ریاست و ملک

خوفِ خدا اور محبت کے بغیر اِزدِواجِی زندگی کا پرسکون انداز میں گزرنا مشکل ہے

کریم نگر: 5؍نومبر (عبدالحمید قاسمی) مسجد نعیم کریم نگر میں 4/نومبر 2019 بروز پیر بعد نماز عصر بعنوان "مثالی ازداوجی زندگی کے سنہری اصول” حضرت مولانا محمد شفیع الدین صاحب ندوی نقشبندی دامت برکاتہم کا ایمان افروز خطاب ہوا، جسمیں حضرت مولانا نے خطبۂ نکاح کی آیتوں کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ سے ایسے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اطاعت و فرمابرداری کے ساتھ زندگی گزاریں، تو موت بھی حالتِ ایمان اور مسلمان ہونے کی حالت میں ہوگی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اصل آزمائش خوشی کے موقع پر ہوتی ہے، کیوں کہ عام طور بندہ غم کے موقع پر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے، اس لئے نکاح کے موقع پر کوئی کام خلاف شرع نہ ہو ۔کامل اور حقیقی مسلمان وہ ہے جو پوری زندگی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے، خطبۂ نکاح کی تینوں آیتوں میں تقوی پرہیزگاری اور ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خوف خدا کے ساتھ میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے رہیں اور تیسری آیت میں خاص طور پر درست بات کرنے کا حکم دیا گیا ہے کیوں کہ میاں بیوی کے تعلقات میں مضبوطی اور خرابی زبان سے ہی متعلق ہے اور ازدواجی زندگی میں زبان کا ہی بہت اہم رول ہے، نکاح سے قبل جب رشتہ طئے ہوتا ہے تو دونوں خاندانوں کی طرف سے تعریفیں ہوتی ہیں اور شادی کے چند مہینوں بعد ہی تربیت،مزاج اور ماحول دونوں خاندانوں کا الگ الگ ہوتا ہے اور غلطیاں جب ایک دوسرے کی سامنے آجاتی ہیں تو ناراضگی کا اظہار زبان سے شروع ہوجاتا ہے اس کے بعد ایک دوسرے کی برائیاں شروع ہوجاتی ہیں اور لڑائی جھگڑے تک کی نوبت پیش آجاتی ہے، یاد رکھیں ہر انسان میں عیب ہے اللہ تعالٰی نے تو میاں بیوی کے رشتے کو لباس سے تعبیر فرمایا ہے جیسے لباس انسان کے ستر کو چھپاتا ہے بلکہ انسان کی خوب صورتی میں چار چاند لگا دیتا ہے بالکل ایسے ہی میاں بیوی ایک دوسرے کے عیب کو چھپائے، مزید مولانا نے فرمایا کہ ازدواجی زندگی کی سب سے بڑی تباہی کا سبب فون ہے، فون کے ذریعہ ہر چھوٹی بات میکے والوں تک پہنچ جاتی ہے- نیز رخصتی سے قبل سہلیاں دلہن کو اپنے شوہر کے سامنے نہ جھکنے کی نصحتیں کرتی ہیں، تودوسری طرف دولہا سسرال والوں کو غلام سمجھ بیٹھتا ہے، الغرض نکاح سے قبل میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق جانے، اپنے بڑوں سے زندگی گزارنے کے اُتار چڑھاؤ اور تجربات حاصل کریں، ہر انسان میں عیب ہے جب وہ اس کو نظر انداز کرتا ہے تو زندگی اس کی خوشحال اور خوش گوار بنجاتی ہے، مولانا کی دعا پر ہی نشست کا اختتام عمل آیا-

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×