ریاست و ملک

شہریت قانون کے خلاف پورے ملک میں دھرنوں کا سلسلہ جاری‘ کرناٹک میں دفعہ 144 کے باوجود بھی زبردست احتجاج

نئی دہلی؍حیدرآباد؍ چنئی؍ لکھنو۔ 23؍اکتوبر: (بی این ایس) شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دارالحکومت دہلی، کولکاتہ، ممبئی، چنئی، حیدرآباد، بھاگلپور ، بنگلور اور نظام آباد سمیت ملک بھر میں احتجاج بدستور جاری ہے، کہیں سے کوئی ناخوشگوار اطلاعات نہیں موصول ہوئی ، البتہ اترپردیش میں جمعہ کوہوئے تشدد کے خلاف کانپور، رام پور، سنبھل، میرٹھ، شاملی، نجیب آباد، غازی آباد، لکھنو وغیرہ میں پولس کا کریک ڈاؤن جاری ہے اور اب تک ہزاروں گرفتاریاں ہوچکی ہیں۔ حیدرآباد کی مشہور یونیورسٹی عثمانیہ یونیورسٹی میں بھی شام کو زبردست احتجاجی مظاہرہ کیاگیا جس میں شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کی مخالفت میں ہزاروں ہندو مسلم مظاہرین نے شرکت کی اس مظاہرے میں خصوصی طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کی دونوں شیرنیاں لدیدہ اور عائشہ بھی موجود تھیں۔ اس کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے ضلع نظام آباد میں کامیاب بند منایا گیا اور زبردست ریالی نکالی گئی۔ چنئی میں ڈی ایم کے اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے بھی قانون کے خلاف زبردست ریلی نکالی گئی جس میں پی چدمبرم، ایم کے اسٹالن سمیت کئی اہم لیڈران موجود تھے۔ آج دہلی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف کانگریس نے بابائے قوم مہاتما گاندھ کی سمادھی راج گھاٹ پر ’ستیہ گرہ‘ کیا جس میں پارٹی صدر سونیا گاندھی، سابق پارٹی صدر راہل گاندھی، سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور پارٹی کے کئی سینئر لیڈران موجود تھے۔ستیہ گرہ کے دوران راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد، لوک سبھا میں پارٹی کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری اور مشرقی اترپردیش کی انچارج جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی وڈرا، سکریٹری جنرل کے سی وینوگوپال، راجستھان کے وزیراعلی اشوک گہلوت، مدھیہ پردیش کے وزیراعلی کمل ناتھ، سابق لوک سبھا اسپیکرمیرا کمار، سینئر پارٹی لیڈر احمد پٹیل، آنند شرما سمیت کئی مشہور شخصیات موجود تھیں۔ستیہ گرہ تقریبا تین بجے شروع ہوا، اس دوران وہاں بڑی تعداد میں کانگریس کارکنان بھی موجود تھے، جو ہاتھوں میں پارٹی کا جھنڈا لئے ہوئے تھے۔ستیہ گرہ شروع کرنے سےپہلے وندے ماترم گایا گیا۔ پروگرام میں کبیر کے بھجن گائے گئے اور کئی لیڈروں نے آئین کے پریمبل مختلف زبانوں میں پڑھی۔ انہوںنے کہا کہ آئین میں کہا گیا ہے کہ ملک میں کسی بنیاد پر کسی شخص کے ساتھ بھید بھاؤ نہیں کیا جائے گا۔اس سےپہلے مسٹر راہل گاندھی نے ستیہ گرہ کےبارے میں بتاتے ہوئے نوجوانوں اور طالب علموں کو اس میں شامل ہونے کی درخواست کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا اور کہا کہ اس وقت سب کو آگے آکر ملک کو نفرت کے ذریعہ برباد ہونے سے بچانا ہےا ور مودی۔شاہ کی جانب سے شروع کی گئی نفرت اور تشدد کے خلاف متحد ہوکر مظاہرہ کرنا ہے۔ستیہ گرہ سے پہلے محترمہ وڈرا نے بھی ٹوئٹ کرکے لوگوںسے راج گھاٹ آنے کی اپیل کی اور کہا کہ ’’یہ ملک ایک مشترکہ رشتہ ہے، مشترکہ خواب ہے۔اس مٹی کو ہم نے محنتوں کے رنگ سے سینچا ہے۔ آئین ہماری طاقت ہے۔ ملک کو پھوٹ ڈالو اور راج کرو کی سیاست سے بچانا ہے۔ آیئے آج دوپہر تین بجے سے باپو کی سمادھی راج گھاٹ پر میرے ساتھ آئین کے پاٹھ کا حصہ بنئے۔‘‘وہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آج احتجاج کا ۱۱؍واں دن تھا۔ کیمپس سے موصولہ خبروں کے مطابق دہلی پولس اور حکومت کی تانا شاہ رویے کے باوجود طلبا کا جوش برقرار ہے، تحریک کو تعاون دینے کےلیے دہلی سمیت ملک کی دیگر ریاستوں سے طلبا آئے، دہلی کے جامعہ ہمدرد، قرول باغ کے طبیہ کالج کے طالب علموں نے بھی اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ وہیں راشٹر یہ جنتا دل کے ممبر پارلیمنٹ راجیہ سبھا منوج جھا نے عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت تقسیم کرنے والا بل پاس کرکے ملک کو بانٹنا چاہتی ہے، انہو ںنے جامعہ میںپڑھنے کے دوران اپنے زمانہ طالب علمی کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ یہ میرا دیار شوق ہے، جس نے چمن کو کھلایا ہے، یہاں سے جو آواز اُٹھتی ہے اس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دیتی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طلبہ یونین صدر مشکور احمد عثمانی نے جامعہ او راے ایم یو کے طالب علموں پر کی گئی بربریت کو غیر انسانی قرار دیا ۔اس موقع پر جے این یو طلبہ یونین کی کونسلر آفرین فاطمہ نے کہاکہ حکومت اپنے ہندو تو ایجنڈے کے تحت مسلم مخالف قانون بنارہی ہے اس کے خلاف مسلم قوم ملک بھر میں اپنے نعروں کے ساتھ اپنے انداز میں تحریک چلائے گی۔ یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ کے کنوینر ندیم خان نے اس قانون کو تباہ کن قرار دیا، آج کے احتجاج میں گنگا جمنی تہذیب کو زندہ کرتے ہوئے تمام مذاہب کی عبادت کا بھی اہتمام کیاگیا جس میں روپل پربھاکر نے بھجن گاگر ایشور، اللہ، جیسس، کے گن گائے۔اس موقع پر طلبا نے واضح کیا کہ جامعہ کے طلبا کی لڑائی مسلم مخالف حکومت کے ساتھ ساتھ ملک اور آئین بچانے کی لڑائی ہے ۔ ملک میں مظاہرین کے ساتھ ہورہی زیادتی کی مذمت کی گئی ، اور پیغام دیاگیا کہ ہماری لڑائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انصاف نہیں مل جاتا ، جب تک یہ مسلم مخالف ، غیر آئینی اور سیکولرازم کو توڑنے والا قانون واپس نہیں لیاجاتا تب تک ہم احتجاج کرتے رہیں گے۔ چنئی میں ڈی ایم کے اور اس کے اتحادیوں نے سوموار کو بڑے پیمانے پر ریلی نکالی اور اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا، ڈی ایم کے اور اس کی معاون پارٹیوں نے انتباہ دیا کہ اگر اس قانون کو واپس نہیں لیاگیا تو سماج کے غیر سیاسی طبقوں کو ساتھ لے کر تحریک تیز کردی جائے گی۔ ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن نے پرامن ریلی کی قیادت کی، وہیں پی چدمبرم، سمیت دیگر لیڈروں نے ہاتھوں میں تختیاں لے کر ساتھ ساتھ چل رہے تھے، ڈی ایم کے اور دیگر معاون پارٹیوں کے کارکنان سخت سیکوریٹی کے درمیان ہاتھوں میں پارٹی جھنڈا اور تختیاں لیے ہوئے ایگمور سے راجرتنم اسٹیڈم تک مارچ کیا۔ اس موقع پر اسٹالن نے کہاکہ یہ مخالفت آندولن کے ساتھ رکے گی نہیں بلکہ معاون پارٹیوں سے گفتگو کے بعد اسے مزید آگے لے جایاجائے گا، اور مرکز اس قانون کو واپس نہیں لیتا ہے تو تحریک میں غیر سیاسی طبقوں کو بھی شامل کیاجائے گا۔ انہو ںنے کہاکہ قانون مسلم مخالف اور شری لنکا کے تملوں کے خلاف ہے۔ ادھر بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں جمعہ کو ہوئے احتجاج میں تشدد، توڑپھوڑ، آتشزنی کے الزام میںاب تک سینکڑوں افراد کو گرفتار کیاجاچکا ہے۔ اترپردیش میں گرفتاری کا گراف زیادہ ہے یونائٹیڈ اگینسٹ تنظیم کی اطلاعات کے مطابق پوری ریاست میں تقریباً ۶۰ ہزار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔عوام کی طرف سے الزام لگایاجارہا ہے کہ آٹھ دنوں تک نیٹ بندی کرکے بے قصور مسلمانوں کو زبردستی توڑپھوڑ، آتشزنی اور فساد پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیاجارہا ہے، یہ بھی الزام ہے کہ پولس گھروں میں گھس کر کریک ڈائون کررہی ہے۔ آج نیٹ چالو ہونے کی وجہ سے کئی ویڈیو اور تصاویر وائرل ہورہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولس کس طرح سے گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ اور گرفتار کررہی ہے۔ مظفر نگر، میرٹھ، شاملی، علی گڑھ، کانپور، رامپور ، سنبھل ، لکھنو کے برے حالات ہیں۔ عوام خوف میں زندگی بسر کررہے ہیں ہر وقت سروں پر گرفتاری کی تلوار لٹک رہی ہے۔ وہیں آج دہلی پولیس نے ان طلبہ کو گرفتار کرلیا جویوپی میں سی اے اے کیخلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر کریک ڈاؤن کے خلاف دہلی کے یوپی بھون کے باہراحتجاج کرنے جمع ہوئے تھے۔پولیس نے یوپی بھون کے باہرچانکیہ پوری،جنوبی دہلی کے علاقے میں دفعہ144نافذکردیاتھامگر اس کے باوجود طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد یوپی بھون کے پاس جمع ہوئی اور یوپی حکومت کی زیادتی کے خلاف احتجاج کیا،انھیں دہلی پولیس گرفتار کرکے مندر مارگ پولیس سٹیشن لے گئی ہے۔گرفتار کیے گئے طلبہ کا الزام تھاکہ دہلی پولیس جو خود احتجاج کرنے والے طلبہ پر ظلم کرچکی ہے وہ یوپی میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی پولیس زیادتی کی رپورٹس کو بلیک آؤٹ کرنا چاہتی ہے۔قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کے زیر اقتدار یوپی میں سی اے اے کے خلاف احتجاج کے دوران اب تک بیس سے زائد لوگ پولیس کی فائرنگ میں جاں بحق ہوچکے ہیں،جن میں آٹھ سالہ بچہ بھی شامل ہے۔جبکہ آٹھ سو سے زائد افراد یوپی پولیس کے ذریعے گرفتار کیے جاچکے ہیں، گراؤنڈ رپورٹس کے مطابق یوپی پولیس مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر لوگوں کو گرفتار کررہی ہے۔مغربی یوپی کے علاوہ لکھنؤ، گورکھپور، بہرائچ وغیرہ میں احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا، جس میں پولیس نے عام احتجاجیوں پر لاٹھی چارج کرنے کے علاوہ کئی مقامات پر گولیاں بھی چلائی ہیں جن میں لوگوں کے مرنے کی خبریں آرہی ہیں۔لکھنؤ میں پولیس کے ذریعے بہت سے مسلمانوں کی جائدادیں سیل کی جارہی ہیں، کہا جارہا ہے کہ انھیں بیچ کر احتجاج کے دوران عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصان کی بھرپائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے واضح طورپر یہ کہاتھاکہ احتجاج کرنے والوں کی پراپرٹی کو نیلام کرکے عوامی املاک کے نقصان کی بھرپائی کی جائے گی۔اتر پردیش میں نظر ثانی شہریت قانون کی مخالفت میں ہوئے مظاہروں کے دوران ہوئی پولیس کی ظالمانہ کارروائی کی مخالفت میں یہاں واقع اتر پردیش بھون کے باہر پیر کو احتجاجی مظاہرہ کر رہے کچھ طالب علموں کو حراست میں لیا گیاہے ۔مظاہرہ کر رہے طالب علم اس معاملے پر اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے ۔پولیس نے واقعہ کی معلومات نہیں دی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
×