی ہے تو تراویح میں قرآن مجید کے ذریعہ خدا سے ہم کلام ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی محبت نچھاور فرماتے ہیں ،آپ ؐنے ارشاد فرمایا ’’ جو شخص ایمان واحتساب کے ساتھ رمضان کی راتوں میں جاگ کر نوافل (تراویح) کا اہتمام کریگا ،اس کے پچھلے سب گنا معاف کر دئے جائیں گے(مشکوۃ:۱۲۹۶) ، رمضان کے آخری عشرہ میں مسجد میں اعتکاف مسنونہ کے ذریعہ غیر ضروری لوگوں سے میل جول نہ رکھنے کی تربیت دی جاتی ہے ،اس مجاہدہ کے ذریعہ بندہ کو پابند بنایا جاتا ہے کہ وہ روز مرہ زندگی میں بھی صالین کی صحبت اختیار کرے اور غیر صالح لوگوں سے پر ہیز کرے،کیونکہ صالحین کی صحبت سے جہاں قلب میں نورانیت پیدا ہوتی ہے وہیں غیر صالح لوگوں کی معیت سے دل ظلمت کدہ میں بدل جاتا ہے ، روزہ خدا کی محبت میں کھانا پینا چھوڑ دینے کا نام ہے ،تراویح ،محبت الٰہی میںنیند قربان کر نے کا نام ہے اور اعتکاف ساری دنیا سے کٹ کر اور ہٹ دربار خداوندی میں سوالی بن کر پڑے رہنے کا نام ہے ، حافظ ابن قیم ؒ اعتکاف کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’ اعتکاف اللہ کی ذات کے ساتھ وابستہ ہوجانا ہے ،ساری مشغولیات چھوڑ کر اسی کی پاک ذات سے شغف لگانا ہے ،غیر سے کٹ کر اس طرح الگ ہوجانا کے خیالات وتفکرات سب اسی کی محبت میں سما جائے،حتی ٰ کے ساری مخلوق کے ساتھ محبت ختم کرتے ہوئے صرف اسی کی محبت میں ضم ہوجائے(فضائل رمضان) یقینا اعتکاف خالق ومالک کے ساتھ بے حد تعلق اور بے پناہ چاہت کے اظہار کانام ہے ،ایک بندہ جب گھر بار ،بیوی بچے ،دوست احباب ، کاروبار تجارت ؛ بلکہ دنیا سے منقطع ہوکربار گاہ ِ رحمت میںایک سوالی بن کرپڑا رہتا ہے اور درخواست پیش کرکے کہتا ہے کہ اے میرے مالک ! جب تک آپ معاف نہیں فرمادیتے اور بخشش کا فیصلہ نہیں کر دیتے ، آپ کی عزت وجلال کی قسم !میں تب تک ہٹنے والا نہیں ہوں تو ایسے بندے کے معاف کئے جانے اور نوازے جانے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے ،اللہ تعالی تو اپنے بندوں کی مغفرت کا بہانہ تلاش کرتے ہیں ، نبی کریم ؐ ساری زندگی رمضان کے اخیر عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ؐ اپنی وفات تک رمضان کے آخری دس دن اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ ( ترمذی باب ماجاء فی الاعتکاف حدیث ۶۹۰) علماء کرام رحمہ اللہ نے اعتکاف کے فوائد اور اس کی بہت سی حکمتیں بیان کی ہیں منجملہ ان میں سے یہ کہ اعتکاف کرنے والا کئی ایک گناہوں سے بچا رہتا ہے اور کئی ایک نیکیوںکا مستحق بنا رہتا ہے ، اگر کچھ بھی نہ کرے تب بھی اس کو شب ِ قدر تو مل ہی جاتی ہے ؛ چنانچہ اعتکاف کرنے والے کیلئے نیکیاں ہی نیکیاں ہیں معتکف کا سو نا بھی باعث ثواب ہے اورمعتکف اعتکاف میں ہونے کی وجہ سے میت کو غسل نہیں دے سکتا ، جنازہ میں شریک نہیں ہوسکتا ،بیمار کی عیادت نہیں کر سکتا غرباء ومساکین کی جسمانی مدد نہیں کرسکتا ؛ لیکن اللہ تعالی کے پاس وہ اُن سب نیکیوں کا مستحق ہوگا جو اعتکاف کی وجہ سے نہیں کرپاتا ،حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ؐ نے اعتکاف کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ:وہ ( اعتکاف کی وجہ سے اور مسجد میں مقید ہونے کی وجہ سے ) گناہوں سے بچا رہتا ہے اور اس کے نیکیوں کا حساب سارے نیکیاں کر نے والے بندوں کی طرح جا ری رہتا ہے اور نامۂ اعمال میں لکھا جا تا رہتا ہے۔ ( معارف الحدیث ج۴ ص ۱۲۲ )
ایک حدیث میں آپ ؐ نے رمضان کے آخری عشرہ کے اعتکاف کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ’’رمضان کے دس دنوں کا اعتکاف ثواب میں دو حج اور دو عمروں کے برابر ہے، رمضان المارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف ’’سنت مؤ کدہ علی الکفایہ ‘‘ ہے یعنی محلہ میں کسی ایک شخص نے بھی اعتکاف کی نیت سے پورے دس دن مسجد میں بیٹھ جائے تو سب کے ذمہ ادا ہو جائے گا،اگر کوئی بھی نہ بیٹھے تو پھر سارے محلے والے گناہ گار ہوں گے،اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ کا وقت بیس رمضان کے غروب سے لے کر ختم رمضان تک ہے ،چاہے مہینہ انتیس کا ہو یا تیس کا عید کا چاند نظر آتے ہی اعتکاف ختم ہوجاتا ہے ،لہذا ایسی عظیم عبادت کے لئے ہر بندۂ مؤمن کو کمر بستہ ہونا چا ہیے نوجوان اور بوڑھے سب ہی اعتکاف کر کے اس زرین موقع سے فائدہ اُ ٹھانے کی فکر کریں جوانی کی عبادت سے اللہ تعالی خوش ہوتے ہیں اور جو بوڑھے ہیں ان کی عبادت اوران کے پکار نے پر خدا رحمت اور بخشش کے فیصلے فرمادیتے ہیں ، معتکف دربار خداوندی میں پڑے رہ کر اپنے ساتھ پورے محلے والوں کے لئے بھی مغفرت طلب کرتا ہے اور اعلان مغفرت تک ہاں سے وہاں سے نہیں ہٹتا ، وہ تو رحمن کے سایہ رحمت میں اپنے اوقات گزارنا چاہتا ہے ،اگر اس حالت میں اس کی جان بھی نکل جاتی ہے تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ وہ زبان حال وقال سے بس یہی کہتا ہے کہ ؎
نکل جائے دم تیر ے قدموں کے نیچے

یہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے
٭ ٭٭٭٭

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×