ریاست و ملک

ملک کی جمہوریت کے تحفظ کے لئے متحدہ کوششوں کی ضرورت

دیوبند،17؍ مارچ(سمیر چودھری)مظفرنگر کے قصبہ بڑھانہ میں جمعیۃ علماء بڑھانہ کے زیر اہتمام تحفظ جمہوریت کانفرنس کا انعقاد کیاگیا۔ اس موقع پر دارالعلوم دیوبندکے رکن شوریٰ اور جمعیۃ علمائے ہند کے قومی نائب صدر مولانا عبد العلیم فاروقی نے کہاکہ ہمیں آ ج ایسے ہندوستان کی ضرورت ہے جہاں منادر کی حفاظت کے لیے مسلم سماج کے لوگ آگے آئیں اور مساجد کے تحفظ کے لیے برادران وطن آگے آئیں،ایک ایسا ہندوستان جس میں نام پوچھ کر اور نام دیکھ کرکسی کا کام نہ ہو،ذات برادری کی بنیاد پر کارکردگی نہ دیکھی جائے،سب کو مساوی حقوق ملیں۔انھوں نے کہا ہندوستان کی بنیاد ہی جمہوریت پر ہے،پھر یہ کیوں ہورہا ہے کہ جمہوریت کو بچانے کے لیے دیوانوں کوآگے آنا پڑرہا ہے۔کبھی آپ نے سوچا؟انھوں نے کہا ملک آزاد ہوا تو اسی وقت ایک طبقہ نے کہا ہندوستان اب ہندوراشٹر بنے گا،تبھی ہمارے اکابر مولانا حسین احمد مدنی،رفیع قدوائی،ابو الکلام آزاد اور مہاتماگاندھی اڑگئے کہ نہیں! یہ ملک سیکولر ہوگا،اس کا کوئی مذہب نہیں ہوگا۔انھوں نے کہا ملک آزاد ہوا تو ساتھ ہی تقسیم بھی ہوگیا،جو ہماری تباہی کا پہلا دن تھا۔آج ملک کی جمہوریت پر شرپسند عناصر حملہ آور ہیں،ہمیں ملک کو بچانا ہے،تو ہندو مسلم اور مسلم دلت اور سکھ سبھی کو آگے آنا ہوگا۔مولانا عبد العلیم فاروقی نے مزید کہا جھوٹے ہیں وہ لوگ جو مسلمانوں کی قربانیوں کے منکر ہیں۔انھوں نے کہا ہندوستان میں مسجد ہے،مندر ہے،گرجاگھر ہے اور گُردوارہ ہے تو یہ سب کس کے ہیں ؟ سبھی عبادت گاہیں ہندوستانیوں کی ہیں ،ان میں ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے عقیدہ کے موافق عبادت کرتے ہیں۔انھوں نے کہا ملک کا ہر باشندہ ہندوستانی ہیں،یہاں ذات پات والا نظام نہیں چلنے والا ہے۔انھوں نے کہا اسلام مذہب تو برداشت کا ہے،قربانی وایثار کا ہے،نبوی زندگی کاآغاز دیکھو کہ ۱۳ برس تک بدلہ کی بھی اجازت نہیں تھی۔ آپ کو اُس وقت لوگوں نے لہولہان کیا،مگر سب کچھ خاموش طریقہ سے برداشت کیا،کیوں ؟ صرف اس لیے کہ اسلام رحم اور صبر کی تعلیم دیتا ہے۔قبل ازیںجمعیۃ کے شہر صدر حافظ شیر دین نے جمعیۃ کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور مولانا عبد العلیم فاروقی کا تعارف کراتے ہوئے ان کی خدمت میں سپاس نامہ پیش کیا۔آصف قریشی نے کانفرنس کے اغراض ومقاصد بیان کیے اور نظامت کی۔حافظ تحسین رانا (جنرل سکریٹری )نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔کانفرنس کی آغاز قاری عبد اللہ غوری کی تلاوت اور قاری عبد الجبار کی نعت پاک سے ہوا۔اس دوران مولانا مکرم علی قاسمی،حاجی شاہدتیاگی، مولانا شعیب عالم قاسمی ،پردھان مرسلین،پردھان ظریف،مفتی یامین،مولانا عبدالجلیل،مفتی وسیم،مفتی اسرار،بھائی رضوان،حافظ اللہ مہر صدیقی،مفتی آزادقاسمی ،حکیم اکرم ،حافظ اسرائیل ،حافظ کامل ،حافظ عاقل ،اسلام سیفی ،ڈاکٹر مبین،مولانا عاقل،حافظ شہزاد،راشد منصوری،حافظ عبد الغفار،مولانا ریاست ،قاری عبد القادر فلاحی ،حافظ نوشاد ،قاری عبد الرحمان ،انوار ملک وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×