احوال وطن

دہلی فساد معاملہ: بے قصورمسلموں کی گرفتاری کے خلاف میدان میں آئی جمعیۃ علما ء ہند

نئی دہلی: 5/اپریل (پریس ریلیز) دہلی فرقہ وارانہ فساد ات میں چالیس مسلمانوں کی جانیں گئیں، آج ملک کرونا وائرس کی زد میں ہے، لاک ڈاؤن ہے،لیکن اس کے باوجود دہلی پولس بے قصور مسلموں کو گرفتار کرکے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کررہی ہے۔اسی طر ح کے واقعہ میں شیووہار کے رہنے والے ابوبکر، ۵۷سالہ ہاشم علی اورمحمد شاکر برہم پوری کو ہفتہ کے دن پولس نے گرفتار کرکے آج کرکرڈوما کورٹ میں پیش کیا، جہاں ان کی دفاع میں جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے مقرر کردہ وکیل ایڈوکیٹ شمیم احمد موجود تھے۔ اتوار ہونے کی وجہ سے مقدمہ سیشن ٹرائل کے لیے ڈیوٹی مجسٹریٹ وجے شری راٹھور کی عدالت میں پیش ہوا، جہاں جج صاحبہ نے اپنے دائرہ اختیا رکو استعمال کرتے ہوئے تینوں ملزموں کو تہاڑ جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ ابوبکر اور ہاشم علی پر فساد بھڑکانے اور آگ زنی کی دفعات کے تحت مقدمہ ہے، جب کہ محمد شاکر پر اقدام قتل کا مقدمہ عائد کیا گیا ہے۔
آج جب ان کوپیش کیا گیا، اس وقت جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی، مولانا غیور قاسمی وغیرہ بھی کرکرڈوما کورٹ کے احاطے میں موجود تھے۔ واضح ہو کہ جمعیۃ علماء ہند کے جنر ل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے فساد کے فوری بعد مظلوموں و متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے جہاں فساد زدہ علاقوں میں لیگل کیمپ قائم کروائے تھے، وہیں کرکرڈوما کورٹ میں ایڈوکیٹ شمیم احمد کے چیمبر کو بے قصوروں کے مقدمات کے لیے خا ص کیا تھا۔جمعیۃ علماء شروع دنوں سے ریلیف و راحت کے علاو ہ قانونی امداد پر کام کررہی ہے۔
ایڈوکیٹ شمیم احمد نے بتایا کہ قانون کے مطابق ملزم کو چوبیس گھنٹے کے اندر کورٹ میں پیش کرنا ہوتا ہے، اس لیے ہماری طرف سے ابوبکر اور ہاشم علی کے مقدمے کی تیار ی تھی تاہم اسی وقت یہ دیکھا کہ برہم پوری کے رہنے والے محمد شاکر کو بھی اقدام قتل کے مقدمے میں لا یا گیا ہے جو کہ فساد سے جڑا ہواہے، ہم نے دیکھا کہ ان کے ساتھ کوئی وکیل نہیں ہے اور نہ کوئی رشتہ دار۔ ایسی صورت میں مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب کے مشورے سے اور ملزم کی رضا مندی سے جمعےۃ نے اس کیس کو بھی لڑنے کا فوری فیصلہ کیا۔ چنانچہ محمد شاکر کے لیے بھی ہم نے وکالت نامہ لگایا ہے۔ ہم ۷/اپریل کو ان سبھوں کے لیے ضمانت کی عرضی داخل کریں گے۔ اس سلسلے میں ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی جو ان مقدمات کی نگرانی کررہے ہیں، انھوں نے بتایا کہ جمعےۃ علماء ہند ہر بے قصور کا مقدمہ لڑے گی۔فسادات کے بعد یہ ہوتاہے کہ پولس خانہ پری کے لیے کمزوروں اور غریبو ں کو بند کردیتی ہے۔ایسے میں ہم ان کو ہرگز تنہانہیں چھوڑ نہیں سکتے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×