احوال وطن

گجرات: بیف منتقل کرنے کے الزام میں 35؍سالہ قاسم عبدالله حیات کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا

گاندھی نگر: 22؍ستمبر (عصرحاضر) گجرات پولیس نے ایک مسلم شخص کو اپنے ساتھ بیف رکھنے اور اُسے منتقل کرنے کی کوشش پر ہلاک کردیا۔ یہ واقعہ گودھرا میں پیش آیا جہاں 35 سالہ قاسم عبداللہ حیات نے جان گنوائی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اُس نے ایک مخبر کی اطلاع پر قاسم کو گرفتار کیا تھا۔ مخبر نے پولیس آفیسر ایچ این پٹیل کو بتایا تھا کہ قاسم بیف لیجایا کرتا ہے۔ کانسٹبل سدھ راج گجیندر، سب انسپکٹر این آر راتھوڑ پر مشتمل پولیس ٹیم فوری مقام پر پہونچی اور قاسم کو روک کر اُسے حراست میں لے لیا۔ قاسم کو گودھرا کے بی ڈیویژن پولیس اسٹیشن لیجایا گیا جہاں کے انچارج ایچ این پٹیل کے تعلق سے مشہور ہے کہ وہ اسلاموفوبیا کا شکار ہے۔ قاسم کی بہن بلقیس اور بہنوئی کو گرفتاری چھ سات گھنٹے بعد قاسم سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔ اُنھیں قاسم نے بتایا کہ گرفتاری سے قبل اُسے ہندوتوا غنڈوں کی ’رکھشک کورٹ‘ کے روبرو پیش کیا گیا اور وہاں اُس کی بے تحاشہ پٹائی کی گئی۔ ہندوتوا دو غنڈوں پرگنیش سونی اور پراتیک کھراڈی خاص طور پر زدوکوبی میں ملوث ہوئے۔ قاسم کے دوست ساحل نے اُسی روز شام میں قاسم سے ملاقات کی کوشش کی۔ تب قاسم نے اُسے اپنی پٹائی کے بارے میں بتایا۔ اگلے روز ایک پولیس کانسٹبل سلیم نے قاسم کے بڑے بھائی بلال کے گھر پہونچ کر اطلاع دی کہ قاسم نے خودکشی کرلی ہے۔ تب سے قاسم کے ارکان خاندان، رشتہ دار اور دوست احباب پوری سرگرمی سے معاملے کو اعلیٰ حکام سے رجوع کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ قاسم کی پولیس تحویل میں جان لی گئی۔ پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ 13اور 16 سالہ بیٹے ہیں۔ کورونا وباء میں ملک بھر میں لوگ روزگار سے محروم ہیں، قاسم کا بھی روزگار ختم ہوگیا تھا اور پکوڑے بیچ کر گزارا کررہا تھا۔14ستمبر 2021 ء کو وہ سیوالیہ سے اپنی موٹر سائیکل پر گودھرا واپس ہورہا تھا کہ احمدآباد روڈ پر بھامیا چوکڑی پر اُسے روک کر پولیس نے بیف ساتھ رکھنے کے الزام میں گرفتار کرکے پولیس اسٹیشن منتقل کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×