ریاست و ملک

آئی ایم اے کمپنی: دھوکہ دہی کا ایک سال‘ سرمایہ کار ابھی بھی انصاف کے منتظر

بنگلورو: 24؍جون (عصر حاضر؍نیوز 18) حلال سرمایہ کاری کے عنوان سے ہزاروں لوگوں کو جعلسازی کا شکار کرنے والی بنگلورو کی آئی ایم اے کمپنی "ہمیں تو اپنوں نے لوٹا” کی تلخ حقیقت بن کر رہ گئی ہے۔ ہزاروں کروڑ روپئے کے اس گھوٹالہ میں محمد منصور خان کو چھوڑ کر باقی تمام ملزمین ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔ ایس آئی ٹی سے لیکر سی بی آئی تک  نے اس گھوٹالہ کی جانچ پڑتال کر ڈالی ہے۔ اسمبلی کے ایوانوں، اقتدار کی گلیاروں، عدلیہ کے محرابوں میں کئی بار اس گھوٹالے کی گونج اٹھی، سال بھر یہ معاملہ میڈیا میں چھایا رہا، لیکن آج تک سرمایہ کاروں کو کسی بھی طرح کی راحت میسر نہیں ہوئی ہے۔

آئی مانیٹری ایڈوائزری (آئی ایم اے) گھوٹالہ کے منظر عام پر آنے  کے بعد تقریبا 80 ہزار سرمایہ کار پریشانی کے عالم میں مبتلا ہیں۔ اپنی اصل رقم کی فکر میں کئی افراد اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں، کئی خاندانوں میں دراڑیں پیدا ہوچکی ہیں، کئی شادیاں ٹوٹ چکی ہیں، کئی افراد بے روزگار، بےگھر، بے یار و مددگار ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس ملٹی کروڑ روپئے کے گھوٹالے کو  منظر عام پر آئے ایک سال مکمل ہوا ہے۔  لیکن متاثرہ خاندانوں کو امید کی کوئی کرن ابھی بھی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس معاملے میں سرمایہ کاروں کی شکایتوں کے ازالے کیلئے سینئر آئی اے ایس افسر ہرش گپتا کی قیادت میں حکومت نے اسپیشل کامپٹنٹ اتھارٹی تشکیل دی ہے۔

ہرش گپتا کی فراہم کردہ جانکاری کے مطابق  سرمایہ کاروں کو 2900 کروڑ روپئے ادا کرنے ہیں۔ لیکن اب تک ضبط کئے گئے کمپنی کے اثاثہ جات کی قیمت 450 کروڑ روپئے یا اس سے کچھ زیادہ یا کم ہو سکتی ہے۔ ابھی اثاثہ جات کو آکشن کرنے کی کارروائی شروع نہیں ہوئی ہے۔ اس اتھارٹی نے سرمایہ کاروں سے کلیم فارم جمع کرنے کیلئے آن لائن پورٹل تیار کیا ہے۔ لیکن ابھی درخواستیں لینے کا سلسلہ شروع نہیں ہوا ہے۔  اس معاملے کی نگرانی کرنے والے سماجی کارکن سید گلاب کہتے ہیں کہ تمام فارمس کے جمع ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کی کل تعداد، بقایا جات کی مجموعی رقم ان تمام باتوں کی وضاحت ہوسکے گی۔ لیکن اس پروسیس کو مکمل ہونے میں مزید چند ماہ لگ سکتے ہیں۔

سینئر صحافی مقبول احمد سراج کہتے ہیں کہ آئی ایم اے کمپنی نے پونجی اسکیم کے ذریعہ حلال سرمایہ کاری کے نام پر منظم طریقے سے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔ 2006 میں ایک وقت کے چھوٹے تاجر محمد منصور خان نے آئی ایم اے کمپنی قائم کی۔ مارکیٹ سے کہیں زیادہ منافع دینے کی لالچ بتا کر غریب اور متوسط عوام سے سرمایہ حاصل کرنا شروع کیا۔ سال 2015 تک کمپنی نے 12 ہزار سے زائد سرمایہ کاروں سے رقم حاصل کی اور ماہانہ منافع کی ادائیگی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ 2019 میں کمپنی کے بند ہونے تک 80 ہزار افراد نے یہاں اپنی محنت مزدوری کا پیسہ لگایا۔ بنگلورو میں سونے کے دو بڑے شو روم، اسپتال، اسکول، کئی میڈیکل اسٹورس، پبلیکیشن سینٹر، سپر مارکیٹ، رئیل اسٹیٹ اس طرح کئی شعبوں میں قدم رکھتے ہوئے اس کمپنی نے اپنا دائرہ کار  وسیع کیا اور عوام سے خوب سرمایہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×