افکار عالم

افغان طالبان نے سرعام سزائے موت کے احکام پر عمل درآمد شروع کردیا

افغانستان میں طالبان نے قتل کے جرم میں سزایافتہ ایک شخص کو بدھ کے روزسرِعام موت سے ہم کنار کیا ہے۔طالبان نے دوبارہ برسراقتدارآنے کے بعد پہلی مرتبہ سزائے موت پراس طرح عمل درآمد کی تصدیق کی ہے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں اسلامی قانونِ قصاص کی تشریح میں’’آنکھ کے بدلے آنکھ‘‘ کے انصاف کا حوالہ دیا ہے اورکہا’’سپریم کورٹ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ہم وطنوں کے عوامی اجتماع میں قصاص کے اس حکم پرعمل درآمد کرے‘‘۔
گذشتہ ماہ طالبان کے سپریم لیڈر ہبۃ اللہ اخوندزادہ نے ججوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اسلامی قانون کے ان پہلوؤں پرمکمل طورپرعمل درآمد کریں جن میں سرعام پھانسیاں دینا، سنگساری،کوڑے مارنا اور چوروں کے ہاتھ کاٹنا شامل ہیں۔
اس کے بعد سے اب تک طالبان نےعوامی اجتماعات میں کئی مجرموں کو کوڑے مارے ہیں، لیکن صوبہ فراہ کے اسی نام کے دارالحکومت شہر میں بدھ کو قصاص میں قتل کو طالبان کی جانب سے پہلی بار تسلیم کیا گیا ہے۔
بیان میں موت سے ہم کنار ہونے والے شخص کا نام تاج میرولدغلام سرور بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ صوبہ ہرات کے ضلع انجیل کا مکین تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×